جہلم

18 روزے گزر گئے پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اشیاء خوردونوش کے نرخوں میں کمی نہ لاسکے

جہلم: 18 روزے گزر گئے پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اشیاء خوردونوش کے نرخوں میں کمی نہ لاسکے۔ مہنگائی کا جن منڈیوں اور دکانوں پر بے قابو، پھلوں ، سبزیوں و گوشت کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ، اشیاء خوردونوش غریب و متوسط طبقہ کی پہنچ سے دور، پھلوں سبزیوں سمیت اشیاء خوردونوش کے نرخوں میں ہوشرباء اضافے سے شہری بلبلا اٹھے، صارفین مہنگائی کے خلاف سراپا احتجاج۔
تفصیلات کے مطابق جہلم شہر و گردونواح میں گرانفروشوں نے اپنی رعایا قائم کر لی ، پرائس کنٹرول مجسٹریٹس ٹھنڈے کمروں تک محدود ہو کر رہ گئے ، افسران نے صارفین کو دکانداروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا، شہر اور ملحقہ آبادیوں کے دکانداروں نے لاک ڈاؤن میں نرمی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے من مرضی کے نرخ مقرر کرکے شہریوں کی جیبوں کا صفایا کرنا شروع کر دیا ہے۔
مرغی کاگوشت فروخت کرنے والے دکانداروں نے 16 روز قبل 140 روپے کلو فروخت ہونے والا گوشت 260 روپے فی کلو فروخت کرنا شروع کر دیا ہے۔
یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ مرغی کا گوشت آنتوں ، غلاظت کے ساتھ فروخت کیا جاتا ہے صفائی کے بعد گوشت کا وزن بمشکل 3 پاؤ رہ جاتا ہے ، جبکہ لیموں ، آلو ، بھنڈی ، پیاز ، ٹماٹر سمیت دیگر سبزیوں کے نرخ بھی سرکاری ریٹ لسٹ سے کئی گنا اضافی وصول کئے جارہے ہیں۔
شہریوں کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ نے مختلف محکموں کے درجنوں افسران کو مجسٹریٹ کے اختیارات دے رکھے ہیں ۔ لیکن سرکاری محکموں کے افسران ٹھنڈے کمروں سے باہر نکلنا اپنی توہین سمجھتے ہیں جس کیوجہ سے دکانداروں نے لوٹ مار کے سابق تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں ۔
صارفین نے ڈپٹی کمشنر سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری محکموں کے افسران کو یونین کونسل وائز علاقے الاٹ کئے جائیں اور روزانہ کی بنیاد پر دکانیں چیک کرنے کا سختی سے پابند بنایا جائے ناقص و غیر معیاری اشیاء مہنگے داموں فروخت کرنے والے دکانداروں کو نقد جرمانوں کے ساتھ ساتھ مقدمات درج کروائے جائیں تاکہ مہنگائی میں کمی واقع ہو سکے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button