جہلماہم خبریں

جموں و کشمیر موومنٹ ضلع جہلم کے زیراہتمام یکجہتی کشمیر موومنٹ آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد

جہلم: ہندو اور مسلم الگ الگ قومیں ہیں جو اکٹھی نہیں رہ سکتیں، ایک قوم صرف اللہ کو مانتی ہے جبکہ دوسری قوم درجنوں بتوں اور جانوروں کی پوجا کرتی ہے۔کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، یہ نظریہ محمد علی جناح نے پیش کیا لیکن یہ نظریہ پیش نہیں کیا کہ ہمارے حکمران کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے پانچ فروری کو چھٹی کریں اور پھر ہندوؤں کے ساتھ جا کر ہولی اور دیوالی منا کر رنگ پھینکیں مودی اور جندال سے ملاقاتیں کرکے دوستیاں بڑھائیں ، کشمیر کے ساتھ ہمارے مفادات ہیں لیکن حکمران انڈیا کی فیکٹریوں اور ہولی سے ذاتی مفادات وابستہ کیے ہوئے ہیں ۔

پاکستان کا ایک طبقہ کہتا ہے کہ پاکستان مسلمانوں کے اقتصادی مفادات کے لیے بنایا گیا تھا ان کی بات بھی مان لیں تو پھر بھی پاکستان کو کشمیر کی ضرورت ہے، اگر پانی نہیں ہو گا تو پاکستان صحرا بن جائے گا زمینیں بنجر ہو جائیں گی ، حکمرانوں کو کشمیر کی آزادی سے دلچسپی نہیں اسی لیے مولانا فضل الرحمن جیسے بندے کو کشمیر کمیٹی کا چیرمین بنایا گیا ہے ۔مقبوضہ کشمیر میں بے گناہ مسلمانوں کو شہید اور ظلم و بربریت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ،اگر امت مسلمہ متحد ہو اور حکمران اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر کو احسن طریقے سے اجاگر کریں تو کشمیر آزاد ہو سکتا ہے لیکن افسوس کہ ہمارے حکمران اقوام متحدہ کے اجلاس میں تقریر کر کے پردے کے پیچھے معافی مانگ لیتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار جموں و کشمیر موومنٹ کے راہنماء مولانا طاہر طیب رضوی ،پیپلز پارٹی کے راہنماء و سابق امیدوار قومی اسمبلی محمود مرزا جہلمی،جماعت اسلامی کے ضلعی امیر پروفیسر عبدالحمید جہلمی،مسلم کانفرنس کے صدر سید خلیل حسین کاظمی،مرکزی انجمن تاجران کے سرپرست شیخ محمد جاوید،فلاح انسانیت فاؤنڈیشن جہلم کے راہنماء چوہدری افضل،پریس کلب کے جنرل سیکرٹری سید اکرم شاہ بخاری،آل پاکستان مسلم لیگ کے راہنماء عدیل احمد ،پی ٹی آئی کے راہنماء چوہدری زاہد اختراور دیگر نے مقامی ہوٹل میں جموں و کشمیر موومنٹ ضلع جہلم کے زیر اہتمام منعقدہ یکجہتی کشمیر موومنٹ آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔کانفرنس میاں مسلم لیگ ن کے علاوہ تمام سیاسی جماعتوں کے مقامی قائدین ،تاجروں اور مذہبی شخصیات نے شرکت کی۔

مولانا طاہر طیب رضوی نے کہا کہ برہان وانی کی شہادت کے بعد مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک عروج پر ہے ہمیں فیصلہ کرنا ہے ہم نے کلمہ کی بنیاد پر کھڑے ہونا ہے یا ڈالر کی بنیاد پر فیصلہ کرنا ہو گا ۔دنیاوی مفادات کو ترجیح دینی ہے یا کلمہ کو ترجیح دینی ہے ،کشمیری نوجوان اپنے پروگراموں یا جنازوں میں پاکستانی پرچم لہراتے ہیں، گھر و والوں کو نصیحت کرتے ہیں ہمیں شہادت کے بعد پاکستانی پرچم میں دفن کرنا اور ہمارے حکمران انڈیا کے حکمرانوں سے محبتیں بڑھاتے ہیں، پاکستان میں کشمیری عوام کے لیے آواز بلند کرنا مودی اور ٹرمپ کی طرح ہمارے حکمرانوں کو بھی برداشت نہیں، کشمیر میں حریت راہنماؤں کو گرفتار کیا جاتا ہے تو پاکستان میں کشمیری عوام کی جنگ لڑنے والے حافظ محمد سعید کو گرفتار کر لیا جاتا ہے۔

پیپلز پارٹی کے راہنماء محمود مرزا جہلمی نے کہا کہ کشمیر کے معاملے پر بھارت نے ہمیشہ جھوٹا موقف اپنایا ہے ،دنیا میں کفر مسلمانوں کے خلاف متحد ہے اس لیے ہماری آواز کمزور ہے کیوں کہ ہم بکھرے ہوئےہیں اس مسئلہ پر ہم متحد ہو سکتے ہیں، جب تک ہم بطور پاکستانی مسئلہ کشمیر پر جارحیت کا رویہ اختیار نہیں کریں گے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے یہ تحریک بھی اس لیے آگے نہیں بڑھ رہی کیوں کہ قوم لاتعلق ہوتی جا رہی ہے۔ قومی مستقبل اور کشمیر کے مسئلہ پر بھی قوم لاتعلق ہوتی جا رہی ہے،کشمیر پاکستان کے قائم رہنے کی بنیاد ہے جبکہ کچھ لوگ قوم کو بتاتے ہیں کہ کشمیر کی وجہ سے پاکستان کو نقصان پہنچ سکتا ہے، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے کشمیر اسلام اور دین کا مسئلہ ہے ایک طبقہ کہتا ہے پاکستان اقتصادی معاملات کے لیے بنایا گیا کلمہ کی بنیاد پر نہیں، اگر بالفرض ان کی بات ہی مان لی جائی تو پھر بھی کشمیر پاکستان کے لیے ضروری ہے اگر کشمیر سے پاکستان کا پانی بند ہو گیا تو پاکستان صحرا بن جائے گا، کھیت ویران زمینیں بنجر ہو جائیں گی پھر اقتصادی مفادات کہا جائیں گے ہمیں کسی نے بھیک نہیں دینی ۔

محمود مرزا نے کہا کہ حکومت اور فوج ایک میز پر نہیں حکومت فوج کو کمزور کرنے کی سازشیں کر رہی ہے فوج اسلام اور پاکستان کے لیے لڑنا چاہتی ہے سپہ سالار نڈر او بے ناک انسان ہیں لیکن حکومت کمزور اور سازشی ہے ۔

پی ٹی آئی کے راہنماء زاہد اختر نے کہا کہ ہم پانچ فروری کو کشمیری عوام سے یکجہتی کے لیے دن مناتے ہیں لیکن اسکے بعد پورا سال کشمیر کا ذکر تک نہیں کرتے کشمیری عوام پر ظلم و ستم کیا جا رہا ہے وہاں ہمارے بہن بھائی جانورں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں اور ہم اس مسئلہ کو بہتر انداز میاں اجاگر نہیں کر رہے، پارلیمنٹ میں ہمارے نمائندے ریسٹ کرنے کے لیے جاتے ہیں اگر کشمیر ہمارا حصہ ہوتا تو ہم ترقی کرکے کہاں تک پہنچ جاتے قیام پاکستان سے اب تک پاکستان کے خلاف سازشیں اور کشمیر میں زیادتی اذاں ہو رہی ہیں تاکہ ہم ترقی نہ کر جائیں اس مسئلہ کو ترجیح بنیادوں پر رکھنا چاہیے ہمارے نظر یات،سوچ اپنی اپنی جگہ لیکن ہمیں کشمیر کے مسئلہ کو ایک جگہ رکھ کر متحد ہونا چاہیے۔

سید خلیل کاظمی نے کہا کہ شہ رگ کے بغیر جسم کا دیگر حصہ بے کار ہے اس لیے میری نظر میں شہ رگ جب تک نہیں ملتی پاکستان مکمل نہیں ہوتا، کشمیری عوام نے جانوں کے نذرانے پیش کرکے پاکستان سے محبت کا اظہار کیا لیکن ہمارے حکمرانوں کی طرف سے اسطرح اظہار نہیں ہو پا رہا جسکا اندازہ اس سے لگائی جا سکتا ہے کہ پیپلز پارٹی نے مولانا فاضل الرحمن جیسے آدمی کو کشمیر کمیٹی کا چیئرمین بنایا جسکا تسلسل مسلم لیگ ن نے برقرار رکھا ہوا ہے، مولانا فضل الرحمن کی مقبوضہ کشمیر کے عوام کے لیے دلچسپی سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے کہا ہمیں کشمیری عوام کے لیے حافظ سعید کی طرح عملی طور پر کردار ادا کرنا ہو گا ۔

آل پارٹیز کانفرنس سے تاجر راہنماء شیخ جاوید،کاشف اسلام،جماعت اسلامی کے امیر عبدالحمید جہلمی اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button