زچہ بچہ کیلئے دی گئی سرکاری ایمبولینس پرائیویٹ چلنے کے خلاف وزیر صحت نے ایکشن لے لیا

0

کھیوڑہ: زچہ بچہ کے لیے دی گئی سرکاری ایمبولینس پرائیویٹ چلنے کے خلاف وزیر صحت نے ایکشن لے لیا، شہریوں کی نشاندہی کرنے پر کھیوڑہ سول ہسپتال سے ایمبولینس پنڈدادنخان تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال شفٹ کر دی گئی تھی، انکوائری آفیسر ڈاکٹر خالد فاروقی نے کھیوڑہ شہریوں کے بیان ریکارڈ کیے، ڈاکٹر خالد فاروقی نے انکوائری میرٹ پر کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

تفصیلات کے مطابق کھیوڑہ سول ہسپتال میں زچہ بچہ کے لیے سرکاری ایمبولینس دی گئی تھی سرکاری ایمبولینس افسران کی ملی بھگت سے ذاتی کاموں اور سیر سپاٹے کے لیے کافی عرصہ استعمال ہوتی رہی جب شہریوں تحقیقات کی تو پتہ چلا کہ سرکاری ایمبولینس زچہ بچہ کے لیے دی گئی تھی مگر افسوس کہ ملی بھگت سے سرکاری ایمبولینس ڈرائیونگ ٹریننگ مختلف نوجوانوں کے سیرو تفریح کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

افسران بالا کو شہریوں کی طرف سے احتجاج ریکارڈ کرانے پر چند دن ایمبولینس سول ہسپتال کھیوڑہ رہی اور پھر تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال شفٹ کر دی گئی سرکاری ایمبولینس ناجائز استعمال کرنے پر شہریوں نے ڈاکٹر علی ڈی ڈی اوایچ پنڈدادنخان کو شکایات کی مگر ڈی ڈی او ایچ نے کوئی ایکشن نہیں لیا۔

محکمہ صحت کی طرف سے انکوائری کرنے والے انکوائری آفیسر ڈاکٹر خالد فاروقی کو کھیوڑہ کے شہری ملک عظیم سرور ملک عبید انوار راجہ غلام صفدر ملک غلام شبیر سابق کونسلر ملک فیصل سابق کونسلر و دیگر شہریوں نے بیان ریکارڈ کروایا اور اعلی احکام سے اپیل کی کہ زچہ بچہ کے لیے دی گئی ایمبولینس سول ہسپتال کھیوڑہ کے انچارج کے زیر نگرانی دی جائے تاکہ کھیوڑہ کے شہری اس ایمبولینس کی سہولت سے مستفید ہوں۔

نوجوانوںنے کہا کہ کھیوڑہ کے شہریوں کو زچہ بچہ کے لیے دی گئی ایمبولینس واپس لانے کے لیے ہر فورم پر حق کی آواز بلند کرتے رہے گئے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.