جہلم

جہلم میں ٹریفک پولیس دفتر کے اندر ٹاؤٹوں کا راج، ہر کام کی فیس مقرر

جہلم: ٹریفک دفتر کے اندر ٹاوٹوں کا راج، ہر کام کی فیس مقرر، فیس کے چکر میں اہلکار خود ایجنٹوں کے ڈیرے پر پہنچنے لگے، ڈی ایس پی چوہدری ارشد اپنے دفتر سے سب اچھا کی رپورٹ دینے لگا،ہوٹل میں قائم ٹریفک دفتر تین دن بعد دوبارہ کھل گیا،شہریوں کا نئے ڈی پی او سے فوری نوٹس کا مطالبہ ۔

تفصیلات کے مطابق ٹریفک دفتر میں ڈی ایس پی ٹریفک کی ناک تلے ایجنٹوں اور ٹاوٹ نے لوٹ مار مچا دی ہے اور دفتر کے ہر کام کیلئے دفتر کے ارد گرد سینکڑوں ایجنٹ اور ٹاوٹ موجود ہیں جنہوں نے ہر کام کے ریٹ مقرر رکھے ہیں لائسنس فائل کے دو ہزار، لائسنس بنوانے کے دس سے پچیس ہزاراور دیگر کاموں کی الگ فیس مقرر ہیں۔

ٹریفک دفتر کے ساتھ ہی ہوٹل میں موجود ٹریفک دفتر کی برانچ دوبارہ کام کرنے لگی ہے اور تین دن کے وقفے کے ددوران ڈی ا یس پی چوہدری ارشد کی سب اچھا کی رپورٹیں اور ٹاوٹ مافیا کی جانب سے ڈی ایس پی کے مکمل تحفظ کے بعد دوبارہ کاروائیاں شرو ع ہو گئیں ہیں ٹریفک دفتر کے باہر تقریبا تیس کے قریب ٹاوٹ اور ایجنٹ موجود ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ ڈی ایس پی کہتے ہیں کہ دفتر کے اندر ٹاوٹوں کا داخلہ منع ہے لیکن ڈی ایس پی کا عملہ خود ٹاوٹوں کے پاس پہنچ جاتا ہے پیسے کی چمک اور نوٹوں کی خوشبو سونگھتے ہی دفتر کے اندر تعینات عرصہ دراز سے مستقل تعینات اہلکار فوری طور پر ٹاوٹوں کے ڈیروں پر جا کر خود فائلیں وصول کرتے نظرآتے ہیں۔

شہریوں نے نئے تعینات ہونے والے ڈی پی او شاکر حسین سے مطالبہ کیا ہے کہ نوٹوں کے بدلے لائسنس باٹننے والے اہلکاروں ، ایجنٹوں اور غفلت ولاپرواہی کرنے والے ڈی ایس پی ٹریفک کی جانب سے سب اچھا کی جعلی رپورٹوں کا فوری نوٹس لیا جائے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ ڈی پی او جہلم کیلئے محکمہ کے اندر جاری کرپشن ختم کرنے کیلئے ٹریفک دفتر میں جاری لوٹ مار کو پکڑنا انتہائی اہم ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close