معمارِ قوم (استاد) کا مقام و مرتبہ

تحریر: محمد برھان الحق جلالیؔ ڈبل ایم اے،بی ایڈ، بی ایم ایس ایس،ٹی این پی،آئی ایس ٹی ٹی سی- فارغ التحصیل جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور

0

دیکھا نہ کوہ کن کوئی فرہاد کے بغیر
آتا نہیں ہے فن کوئی استاد کے بغیر

اللہ رب العزت نے انسان کی تخلیق کو احسن تقویم ارشادفرمایاہے ،مصوری کا یہ عظیم شاہکار دنیائے رنگ وبو میں خالق کائنات کی نیابت کا حقدار بھی ٹھہرا۔اشرف المخلوقات، مسجود ملائکہ اور خلیفۃ اللہ فی الارض سے متصف حضرت انسان نے یہ ساری عظمتیں اور رفعتیں صرف اور صرف علم کی وجہ سے حاصل کی ہیں ورنہ عبادت و ریاضت ،اطاعت و فرمانبرداری میں فرشتے کمال رکھتے تھے،ان کی شان امتثال کو اللہ کریم نے قرآن پاک میں بیان فرمایاہے کہ وہ اللہ کی کسی بات میں نافرمانی نہیں کرتے اور ان کو جو حکم دیا جاتا ہے اس کی تعمیل کرتے ہیں۔ (التحریم ۔6) ۔علم ،عقل و شعور، فہم وادراک ،تمیز ، معرفت اور جستجو وہ بنیادی اوصاف تھے جن کی وجہ انسان باقی مخلوقات سے اشرف واعلیٰ اور ممتازقرار دیا گیا۔

یہ ایک آفاقی حقیقت ہے کہ حصول علم درس و مشاہدہ سمیت کئی خارجی ذرائع سے ہی ممکن ہوتا ہے،ان میں مرکزی حیثیت استاد اور معلّم ہی کی ہے،جس کے بغیر صحت مند معاشرہ کی تشکیل ناممکن ہے ،معلّم ہی وہ اہم شخصیت ہے جو تعلیم وتربیت کا محور ،منبہ ومرکز ہوتا ہے ،ترقی یافتہ قوموں اور مہذب معاشروں میں استاد کوایک خاص مقام و مرتبہ اور نمایاں حیثیت حاصل ہوتی ہے کیونکہ مہذب ،توانا،پرامن اور باشعور معاشرے کا قیام استاد ہی مرہون منت ہے استاد کا مقام و مرتبہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں استاذ بلاشبہ عظیم ہستی اور انسانیت کی محسن ذات ہے، استادکی بڑی شان اورعظمت ہے، دنیا نے چاہے استاد کی حقیقی قدر ومنزلت کا احساس کیا ہو یا نہ ہولیکن اسلام نے بہت پہلے ہی اس کی عظمت کو اجاگر کیا، اس کے مقام ِ بلند سے انسانوں کو آشنا کیا اور خود اس کائنات کے عظیم محسن سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ نے طبقہ ٔ اساتذہ کو یہ کہہ کر شرف بخشا کہ : انما بعثت معلما۔ ( سنن دارمی:353) کہ میں معلم بناکر بھیجا گیا ہوں۔ اور قرآن کریم میں آپ کے مقاصد ِ بعثت کو بیان کرتے ہوئے فرمایاگیا:لقد من اللہ علی المؤمنین اذبعث فیھم رسولا من انفسھم یتلوا علیھم ایتہ ویزکیھم ویعلمھم الکتب والحکمۃ وان کا نوا من قبل لفی ضلال مبین۔ ( اٰل عمران :164)’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے مؤمنوں پر بڑا احسان کیا کہ ان کے درمیان انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو ان کے سامنے اللہ کی آیتوں کی تلاوت کرے، انہیں پاک وصاف بنائے اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے، جب کہ یہ لوگ اس سے پہلے یقینا کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا تھے۔ ‘‘، استاد کی عظمت بیان کرنے کے لیے کافی و شافی دلیل ہے۔

معلّم کائنات ﷺ نے انسانیت کی راہنمائی اور تعلیم کے لیے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیا ء کرام کو معلّم و مربّی بنا کر بھیجا ،ہر نبی شریعت کامعلّم ہونے کے ساتھ ساتھ کسی ایک فن کا ماہر اور معلّم بھی ہوتا تھاجسے حضرت اٰدم ؑ دنیا میں ذراعت، صنعت وحرفت کے معلّم اوّل تھے ،کلام کو ضبط تحریر میں لانے کا علم سب سے پہلے حضرت ادریس ؑ نے ایجاد کیا،حضرت نوح ؑ نے لکڑی سے چیزیں بنانے کا علم متعارف کروایا،حضرت ابراہیم ؑ نے علم مناظرہ اور حضرت یوسف ؑ نے علم تعبیر الرؤیا کی بنیاد ڈالی۔خاتم الانبیاء ﷺنے معلّم کو انسانوں میں بہترین شخصیت قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایاتم میں سے بہتر شخص وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سیکھائے۔(بخاری ۔5027)معلّم کے لیے نبی کریم ﷺکی بشارت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان الفاظ میں روایت کی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ؛غور سے سنو،دنیا اور دنیا میں جو کچھ ہے وہ اللہ کی رحمت سے دور ہے البتہ اللہ کا ذکر اور وہ چیزیں جو اللہ تعالی سے قریب کریں یعنی نیک اعمال،عالم اور طا لب علم ( یہ سب چیزیں اللہ کی رحمت سے دورنہیں ہیں)۔(ترمذی۔2322)استاد ہونا ایک بہت بڑی نعمت اور عظیم سعادت ہے ۔معلّم کو اللہ اور اس کی مخلوقات کی محبوبیت نصیب ہوتی ہے ،باعث تخلیق کائنات مخبر صادقﷺنے استاد کی محبوبیت کو ان الفاظ میں بیان فرمایا کہ لوگوں کو بھلائی سیکھانے والے پر اللہ ،ان کے فرشتے ، آسمان اور زمین کی تمام مخلوقات یہاں تک کہ چیونٹیاں اپنے بلوں میں اور مچھلیاں پانی میں رحمت بھیجتی اور دعائیں کرتی ہیں۔(ترمذی ۔2675)اساتذہ کے لیے حضور نبی کریم ﷺ نے دعافرمائی کہ اللہ تعالی اس شخص کو خوش وخرم رکھے جس نے میری کوئی بات سنی اور اسے یاد رکھااور اس کو جیسا سنا اسی طرح لوگوں تک پہنچا یا۔(ابو داؤد۔366)

زمانہ خیر القرون میں معلّمین و مدرسین کو اتنی زیادہ اہمیت حاصل تھی کہ خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروقؓ معلّمین کو درس وتدریس کے ساتھ ساتھ اعلیٰ انتظامی امور اور عہدوں پر فائز کرتے تھے۔حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کا قول مبارک ہے کہ جس نے مجھے ایک حرف بھی پڑھا دیا میں اس کا غلام ہوں خواہ وہ مجھے آزاد کر دے یا بیچ دے۔(تعلیم المتعلم ۔21)حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم استاد سے اتناڈرتے اور ان کا اتنا ادب کرتے تھے جیسا کہ لوگ بادشاہ سے ڈرا کرتے ہیں ۔حضرت یحییٰ بن معین ؒ بہت بڑے محدث تھے امام بخاریؒ ان کے متعلق فرماتے ہیں کہ محدثین کا جتنا احترا م وہ کرتے تھے اتنا کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔ امام ابو یوسف ؒ کہتے ہیں کہ میں نے بزرگوں سے سنا ہے کہ جو استاد کی قدر نہیں کرتا وہ کامیاب نہیں ہوتا۔(تعلیم المتعلم 22)
استاد کی عظمت نہ صرف ایک مستقل قدر ہے بلکہ کوئی بھی معاشرہ اسے تسلیم کیے بغیر علم و ترقی کا ایک قدم بھی طے نہیں کرسکتا۔
حضور صلی اللہ علیہِ وسلم نے فرمایاہے :۔

’’ابوک ثلاثہ‘‘
’’تمہارے تین باپ ہیں‘‘

ایک وہ جو تمہیں اس دنیا میں لا یا، دوسرا وہ جس نے تمہیں اپنی بیٹی دی، اور تیسرا وہ جس نے تمہیں علم دیا۔ اور فرمایا کہ ان سب میں سے افضل تمہارے لیے وہ ہے جس نے تم کو علم دیا۔ میرے خیال میں استاد کا مقام ومرتبہ اور استاد کی عظمت اس سے زیادہ کوئی بیان نہیں کرسکتا۔

استاد کسی بھی قوم یا معاشرے کا معمار ہوتا ہے…وہ قوم کو تہذیب وتمدن،اخلاقیات اور معاشرتی اتار چڑھاؤ سے واقف کرواتا ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ استاد کا مقام کسی بھی معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ کیونکہ کسی بھی قوم کامستقبل اس قوم کے استاد کے ہاتھ میں ہو تا ہے، استاد ہی قوم کو تربیت دیتا ہے، وہی اسے بتاتا ہے کہ اچھا کیا ہے اور برا کیا ہے۔ گویا کسی بھی قو م کو کوئی حکومت تربیت نہیں دیتی بلکہ ایک استاد تربیت دیتا ہے۔ خدا لگتی بات کی جا ئے تو قوم کی تباہی یاقوم کی سرفرازی دونوں کا باعث استا د ہی ہوتا ہے۔ معلّم انبیاء علیہم السلام کا نائب و وارث ہے

استاد کو ہر زمانے میں قدر کی نگاه سے دیکها جاتا رہا ہے.استاد کی اہمیت اور ان کا مقام ومرتبہ کی ایک خاص وجہ یہ بهی ہے کہ وہ ہماری شخصیت سازی اور کردار سازی میں معاون مددگار ثابت ہوتا ہے.استاد ہر ایک طالب علم کو ویسے ہی سجا اور سنوار کر مزین اور خوبصورت بنا دیتا ہے جس طرح ایک سنار دهات کے مختلف بهکرے ہوئے ٹکڑے کو لڑی میں پرو کر پر کشش اور جاذب نظر بنا دیتا ہے ہے.استاد علم کے حصول کا براہ راست ایک ذریعہ ہے اسلئے انکی عزت و تکریم اور ان کے احترام کا حکم دیا گیا ہے.استاد کا احترام اسلامی نقطہ نظر سے دو اعتبار سے بڑی اہمیت کا حامل ہے:-

1- ایک تو وه منبعہ علم ہونے کے ناطے ہمارے روحانی باپ ہوا کرتے ہیں.ہماری اخلاقی اور روحانی اصلاح وفلاح کے لئے اپنی زندگی صرف کرتےہیں –
2- دوسرا یہ کہ وه عموما طلبہ سے بڑے ہوتے ہیں اور مذهب اسلام اپنے سے بڑوں کے احترام کا حکم بهی دیتا ہے.ارشاد نبوی ہے”من لم یرحم صغیرنا ومن لم یوقر کبیرنا فلیس منا”

کسی بھی انسان کی کامیابی کے پیچھے اچھے استاد کی بہترین تربیت کار فرما ہوتی ہے ۔ خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جن کی زندگی میں اچھے استاد میسر آجاتے ہیں ۔ ایک معمولی سے نوخیز بچے سے لے کر ایک کامیاب فرد تک سارا سفر اساتذہ کا مرہون منت ہے ۔ سب کچھ استاد کی وجہ سے ہے وہ ایک طالب علم میں جس طرح کا رنگ بھرنا چاہیں بھر سکتے ہیں۔کسی بھی انسان کی کامیابی کے پیچھے اچھے استاد کی بہترین تعلیم و تربیت کار فرما ہوتی ہے ۔ خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جن کی زندگی میں اچھے استاد میسر آجاتے ہیں ۔ ایک معمولی سے نوخیز بچے سے لے کر ایک کامیاب فرد تک سارا سفر اساتذہ کا مرہون منت ہے ۔ وہ ایک طالب علم میں جس طرح کا رنگ بھرنا چاہیں بھر سکتے ہیں۔استاد ایک چراغ ہے جو تاریک راہوں میں روشنی کے وجود کو برقرار رکھتا ہے استاد تاریکی میں روشنی بخشتا ہے۔ اُستاد وہ پھول ہے جو اپنی خوشبو سے معاشرے میں امن، مہرومحبت ومئودت و دوستی کا پیغام پہنچاتا ہےجو ایک طالبعلم کو صراط مستقیم پر گامزن کرتا ہے۔ اُستاد ایک ایسا رہنما ہے جو آدمی کو زندگی کی تاریکیوں سے نکال کر منزل کی طرف گامزن کرتا ہے۔

استاد وہ عظیم رہنما ہے جو آدمی کو انسان بنا دیتا ہے، آدمی کو حیوانیت کے چُنگل سے نکال کر انسانیت کے گُر سے آشنا کرواتا ہے۔ استاد آدمی کو یہ بتاتا ہے کہ معاشرہ میں لوگوں کے ساتھ کیسے رشتے قائم رکھنے چاہئیں۔ استاد، ایک معمولی سے آدمی کو آسمان تک پہنچا دیتا ہے ۔ استاد مینار نور ہے جو اندھیرے میں ہمیں راہ دکھلاتا ہے۔ ایک سیڑھی ہے جو ہمیں بلندی پر پہنچادیتی ہے۔

ادھورا ہے انسان اس کے بغیر
نہ پاو گے راہ تم کبھی استاد کے بغیر
دیکھا نہ کوئی کوہ کن فرہاد کے بغیر
آتا نہیں ہے کوئی فن استاد کے بغیر

استاد کو والدین کے بعد سب سے زیادہ محترم حیثیت واہمیت حاصل ہے، بادشاہ ہوں یا سلطنتوں کے شہنشاہ ہوں، خلیفہ ہوں یا ولی اللہ سبھی اپنے استاد کے آگے ادب و احترام کے تمام تقاضے پورے کرتے نظر آئیں گے کیونکہ باادب بامراد بے ادب بے مراد۔
آئیں کچھ مثالیں دیکھتے ہیں مشہور ہے کہ خلیفہ ہارون الرشید کے دو صاحبزادے جناب حضرت امام نسائی رحمہ اللہ کے پاس زیرِ تعلیم تھے۔ ایک بار استاد کے جانے کا وقت آیا تو دونوں شاگرد انہیں جوتے پیش کرنے کے لیے دوڑے، دونوں ہی استاد کے آگے جوتے پیش کرنا چاہتے تھے، یوں دونوں بھائیوں میں کافی دیر تک تکرار جاری رہی اور بالآخر دونوں نے ایک ایک جوتا استاد کے آگے پیش کیا۔ خلیفہ ہارون رشید کو اِس واقعے کی خبر پہنچی تو بصد احترام جناب حضرت امام نسائی رحمہ اللہ کو دربار میں بلایا۔ہارون الرشید نے امام نسائی سے سوال پوچھا کہ، “جناب استادِ محترم، آپ کے خیال میں فی الوقت سب سے زیادہ عزت و احترام کے لائق کون ہے ھارون الرشید کے سوال پر امام نسائی رحمہ اللہ قدرے چونکے۔ پھر محتاط انداز میں جواب دیا،میں سمجھتا ہوں کہ سب سے زیادہ احترام کے لائق خلیفہ وقت ہیں خلیفۂ ہارون الرشید کے چہرے پر ایک گہری مسکراہٹ اتری اور کہا کہ ہرگز نہیں استادِ محترم سب سے زیادہ عزت کے لائق وہ استاد ہے جس کے جوتے اٹھانے کے لیے خلیفۂ وقت کے بیٹے آپس میں جھگڑیں۔

اسی طرح فارسی زبان کے مشہور شاعر حضرت مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے روحانی استادحضرت شاہ شمس رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ اپنے استاد سے کتنی محبت کرتے تھے خود کہتے ہیں کہ “مجھے آج بھی چینی کے گوداموں کے قریب کی وہ جگہ اچھی طرح یاد ہے جہاں میری اپنے روحانی استاد حضرت شاہ شمس تبریز رحمۃ اللہ علیہ سے پہلی ملاقات ہوئی تھی۔ اب جب کبھی اکتوبر کے اُن دنوں میں شمس سے دائمی جدائی کا غم شدت اختیار کر جاتا ہے تو میں چلّے میں بیٹھ کرحضرت شاہ شمس رحمۃ اللہ علیہ کے سکھائے محبت کے اُنہی چالیس اصولوں پر غور و خوض شروع کردیتا ہوں

مغل بادشاہوں کی بداعمالیوں و عیاشیوں کے قصوں سے تاریخ بھری پڑی ہے لیکن استاد کا احترام وہ بھی خود پر واجب سمجھتے تھے۔انہوں نے اساتذہ کا ادب و احترام دل و جان سے کیاجس کی ایک مثال عظیم مغلیہ شہنشاہ جناب حضرت اورنگزیب عالمگیر کوحضرت علامہ ملا احمد جیون سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ شہنشاہ بننے کے بعد ایک روز استاد کی یاد ستائی تو انہوں نے ملاقات کا پیغام بھیجا۔ دونوں نے عید کی نماز ایک ساتھ ادا کی، وقتِ رخصت شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر نے استاد محترم کو ایک چوّنی چار آنے بصد احترام پیش کیے۔ وقت کا دھارا بہتا گیا، اورنگزیب مملکتی مسائل میں ایسا الجھے کہ ملا جیون سے ملاقات کا کوئی موقع ہی نہ ملا۔ لگ بھگ دس سال بعد اُن سے اچانک ملاقات ہوئی تو وہ یہ دیکھ ششدرہ رہ گیا کہ ملا جیون اب علاقے کے متمول زمیندار تھے۔ استاد نے شاگرد کی حیرت بھانپتے ہوئے بتایابادشاہ سلامت میرے حالات میں یہ تبدیلی آپ کی دی ہوئی اس ایک ۔ چوّنی کی بدولت ممکن ۔ اِس بات پر شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر مسکرائے اور کہا کہ استادِ محترم آپ جانتے ہیں میں نے شاہی خزانے سے آج تک ایک پائی نہیں لی مگر اُس روز آپ کو دینے کے لیے میرے پاس کچھ بھی نہ تھا، وہ چونی میں نے شاہی خزانے سے اُٹھائی تھی اور اُس رات میں نے ہی بھیس بدل کر آپ کے گھر کی مرمت کی تھی تاکہ خزانے کا پیسہ واپس لوٹا سکوں۔

اچھا استاد کون ؟ اور اس کی خصوصیات کیاہیں؟
ہمارے ہاں اساتذہ کا معیار کئی باتوں پر رکھا جاتا ہے بالخصوص قابلیت اس کے بعد تجربہ اور پھر ان کا کردار۔ تدریس کا شعبہ آج کے دور میں کافی پر کشش ہو چکا ہے ۔تدریس کا شعبہ انبیاء و رسل کا شعبہ ہے۔ لہذا آئیے دیکھتے ہیں کہ وہ کون سی خوبیاں ہیں جو ایک اچھے استاد میں ہونی چاہیے؟
دوستانہ طرز عمل
ایک استادکی جو سب پہلی خوبی ہے وہ یہ ہے کہ وہ اپنے طلباء کے ساتھ دوستانہ رویہ رکھتا ہو۔ ایسا استاد جو اپنے طلباء کا بہترین معاون ہو۔ اگر استاد دوستانہ ہو گا اور طلباء کے لیے ایک بہترین معاون ہو گا تو طلباء اس سے اپنے مسائل بھی شیر کریں گے۔
خوداعتمادی:۔
اچھے استاد کی ایک صفت خود اعتمادی ہوتی ہے جب ایک مثالی استاد کو اپنے اوپر اعتماد ہو گا تو وہ اپنے طلباء کو بھی خود اعتماد بنا سکے گا۔

اچھی شخصیت و اچھا کردار
ایک استاد کو ایک جاذب نظر اور متاثر کر دینے والی شخصیت کا حامل ہونا چاہیے۔ اس کو ہر وقت جاذب نظر دکھنا چاہیے۔ اس کو اپنے آپ کو ایسے انداز میں اپنے طلباء کے سامنے پیش کرنا چاہیے کہ پہلی ہی نظر میں اس کے طلباء اس کے گرویدہ ہو جائیں۔ اس کی شخصیت میں ایک پیشہ وارانہ رعب ہو لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ اپنے طلباء کا دوست، ہمدرد بھی ہو۔

بہترین تعلیم اور معلومات پر گرفت
ایک اچھا استاد ہونے کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ وہ اعلی تعلیم یافتہ ہو اور وہ جو کچھ اپنے طلباء کو پڑھا رہا ہے ان موضوعات پر اس کی مکمل گرفت ہو۔استاد ایک ہوتا ہے شاگرد کئی ہوتے ہیں لہذا کسی قسم کا بھی سوال آ سکتا ہے جو کچھ وہ اپنے طلباء کو پڑھا رہا ہے اور بعد میں اس کے طلباء اس سے کوئی بھی سوالات کریں تو اس کے پاس ان کے سوالات کے مناسب جوابات ہوں۔ لہذا یہ چیز اس بات کا تقاضہ کرتی ہے کہ استاد بہترین تعلیمی پس منظر رکھتا ہو اور اس کی معلومات نہایت جامع ہوں

مدرس کے اہداف متعین اور واضح ہوں
عمل خواہ کوئی بھی ہو اس میں تعین اہداف کو بڑی اہمیت حاصل ہوتی ہے، پڑھاتے وقت استادکے لیے یہ ضروری ہے کہ اس کا ہدف متعین اور انتہائی واضح ہو، ہدف واضح نہ ہونے کی صورت میں سبق یا اپنی بات سمجھانا ناممکن ہے، مدرس کی سرگرمیوں کی سمت ایک ہو۔ وہ بکھری ہوئی نہ ہوں ،

آج سال میں ایک دفعہ اغیار کی پیروی کرتے ہوئے اساتذہ کا ایک عالمی دن منا لیا جاتا ہے جس طرح سال میں ایک دن ماں کا منا لیا ایک دن باپ کا منا لیا ایک دن معذوروں کا منا لیا ایک دن مزدوروں کا منا لیا حالانکہ اسلام اس چیز کا درس نہیں دیتا اسلام تو کہتا ہے کہ ہر لمحہ ہر گھڑی ہر دن ان کا ہے۔اور معذرت کے ساتھ جب حقوق پورے نہ کئے جائیں جائز حق نہ دیا جائے جب استاد کو اس کا مقام و مرتبہ عزت و وقار نہ دیا جائے تو کیا ایک دن منا لینے سے یہ سب کمیاں کوتاہیاں پوری ہو جائیں گی؟

استاد کو بھی اپنی ذمہ داریاں نبھانی چاہئیں اپنے منصب کے ساتھ دھوکہ نہیں کرنا چاہئے اپنے کردار طلباء کے سامنے رکھنا چاہئے طلباء کی اخلاقی تربیت بھی کرنی چاہئے فحش زبان استعمال کرنے سے پرہیز کرنا چاہئے معاشرے میں جہاں ماں باپ کا کردار بچے کے لیے اہم ہے، وہاں استاد کو بھی اہم مقام حاصل ہے۔ ماں باپ بچوں کو لَفظ بہ لفظ سکھاتے ہیں، ان کی اچھی طرح سے نشوونما کرتے ہیں، ان کو اٹھنے، بیٹھنے اور چلنے کا سلیقہ سکھاتے ہیں ۔

جن کے کردار سے آتی ہو صداقت کی مہک
ان کی تدریس سے پتھر بھی پگھل سکتے ہیں

اس تحریر میں اگر کسی کی دل آزاری ہوئی ہو تو معذرت۔
اور اس ساری تحریر میں جہاں کہیں بھی کوئی غلطی کوتاہی ہوئی ہو تو بارگاہ خداوندی میں معافی کا طلب گار ہوں۔
اللہ رب العزت مجھے معاف کرے اور ہم کے گناہوں کو معاف کرے مظلومین کو ظالموں کے چنگل سے نجات دے ملک پاکستان کو امن و سلامتی کا گہوارہ بنائے دنیامیں جہاں کہیں بھی مسلمان ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں ان مدد ونصرت فرمائے آمین

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.