پنڈدادنخان کے علاقہ لنگر کی خاتون پر سسرالیوں کا تشدد، شوہر اورسسر کی گلا دبا کر قتل کرنے کی کوشش

0

پنڈدادنخان: تحصیل پنڈدادنخان کے گاؤ ں لنگر کی رہائشی ساجدہ بی بی سسرالیوں کے تشدد کا شکا ر، خوشاب کے گاؤں کٹھہ مصرال میں شادی ہوئی ،شوہر اورسسر کی گلا دبا کر قتل کرنے کی کئی بار کوشش، میکے سے پیسے نہ منگوائے تو جان سے مار دیں گے متاثرہ بی بی کے جسم پر بلیڈ مارنا اور تشدد کرنا معمول بنا لیا، سسرالیے بااثر ہیں پولیس بھی ان کا ساتھ دے گی، میکے اطلاع کی تو تمہاری بہنو ں اور تمہاری ویڈیو انٹر نیٹ پر چڑھا کر بدنام کریں گے۔ متاثرہ بی بی کی دہائی

تفصیلات کے مطابق لنگر تحصیل پنڈ دادنخان ضلع جہلم کی رہائشی اور ضلع خوشاب کے گاؤں کٹھہ مصرال میں شادی شدہ جواں سالہ لڑکی ساجدہ پروین نے اپنے والد محمد نذیر ،والدہ اور بھائی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ میرے سسرالیوں نے مجھے ناجائز کئی بارتشدد کا نشانہ بنایااور مجھے ڈراتے دھمکاتے رہتے ہیں میکے والوں کو نہیں ملنے دیں گے ،اگر تم میکے گئی تو فائر مار کر قتل کر دیں گے۔

خاتون نے بتایا کہ ضلع خوشاب کے گاؤں کٹھہ مصرال میں خاوند اور سسرال ولے مل کر مجھ پر بے پناہ تشدد کرتے ہیں ، میری دونوں ٹانگوں ،دونوں بازوں ،گلے اور پورے جسم پر بلیڈ مار مار کر لہو لہان کر دیتے ہیںاور ڈراتے ہیں کہ اگر میکے والوں کو بتایا یا پولیس کو اطلاع دی تو تمھیں زندہ نہیں چھوڑیں گے خاوند نے اپنے بھائی اور والد کے ہمراہ گلہ دبانے کی بھی کوشش کی اور گلے پر بھی بلیڈ مارے ،خوف کی ماری ممتا اپنے دس ماہ کے معصوم بچے ،والد ،والدہ اور بھائی کو ساتھ لیکر میڈیا کے پاس پہنچ گئی۔

خاتون نے ڈی پی او خوشاب سے سسرالیوں کے خلاف نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا اور ڈی پی او جہلم سے اپنی جان اور اپنے معصوم بچے کی جان کا تحفظ مانگ لیا ،سسرال والے مجھے جان سے مار دیں گے وہ بچے کی بھی جان لے لیں گے اور وہ میرے والدین اور بھائی کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

متاثرہ خاتون کی دہائی لنگر تحصیل پنڈ دادنخان ضلع جہلم کی رہائشی اور ضلع خوشاب کے گاؤں کٹھہ مصرال میں شادی شدہ جواں سالہ لڑکی ساجدہ پروین نے اپنے والد محمد نذیر ،والدہ اور بھائی کے ہمراہ صحافیوں کو بتا یا کہ میرے شوہر محمد تنویر نے اپنے والد فتح محمد اور بڑے بھائی سے مل کر میرے پورے جسم پر تشدد کیا میرے کپڑے پھاڑ دئیے واقع کی اطلاع پا کر میری والدہ وہاں پہنچی تو مجھے ان ظالموں کے چنگل سے نکالنے میں کامیاب ہو گئی اگر میری والدہ وہاں نہ پہنچتی تو وہ لوگ مجھے جان سے مار دیتے میرے پھٹے ہوئے کپڑے بھی لہو لوہ ہو گئے تھے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.