ایک روشن ستارہ جو نہ رہا

تحریر: غضنفر علی اکرام ( ایم اے ، بی ایڈ )

0

یہ ہجرتیں ہیں زمین و زماں سے آگے کی
جو جا چکا ہے اسے لوٹ کر نہیں آنا

دنیا میں کتنے ہی لوگ روزانہ پیدا ہوتے ہیں کتنے ہی دنیا سے چلے جاتے ہیں مگر اکثریت کو دنیا بھولنے میں وقت نہیں لگاتی مگر کچھ لوگ دنیا پر اپنے ہونے کے اتنے انمٹ نقوش چھوڑتے ہیں کہ دنیا سے جانے کے بعد بھی لوگوں کے دلوں پر راج کرتے ہیں چوہدری مشتاق حسین برگٹ ایک ایسی ہی شخصیت تھے جو آج اپنے چاہنے والوں کو اداس چھوڑ کر منوں مٹی تلے جا سوئے۔

چودھری صاحب یوں تو ایک ریٹائرڈ پولیس افسر تھے اور اس شعبے میں بھی صاف ستھری شہرت کے مالک تھے جنہوں نے پولیس ڈیپارٹمنٹ میں کئی نئی جہات متعارف کرائیں مگر سماجی فلاحی کاموں کے شعبے میں انہوں نے گراں قدر خدمات سرانجام دیں آپ نے جہلم طا س کے عالمی شہرت یافتہ صوفی شا عر میاں محمد بخش کے نام سے میاں محمد بخش ٹرسٹ کی بنیاد رکھی اور تعلیم و صحت کے حوالے سے اپنے آبائی گاؤں دھنیالہ کا مقام بلند کر دیا کہ یہاں کے گرلز پرائمری سکول کو پہلے مڈل اور بعد ازاں ہائی سکول کا درجہ دلا کر ان بچیوں کی تعلیم کی راہ ہموار کر دی جو پانچویں جماعت کے بعد گھر بیٹھ رہتی تھیں آج اسی گرلز ہائی سکول میں ارد گرد کے دیہاتوں کی پانچ سو بچیاں تعلیم حاصل کر رہی ہیں ۔

صحت کے حوالے سے انہوں نے میاں محمد بخش ٹرسٹ ہسپتال کی بنیاد رکھی جس کا آغاز ایک چھوٹی سی فری ڈسپنسری سے سولہ سال قبل کیا جو آج پانچ منزلہ اسٹیٹ اف دی آرٹ شاندار ہسپتال ہے جس میں مستحق مریضوں کو ہیلتھ کارڈز جاری کے گئے ہیں اور ان کا مفت علاج کیا جاتا ہے ہسپتال میں اس وقت ماں بچے کی صحت کے حوالے سے ایک سنٹر اف ایکسیلنس قائم کیا گیا جس کی انچارج جہلم کی مایہ ناز گائناکالوجسٹ ڈاکٹر شہزانہ امتیاز ہیں ہسپتال جدید ترین مشینری َاور لیبارٹری سے مزین ہے ہسپتال میں وقتاً فوقتاً مختلف قسم کے میڈیکل کیمپس،آگاہی سیمینار،واکس اور سمپوزیم منعقد کے جاتے ہیں جن کا مقصد بیماری ہونے سے پہلے ہی روکنے کا شعور اجاگر کرنا ہے۔

چوہدری مشتاق حسین برگٹ صاحب کا ایک اور کارنامہ اسی سال سے میاں محمد بخش ٹرسٹ کے تحت بخش سکول آف اپلایڈ ہیلتھ سائنسز کا قیام ہے جس میں علاقے کی بچیوں کو ایکس رے،ریڈیالوجی اور دیگر شعبوں میں ٹیکنالوجسٹس کی تعلیم دی جا رہی ہے جس سے انھیں اپنے ضلع،ملک یا بیرون ملک باعزت روزگار کے مواقع ملیں گے۔

چوہدری مشتاق حسیں برگٹ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے ان کا ویژن بہت اعلی تھا اور 73 سال کی عمر میں بھی وہ بہت متحرک تھے اور روزانہ 18 گھنٹے کام کرتے تھے کچھ ہفتوں سے اکثر کہتے تھے کہ ان کے پاس وقت کم ہے لیکن اس کم وقت میں بھی وہ کام اتنا کر گئے ہیں کہ اپنے بیگانے ان کی خدمات کا اعتراف کرنے پر مجبور ہیں دراصل زندگی میں نام بنانا سب کی آرزو ہوتی ہے لیکن جو دوسروں کی خدمت کر کے نام بناتے ہیں اللہ کریم ان کو دنیا تو دنیا آخرت میں بھی سرفراز کر دیتے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ ہمارے پیارے چوہدری مشتاق برگٹ صاحب دونوں جہانوں میں سرفراز ہیں ۔ خدا تیری لحد پر شبنم افشانی کرے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.