جہلم

قومی زبان اردوکے لئے ہم سب نے ملک کر کام کرنا ہے۔ فاطمہ قمر

جہلم: فاطمہ قمرمرکزی صدرشعبہ خواتین پاکستان قومی زبان تحریک نے کہاکہ پاکستانی والدین سے تعلیم کے نام پر لاکھوں کی فیس بٹورنے والے انگریزی میڈیم ادارہ را غیرانگریزی ممالک میں اس ”بین الاقوامی زبان” کو ذریعہ تعلیم بنا کر وہاں کی رعایا کو بھی پاکستانی قوم کی طرح ٹھگ کر بیوقوف بنا کر دکھائیں آخر یہ کثیر القومی تجارت کا دور ہے!۔

انہوں نے کہا کہ ہم بھی ان کی ” بین الاقوامی قابلیت” کا لوہا مانیں! ان انگریزی میڈیم اداروں نے بیس کروڑ پاکستانیوں کو احمق سمجھا ہوا ہے۔ان کو اس زبان میں تعلیم دے رہے ہیں جو سات سمندر پار ہے! جو کسی بھی پاکستانی کی مادر پدری زبان نہیں! جس کا رسم الخط پاکسان کی کسی زبان سے نہیں ملتا! جس کے حروف تہجی یہاں کی زبانوں کے لئے بالکل اجنبی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تمام زبانیں قرانی رسم الخط ‘ دائیں سے بائیں لکھی جاتی ہیں۔ جب کہ انگریزی بائیں سے دائیں لکھی جاتی ہے۔جس تعلیمی انتشار کا رسم الخط کے متضاد ہونے سے نرسری کا بچہ سامنا کرتا ہے وہ تعلیم کے اخری درجے تک جاری رہتا ہے۔تو پھر بچے تخلیق کیا کریں گے؟۔

انہوں نے کہا کہ یہ انگریزی میڈیم ادارے پاکستانی بچے کی تخلیقت جو زیبح کر رہے ہیں۔ انہیں اس بات کا بخوبی ادراک بھی ہے لیکن دولت پرستی نے ان بے حسوں کی آنکھوں پر پردے ڈالے ہوئے ہیں۔ یہ بائیس کروڑ عوام کی تخلیقی صلاحیتوں اور ملک کے مستقبل سے کھیل رہے ہیں۔ حیرت تو ان ملک دشمن عناصر پر ہے جو قائدا عظم کی ڈھاکہ کی تقریر پر تو انہیں تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button