جہلم

جہلم کے مسائل جوں کے توں، ممبران اسمبلی نے شہریوں کے مسائل سے لاتعلقی اختیار کر لی

جہلم: ضلعی ہیڈ کوارٹر کے مسائل جوں کے توں منتخب ممبران قومی و صوبائی اسمبلی نے شہریوں کے مسائل سے لاتعلقی اختیار کر لی، جہلم کے نام سے منسوب دہائیوں قبل آبادہونیوالا شہر آج بھی دور افتادہ اور پسماندہ قصبے کا منظر پیش کر رہا ہے۔

شہر کی اندرونی سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور سڑکوں میں بننے والے گڑھوں کے باعث شہریوں کی قیمتی گاڑیاں کھٹارہ بن رہی ہیں جبکہ پیدل اور موٹر سائیکل سواروں کو آمدورفت میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

ترقیاتی منصوبوں میں استعمال ہونے والے ناقص میٹریل کی نشاندہی کے باوجود متعلقہ محکموں کے افسران کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی جبکہ ڈپٹی کمشنر بھی ان بااثر افراد کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں ،ٹھیکیدار اپنے بل وصول کرنے کیلئے راتوں رات عجلت میں ترقیاتی منصوبے مکمل کرکے لاکھوں کروڑوں روپے کے بل وصول کرلیتے ہیں۔

سروے کے مطابق کمیلا روڈ، ، اولڈ جی ٹی روڈ ، مشین محلہ روڈ، میجر اکرم شہید روڈ ، چونترہ ، کھرالہ ، پولیس لائن، سگریٹ فیکٹری روڈ ، بلال ٹاؤن روڈ سمیت ملحقہ آبادیوں میں جانے والی سڑکیں جو کہ عرصہ دراز سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں ،مذکورہ سڑکیں شہر کے مضافاتی علاقوں کو آپس میں ملانے کے لئے بہت اہم تصورکی جاتیں ہیں لیکن منتخب ممبران قومی و صوبائی اسمبلی کی عدم دلچسپی کی وجہ سے شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات درپیش ہیں۔

شہریوں نے متعدد مرتبہ ارباب اختیار کومذکورہ سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ بارے زبانی و تحریری طور پر آگاہ کیا لیکن اس گھمبیر مسئلے کو کوئی بھی ممبر قومی و صوبائی اسمبلی سمیت چیئرمین ضلع کونسل چیئرمین میونسپل کارپوریشن حل کرنے میں بری طرح ناکام دکھائی دئیے۔

شہریوں کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اندرون شہر کی جو سڑکیں تعمیر کی گئیں بااثر ٹھیکیداروں نے سیاسی آشیر باد کیوجہ سے ناقص و غیر معیاری میٹریل کا استعمال کیاجس کیوجہ سے تعمیر ہونے والی سڑکیں جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکیں ہیں متعلقہ اداروں کے ذمہ داران ٹھیکیداروں کے خلاف کارروائی کرنے کی بجائے سڑکوں کو پیوند لگا کر ڈنگ ٹپاؤ پالیسی پر گامزن ہیں۔

شہریوں نے چیئرمین نیب ، ڈی جی اینٹی کرپشن سے مطالبہ کیاہے کہ کروڑوں روپے کی لاگت سے شہر میں ناقص وغیر معیاری میٹریل سے تیار ہونے والی سڑکوں کی انکوائری کروائی جائے متعلقہ اداروں کے ذمہ داران و ٹھیکیداران سے وصول کی گئی قومی دولت واپس ملکی خزانے میں جمع کروائی جائے اور ٹھیکیداروں کو بلیک لسٹ کرکے جرمانے عائد کئے جائیں تاکہ آئندہ کوئی ٹھیکیدار ملکی خزانے کے ساتھ کھلواڑہ نہ کر سکیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button