جہلم میں جعل سازی سے موبائل سم ایکٹیویٹ کئے جانے کا انکشاف

0

جہلم: جہلم میں جعل سازی سے موبائل سم ایکٹیویٹ کرنے کا انکشاف، کسٹمر کو فری سم دے کر شناختی کارڈ کی کاپی لے کر انگوٹھا لگوا کر جب ان سے 50 یا 100 روپے مانگے جاتے ہیں تو گاہک سم واپس کر دیتا ہے، یہی ایکٹویٹ سم نوسرباز بھاری روپے کے عوض خرید لیتے ہیں، سول اسپتال، شاندار چوک، جادہ چوک، بس سٹینڈ پر یہ گھناؤنا کام جاری ہے۔

تفصیلات کے مطابق کے مطابق غیر قانونی موبائل سم فروخت کرنے والے جہلم کے مختلف علاقوں میں جعل سازی کرتے نظر آرہے ہیں۔ قانون نے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں۔

موبائل سم فروخت کرنے والے گاہک کو فری سم کا جھانسہ دے کر ان سے شناختی کارڈ کی کاپی اور بائیو میٹرک (آنگھوٹا لگوا کر) سم کسٹمر کو دیتے وقت 100 یا 50 روپے کی ڈیمانڈ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اپ کی سم میں 50 یا 100 کا بیلنس موجود ہے تو گاہک اسے سم اس لیے واپس کر دیتا ہے کہ میرے سے دھوکہ کر کے مجھ سے پیسے بٹور رہے۔

اسی دوران موبائل سم ایکٹیویٹ ہو جاتی ہے جسے نوسرباز ان سمز کو بھاری رقم کے عوض خرید لیتے ہیں جس سے موجودہ دور میں ان سم کے ذریعے نوسربازی کا دھندہ کیا جا رہا ہے۔اور سادہ لوح لوگوں کو اسی سم کے ذریعے کال کر کے انکے بینک اکاؤنٹ اور انعامی بانڈ سمیت مختلف حربوں کے ذریعے رقم بٹور لیتے ہیں۔

شہریوں نے متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ سڑکوں پر کیبن لگا کر سم فروخت کرنے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.