جہلم

جہلم میں والد کے سامنے اغوا کی گئی میٹرک کی طالبہ خود سامنے آ گئی

جہلم میں دن دہاڑے مبینہ طور پر اغواء کی گئی لڑکی سامنے آگئی۔ جہلم کے علاقے مشین محلہ نمبر 2 میں ویڈیو مناظر میں دیکھا گیاکہ ایک شخص ڈبل کیبن گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ کے دروازے پر چھینا جھپٹی کررہا ہے اور اچانک گاڑی آگے بڑھ جاتی ہے اور وہ شخص گاڑی کے نیچے آتے آتے بچ جاتا ہے۔

واقعہ کے بعد لڑکی کے والد نے سٹی تھانے میں درخواست دی کہ اس کی بیٹی کو اغواء کرلیا گیا، پولیس نے گاڑی کی تلاش کیلئے ناکہ بندی کردی تاہم تھوڑی دیر بعد معلوم ہوا کہ لڑکی اپنے گھر پہنچ چکی ہے۔


پولیس کے مطابق لڑکی کی والدہ نے درخواست دی کہ وہ ڈبل کیبن گاڑی میں بیٹی کے ساتھ تھی اور بیٹی کی طبیعت خراب ہونے پر محلے دار بلال مظفر سے لفٹ لی تھی جبکہ شوہر کو شک ہوا کہ بیٹی کو اغواء کیا جارہا ہے اور گھبراہٹ میں بلال مظفر نے گاڑی آگے بڑھادی۔

پولیس نے لڑکی کی والدہ کی درخواست کے بعد بے بسی کا اظہار کیا اور کہا کہ جب والدین نے درخواست ہی واپس لے لی ہے تو کسی کے خلاف کارروائی کا کوئی جواز ہی نہیں بنتا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرین نے قانونی کارروائی نہ کرنے کے لیے تھانے میں حلف نامہ جمع کروا دیا ہے۔حلف نامہ میں لکھا گیا ہے کہ مجھے اغوا نہیں کیا گیا۔سکول سے باہر نکلی تو طبیعت خراب ہو گئی تھی۔ گاڑی میں بیٹھ کر گھر آ گئی ہوں مجھے کسی نے اغوا نہیں کیا۔لڑکی نے کسی بھی قسم کی کارروائی سے انکار کر دیا ہے۔تاہم یہاں پر کئی سوالات بھی کھڑے ہو گئے ہیں۔

پولیس نے معاملے پر آسان راستہ ڈھونڈ لیا ہے کہ مدعی نہیں چاہتا تو کارروائی کس کے خلاف کریں۔لیکن اس سوال کا جواب ڈھونڈنا بھی ضروری ہے کہ کہیں ملزمان بااثر تو نہیں۔کہیں جان بچائے رکھنے کے لیے تو لڑکی نے ملزمان کے خلاف کارروائی سے گریز نہیں کیا۔

پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ حقائق معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button