جہلم

سرکاری اداروں کے ملازمین ضروریات زندگی پوری نہ ہونے کی وجہ سے پریشانی کا شکار

جہلم: سرکاری اداروں کے ملازمین ضروریات زندگی پوری نہ ہونے کیوجہ سے پریشانی کا شکار، تنخواہوں میں اضافہ نہ ہونا، ملازمین شدید زہنی تناؤ کا شکار، شہری ، عوامی ، سماجی ، رفاعی ، فلاحی تنظیموں کے عمائدین کا حکومت وقت سے ملازمین کی تنخواہیں بڑھانے کا مطالبہ۔

تفصیلات کے مطابق حالیہ دنوں میں مہنگائی میں اضافے سے سرکاری ملازمین جو کہ پچھلے مہینے جون میں پیش ہونے والے بجٹ میں تنخواہوں کے اضافے کا بے چینی سے انتظار کررہے تھے آئے روز آنے والی خبروں میں تنخواہیں نہ بڑھانے کا سن سن کر سرکاری اداروں کے ملازمین شدید زہنی کرب میں مبتلا ہیں۔

شہر کی سماجی تنظیموں کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ موجودہ حکومت عوام دوستی کے نام پر وجود میں آئی اور ملک سے کرپشن مکاؤ ملک سنوارو کی راہ پر گامزن ہونے کا وعدہ کرکے ووٹ حاصل کئے ، وطن عزیز کے پڑھے لکھے طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد نے پی ٹی آئی کی قیادت کا انتخاب کیا ، لیکن موجودہ حکمران مہنگائی پر کنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام دکھائی دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے آئی ایم ایف سے لئے گئے قرضے اتارنے کا تمام تر نزلہ سرکاری اداروں کے ملازمین کی تنخواہیں نہ بڑھا کر پوری کرنے کا سوچ رہے ہیں جس کی وجہ سے سرکاری اداروں میں کرپشن کم ہونے کی بجائے بڑھے گی اور سرکاری ادارے تباہی کی طرف گامزن ہونگے جس سے ملکی ترقی کا پہیہ زنگ آلودہ ہو کر جام ہو کر رہ جائے گا ۔

انہوں نے کہا کہ ہرمہینے ایک منی بجٹ متعارف کروا دیا جاتا ہے جس کیوجہ سے ملک میں مہنگائی کا طوفان برپا ہو تاچلا جارہاہے ، جبکہ سرکاری اداروں میں خدمات سرانجام دینے والے ملازمین کی تنخواہیں سال میں ایک دفعہ بڑھائی جاتی تھیں موجودہ حکومت نے بجٹ میں تنخواہوں میں اضافے کے اعلانات کرنے تو شروع کر رکھے ہیں لیکن عملی طور پر ملازمین کو کسی قسم کا ریلیف نہیں دیا جا رہا۔ جس کیوجہ سے سرکاری ملازمین قرضوں کے بوجھ تلے دبے جا رہے ہیں ، مہنگائی کیوجہ سے ملازمین نے گھریلو اخراجات پورے کرنے کی غرض سے بچوں کو سکولوں سے اٹھا لیا ہے ، سرکاری ملازمین کے بیٹے بیٹیاں سکولوں میں جانے کی بجائے گھروں میں فضول بیٹھ کر وقت ضائع کر رہے ہیں جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت وقت پر عائد ہوتی ہے ۔

سرکاری محکموں کے ملازمین نے وزیراعظم پاکستان ، چیف جسٹس آف پاکستان ، وزیراعلیٰ پنجاب، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سے مطالبہ کیاہے کہ تنخواہوں میں اعلانات کے مطابق اضافہ کیا جائے تاکہ سرکاری اداروں میں خدمات سرانجام دینے والے ملازمین اپنی سفید پوشی کا بھرم قائم رکھ سکیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button