جہلم میں پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں خود ساختہ اضافہ کر دیا گیا

1

جہلم: ڈسٹرکٹ ٹرانسپورٹ اتھارٹی اورٹریفک پولیس جہلم کی مبینہ ملی بھگت سے پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں خود ساختہ اضافہ کر دیا، جہلم جنرل بس اسٹینڈ سے دیگر شہروں کو جانے والی پبلک سروس گاڑیوں نے 15 فیصد سے زائد کرایوں میں اضافہ کر دیا۔ مسافر سراپا احتجاج، ڈپٹی کمشنر جہلم سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔

تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ ٹرانسپورٹ اتھارٹی اور ٹریفک پولیس کی عدم دلچسپی کے باعث جنرل بس اسٹینڈ جہلم، دینہ، سے دیگر شہروں میں چلنے والے ٹرانسپورٹ جن میں بسیں، ویگنیں، ہائی ایسز شامل ہیں کے مالکان نے از خود کرایوں میں اضافہ کر لیا ہے۔قابل زکر امر یہ ہے کہ ٹرانسپورٹروں نے چھوٹی بڑی گاڑیوں میں سرکاری کرایہ نامہ آویزاں کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔

اس ضمن میں مسافروں نے بتایاکہ جہلم تا راولپنڈی کے کرائے اور راولپنڈی سے جہلم کے کرائے میں نمایا ں فرق ہے بااثر ٹرانسپورٹرز نے 15 فیصد سے زائد کرایوں میں از خود اضافہ کرکے مسافروں کو لوٹنا شروع کر رکھا ہے۔

ڈسٹرکٹ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے ذمہ داران اور ٹریفک پولیس کے افسران و اہلکاروں نے مسافر گاڑیوں میں سوار مسافروں سے کرائے کی بابت کبھی دریافت نہیں کیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران نے ٹرانسپورٹروں کے ساتھ گٹھ جوڑ کر رکھا ہے جس کی وجہ سے ٹرانسپورٹرز مسافروں سے اضافی کرایہ وصول کرکے تجوریاں بھر رہے ہیں، جبکہ 15 سیٹر پاس گاڑی میں 22 مسافروں کو بھیڑ بکریوں کی طرح ٹھونس دیا جاتا ہے۔

خواتین کی سیٹ کے سامنے پھٹہ لگا کر 4 مسافروں کو آمنے سامنے بٹھا دیا جاتا ہے۔ اگر کوئی مسافر اضافی کرائے بابت احتجاج کرے تو اسے سواریوں کے سامنے بے عزت کرنے کے ساتھ ساتھ ویران جگہ پر گاڑی سے اتار دیا جاتا ہے تاکہ کوئی اور مسافر اس کی ہمدردی نہ کرے۔

مسافروں نے ڈپٹی کمشنر جہلم سے مطالبہ کیا ہے کہ جنرل بس اسٹینڈ جہلم سے چلنے والی گاڑیوں کے پنجاب روڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے مقرر کردہ کرایوں پر عملدرآمد کروایا جائے اضافی کرایہ وصول کرنے والے ٹرانسپورٹرز کیخلاف فوجداری مقدمات درج کروائے جائیں تاکہ غریب سفید پوش طبقہ سے تعلق رکھنے والے محنت کش افراد ٹرانسپورٹرز کی لوٹ مار سے بچ سکیں۔

  1. چاند کہتے ہیں

    پٹرول کی قیمیتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیٰں اور مہنگائی کی وجہ سے باقی اشیاء خریدنا بہت مشکل ہے لہذا ٹرانسپورٹر برادری کی مجبوری کو من مانی نہ سمجھا جائے-

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.