صحت اور صفائی کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے صفائی میں سب سے بڑی رکاوٹ پلاسٹک کے شاپر بیگ

0

جہلم: اندرون شہر میں صحت اور صفائی کے نظام کو بہتر بنانے کے لئے صفائی میں سب سے بڑی رکاوٹ پلاسٹک کے شاپر بیگ ہیں جن کیوجہ سے صفائی کا نظام اور نالیاں بند ہونے کیوجہ سے صفائی کا نظام بری طرح متاثر ہو رہا ہے کیونکہ بازاروں ، گلیوں میں جگہ جگہ پلاسٹک کے شاپر بیگ اڑتے نظر آتے ہیں اور شاپر بیگ سیوریج کی نالیوں میں جمع ہو کر نالیاں بند کردیتے ہیں جس کیوجہ سے گندا پانی سڑکوں ، گلیوں کی نالیوں سے باہر آجاتا ہے۔

سابقہ ادوار میں شاپر بیگ بند کرنے کا پلان بھی تیارکیا گیا تھا اور پلاسٹک شاپر بنانے والی فیکٹریوں کو حکومت کی جانب سے خبردار کیا گیا تھا ، مگر ابھی تک عملدرآمد نہیں ہو سکا، حالانکہ شاپر بیگ میں اشیا ء خوردونوش بھی فروخت کی جا رہی ہیں جو کہ فیشن بن چکا ہے ، وفاقی و پنجاب حکومت کو چاہیے کہ وہ شاپر بیگ تیار کرنے اور فروخت کرنے پر پابندی عائد کرے تاکہ شہروں میں صفائی کانظام درست ہو سکے پلاسٹک کے شاپر بیگوں کی وجہ سے پورا ماحول آلودہ ہو چکا ہے۔

ستم ظریفی یہ کہ عملہ صفائی صبح سویرے صفائی کر کے جگہ جگہ سے شاپر بیگ اکٹھے کر کے انکو اٹھانے کی بجائے انہیں گلیوں بازاروں کے عین وسط میں رکھ کر آگ لگا دی جاتی جس کیوجہ سے پورے علاقوں میں آلودگی اور دھواں اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے ۔جس کی وجہ سے سے گلیوں اور بازاروں میں بیٹھنا تو درکنار گزرنا تک محال ہو جاتا ہے اور اس تعفن کیوجہ سے سانس کی بیماریاں عام ہو رہی ہیں۔

حکومت صحت اور صفائی کے نظام کو شہروں میں بہتر کرنے کے لئے شاپر بیگ پر مستقل پابندی عائد کر کے فیکٹریوں کو بند کرنے کے سخت احکامات جاری کریں جبکہ دکاندار دودھ ، دہی ، پکی ہوئی سبزیاں ، گوشت اور دیگر لیکویڈ اشیاء شاپر بیگ میں دینے کی بجائے متبادل اشیاء کا استعمال کریں ۔اور ہر گاہک اپنے ساتھ ایک عدد تھیلا و ڈبہ خریداری کے وقت ساتھ لیکر جائے۔تاکہ ماحول آلودہ ہونے سے بچانے کے ساتھ ساتھ شہری بیماریوں سے بھی محفوظ رہ سکیں ۔

شہریوںنے ڈپٹی کمشنر جہلم سے مطالبہ کیاہے کہ جہلم شہر اور گردونواح میں شاپر بیگ پر پابندی عائد کی جائے تاکہ نالیاں اور نالے بند ہونے سے جو گندا پانی سڑکوں پر جمع ہوتا ہے وہ روانی کے ساتھ گٹروں میں جا سکے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.