پنڈدادنخان

تحصیل پنڈدادنخان میں ریسکیو 1122 کے مزید دو پوائنٹ ناگزیر ہیں۔ عابد اشرف، راجہ افتخار شہزاد

تحصیل پنڈدادنخان میں ریسکیو1122 کے مزید دو پوائنٹ ناگزیر ہیں جن کا بہترین مقام تحصیل کے حدوداربعہ کے حساب سے پنڈی سید پور اور ٹوبھہ ہے۔

ان خیالات کا اظہار سابق تحصیل ناظمین چوہدری عابد اشرف جوتانہ اور راجہ افتخار شہزاد نے اپنے مشترکہ بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری تحصیل جس کی آبادی پانچ لاکھ پر مشتمل اور علاقے کی لمبائی تقریبا 100کلومیٹر پر محیط ہے اور علاقہ صنعتی اور معدنیاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریسکیو 1122 کا آفس پنڈدادنخان میں ہے جو کہ تحصیل کے مغربی آخری علاقوں سے تقریبا پچاس کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے کسی بھی ایمرجنسی کال کی صورت میں ریسکیو ٹیم کو 50 کلو میٹر کا سفر کرکے مریض یا ایمرجنسی کو ڈیل کرنا پڑتا ہے اور واپسی پر مریض کو پنڈدانخان ٹی ایچ کیو پہنچانے میں مزید پچاس کلو میٹر کا سفر کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر تحصیل کی مشرقی سائیڈ کو دیکھا جائے تو ریسکیو 1122 کی حدود مصری موڑ تک ہے اور اس کا فاصلہ بھی تحصیل ہیڈ کوارٹر سے تقریبا 50 کلو میٹر ہی بنتا ہے، پچاس کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے کسی کو ریسکیو کرنا نہ صرف ناممکنات میں سے ہے بلکہ وقت کا ضیاع بھی ہے جب تک ریسکیو ٹیم پچاس کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے کی تحصیل کے آخری مقام تک پہنچتی ہے اس وقت تک یا تو مریض جان کی بازی ہار چکا ہوتا ہے یا پھر کسی دوسرے ذرائع سے ہسپتال منتقل ہو چکا ہوتا ہے اور یہی کچھ دوسری ایمرجنسی کے دوران بھی ہوتا ہے

انہوں نے کہا کہ یہ بھلا کیسے ممکن ہے کہ کندوال، بگا سیال یا جلالپور میں کوئی ایمرجنسی یا ایکسیڈنٹ ہو اور وہ پچاس کلومیٹر دور سے آنے والی ریسکیو ٹیم کے انتظار میں بیٹھے رہیں حالات کا تقاضہ ہے کہ تحصیل میں میں پنڈی سید پور اور اور ٹوبھ کے مقام پر دو پوائنٹ ڈبل ون ڈبل ٹو کے قائم کیے جائیں تاکہ پوری تحصیل اس بہترین سروس سے مستفید ہوسکے۔چوہدری پرویز الٰہی کی کاوش سے بننے والی ریسکیو 1122سروس جس طرح پنجاب بھر میں بہترین سہولیات مہیا کر رہی ہے اس کا دائرہ کار ملکی سطح تک بڑھایا جانا چاہیے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close