ضلع جہلم میں روہتاس یونیورسٹی کے نام سے ایک یونیورسٹی کے قیام کی منظوری ہو چکی ہے، راجہ یاور کمال

0

ممبر صوبائی اسمبلی حلقہ پی پی 24سوہاوہ وصوبائی پارلیمانی سیکریٹری راجہ یاور کمال نے کہا ہے کہ عید الفطر کے بعد اپوزیشن کی مجوزہ تحریک سے حکومت متاثر نہیں ہو گی ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن اس تحریک کو احتساب سے محفوظ رہنے کے لیے ایک ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہے اس لیے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو اس تحریک سے کوئی خطرہ نہیں ہے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پڑی درویزہ کے معروف سماجی کارکن ملک محمد سلیم کے والد گرامی ملک عبدالمجید مرحوم کی فاتحہ خوانی کے بعدپاکستان تحریک انصاف کے سابق امیدوار برائے جنرل کونسلر مرزا نذیر حسین کی رہائش گاہ پر میڈیا کے نمائندگان سے باتیں کرتے ہوئے کیا ۔

انہوں نے کہا کہ جب قائدین جیلوں میں ہوںتو اپوزیشن کی تحریک کیسے کامیاب ہو سکتی ہے ؟ نجی شعبہ میں مجوزہ القادر یونیورسٹی کے سنگ بنیاد کی تقریب کے موقع پر وزیر اعظم پاکستان کی طرف سے تحصیل سوہاوہ کے مسائل سے چشم پوشی کے متعلق سوال کے جواب میں راجہ یاور کمال نے کہا کہ سپاسنامہ میں بکڑالہ ڈیم کی تجویز موجود تھی جو پیش نہ کی جا سکی ۔

انہوں نے موقع پر موجود معززین کو بتایا کہ ضلع جہلم میں صحت کی بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے ایئر ایمبولینس سروس شروع کی جارہی ہے ۔علاوہ ازیں انہوں نے بتایا کہ ضلع جہلم میں ایک میڈیکل کالج منظور ہو چکا ہے جس کا آغازپنجاب یونیورسٹی کیمپس جہلم کی عمارت میں ستمبر2019ء سے متوقع ہے ۔ اسی طرح ایک ٹراما سینٹر قائم کیا جارہا ہے جس میں دل کے امراض کے متعلق سہولیات کو یقینی بنایا جائے گا ۔ ایم پی اے نے بتایا کہ مجوزہ ٹراماسینٹر کے قیام کی زیادہ توقع تحصیل ہیڈ کوارٹر سوہاوہ میں ہے ۔

راجہ یاور کمال نے مزید انکشاف کیا کہ ضلع جہلم میں رہتاس یونیورسٹی کے نام سے ایک یونیورسٹی کے قیام کی منظور ی بھی ہو چکی ہے جس کے لیے اراضی کے انتظامات کیے جارہے ہیں ۔انہوں نے اس خواہش کا اظہار بھی کیا کہ وہ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا ضلع جہلم کا ایک ذاتی دورہ کرانے کی تجویز بھی رکھتے ہیں تا کہ ضلع کی پسماندگی کی واضح پوزیشن وزیر اعلی تک پہنچائی جا سکے ۔

ممبرصوبائی اسمبلی و پارلیمانی سیکریٹری راجہ یاور کمال نے پڑی درویزہ اور معززین علاقہ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ایک بنیادی مرکز صحت کی منظور ی بھی ان کے حصے میں آئی تو وہ کیپٹن عطااللہ سول ڈسپنسری پڑی درویزہ کو بطور بنیادی مرکز صحت قیام کو ہر صورت ترجیح دیں گے ۔

انہوں نے واٹر سپلائی پڑی درویزہ اور ایک راستہ پڑی درویزہ تا ڈھوک جبہ کے بقیہ فنڈز کی وضاحت کے لیے انہوں نے پڑی درویزہ کے معززین کو ہمراہ مقامی صحافی پروفیسر افتخار محمود کے ایک وفد کی شکل میں جہلم طلب کر لیا ۔ جہاں متعلقہ محکموں کے سربراہان سے وضاحت کی تفصیلات حاصل کے آئندہ کا لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا ۔

علاقہ میں موجودہ سڑکوں کی تعمیرکے متعلق انہوں نے کہا کہ اس کا فیصلہ ضلعی بجٹ کی آمد کے بعد کیا جائے گا کیونکہ ایک کلو میٹر سڑک کے لیے ایک کروڑ روپے کا خطیر تخمینہ لگایا جاتا ہے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.