سرکاری اعلان ہوا ہے، سچ بولو

تحریر: محمد امجد بٹ

0

خلیل جبران کہتا ہے کہ میں نے کھبی جھوٹ نہیں بولا، سوائے اس کے کہ’’میں جھوٹ نہیں بولتا‘‘۔ہم میں سے اکثر لوگوں کا کہنا ہے کہ جھوٹوں پہ اللہ کی لعنت اور سچوں پہ اللہ کی رحمت۔ مگر اس قسم کے بہت سے سچے بیانات کے باوجود جھوٹ کی اپنی صحت پر آج تک کوئی اثر نہیں پڑااور نہ ہی آئندہ پڑنے کا کوئی امکان نظر آتا ہے۔

لہٰذا ہم نے سوچا کہ کیوں نہ روز افزوں پھلتے پھولتے جھوٹ کی ’’ جھوٹی سچی کہانی ‘‘ پہ طبع آزمائی کی جائے۔ سو آج ہم جھوٹ کی گردان’’ دروغ برگردنِ راوی‘‘کہتے ہوئے شروع کرتے ہیں۔یعنی جھوٹ بولیں گے تو ہم لیکن اگر خدا نخواستہ پکڑے گئے توذمہ داری ہم پہ نہیں بلکہ نامعلوم راوی پہ عائد ہو گی۔’’نامعلوم ‘‘کے بارے میں تو آپ جانتے ہی ہیں کہ ہمارے ہاں ’’نامعلوم‘‘ کثرت سے پائے جاتے ہیں اور ہمارے ہاں ہونے والے جرائم جنکی ہم روک تھام نہیں کر سکتے۔

انہی ’’نامعلوموں‘‘ کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں۔حتیٰ کہ ہمارے ہاں مقدموں کا اندراج بھی اس’’نامعلوم‘‘مخلوق کے بغیر ممکن نہیں ہوتا۔اسی لئے تو شک کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اصل مجرم بچ نکلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔اسی فارمولے کو مدِنظر رکھتے ہوئے ہم نے بھی راوی ’’نامعلوم ‘‘ رکھا ہے ۔ کیوں کہ اگرراوی ’’ نامعلوم‘‘ ہو گا تو بچ نکلے گااور ہم بھی جھوٹ بولنے کے باوجود نہیں پھنسیں گے کیونکہ ہمارے جھوٹ کی بھی تمام تر ذمہ داری ’’نامعلوم‘‘ راوی پہ عائدہوگی۔

یوں تو جھوٹ کی بہت سی اقسام ہیں،مگر چند ایک زبان زدِ خاص و عام ہیں۔مثلاً ایک تو سفید جھوٹ ہوتا ہے جسے سب با اتفاق جھوٹ کہتے ہیں خواہ اس میں سچ کی آمیزش ہی کیوں نہ ہو۔اسے عموماً جھوٹے لوگ بولتے ہیں۔کبھی غیر جھوٹے کی یہ مجال نہیں کہ وہ سفید جھوٹ بول سکے۔اس جھوٹ کو بولنے والے اس بات کی قطعاََپرواہ نہیں کرتے کہ ایک جھوٹ کو نبھانے کے لئے انہیں مزید کتنے جھوٹ بولنا پڑیں گے۔

بس یوں سمجھ لیں کہ اس قسم کے اشخاص و افراد ہردم، ہرجگہ اور ہر ایک کے سامنے جھوٹ بولنے کو تیار رہتے ہیں۔تجربہ کار جھوٹوں کا یہ کہنا ہے کہ جھوٹ ایسا بولنا چاہیے کہ اگرصبح بولا جائے تو کم از کم شام تک اس کا بھرم باقی رہے۔جبکہ غیر تجربہ کار جھوٹ عموماََجھوٹ بولتے ہی پکڑے جاتے ہیں۔

جھوٹ کی ایک بہترین قسم مصلحت آمیز جھوٹ ہے۔ایسا جھوٹ عموماََ سچے لوگ بولتے ہیں۔ گو ہوتا تو یہ جھوٹ ہی ہے مگر اسے مصلحت کا خوبصورت لبادہ پہنا دیا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اسے بولنے والے نہ صرف یہ کہ ندامت محسوس نہیں کرتے بلکہ اسے بعض اوقات’’ضروری‘‘ بھی قرار دیتے ہیں۔

کہتے ہی کہ پہلی مرتبہ جھوٹ بولنابہت مشکل ہوتا ہے۔ دوسری مرتبہ تھوڑی سی ہچکچاہٹ محسوس ہوتی ہے۔ جبکہ تیسری مرتبہ جھوٹ بولنے والا اتنا رواں ہو جاتا ہے کہ اسے اپنے اس عمل پر کسی قسم کی ندامت یا پشیمانی کا احساس تک نہیں ہوتا اور پھر وہ آئندہ بڑے اعتماد کے ساتھ ایک دن میں ایک جھوٹ۔

پھر دو نوں میں کئی جھوٹ اور پھر ایک دن میں کئی جھوٹ اور کئی دنوں میں لاتعداد جھوٹ پھر یہ جھوٹ کا سلسلہ متواتر دنوں سے مہینے پر اور پھر اس مہینے کو پورا کرنے کے لئے کھبی صبح ، کبھی دوپہر، کبھی عصر، کبھی مغرب ، کبھی عشاء اور دل نہ بھرے تو جب جی چاہے ’’ آلہء صوت المکبر‘‘ ( لاؤڈ سپیکر) آن کر وا کے اپنے جھوٹ کا لامتناہی سلسلہ شروع کر دیا جاتا ہے۔

ہمارے ہاں تو یہ سلسلہ کذاب و کذب گذشتہ ایک ماہ سے زائد عرصے سے جاری ہے اور لگتا ہے کہ ہمارے ملک میں جھوٹوں کا بین الاقوامی مقابلہ جاری ہے۔ جس میں ابھی تک فاتح کا چناؤ نہیں ہو پا رہا کیونکہ ہمارے ہاں کے جھوٹے اتنے منظم طریقوں سے جھوٹ بولنے کے ماہر ہیں کہ شاید منتظمین کو انکے جھوٹ پکڑنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ہم پر بھی جھوٹ پکڑنے کا ’’ بھُوت‘‘ سوار ہوا تو ہم نے بھی اپنا سفر ـجی ٹی روڈ سے شروع کر دیا جہاں دو طرفہ سڑک کے بلکل بیچوں بیچ لگے سرکاری ،نیم سرکاری اداروں سماجی تنظیموں کے ہاتھوں لگے ہزاروں درختوں کو قد آور، پھول آور اور پھل آور دیکھ کر اسے جھوٹ نہ کہہ پائے ۔پھر اندرون شہر کلین اینڈ گرین والے علاقے کی طرف مڑے تو ہر ’’ موڑ ‘‘ پر کچرے کے ڈھیروں کو مکھیوں مچھروں سے ڈھکا دیکھ کر ان سے جھوٹ نہ نکال سکے۔

ہم گاڑی سے اتر کر پیدل بازاروں میں جانے لگے تو پتہ چلا کہ جائز کے نام پر کی گئی ـ’’ ناجائز ‘‘ تجاوزات کے خاتمے کی وجہ سے فٹ پاتھوں کو تاجروں کے سامان تلے چھپا کر جھوٹ کو بے نقاب ہونے نہیں دیا جا رہا۔ شاندار چوک کے اطراف پھنسی گاڑیوں نے چوک کے چاروں اطراف لگی چنگ چی رکشاؤں کی لمبی لائنیں کو بھی ہماری آنکھوں سے اوجھل کر دیا۔

ہم نے نہیں دیکھا کہ کچہری موڑ پر بنا ’’ کچرادان‘‘ اپنے کچرے کے ڈھیر سے سب سرکاری سچ ڈھیر کر رہا ہے۔ ہم نے نہیں دیکھا کہ دریا کنارے مسجد کے عقبی اور مرکزی دروازوں کے قریب شہر بھر کی گندگی اکھٹی ہو رہی ہے۔ہم نے نہیں دیکھا کہ اکلوتی سبزی منڈی بارش کی چند بوندوں سے تالان کا منظر پیش کرتی ہے۔

ہم نے نہیں دیکھا کہ روہتاس روڈ سمیت شہر کے تمام داخلی اور خارجی راستوں پر چنگ چی اڈے قائم ہو چکے ہیں۔ہم نے نہیں دیکھا کہ شاندار چوک سے ’’ گنبد والی مسجد چوک‘‘ تک کا سفر جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ ہم نے قطعاََ نہیں دیکھا کہ بازاروں میں دکانداروں نے آنے جانے والے نصف سے زائد راستوں پر سامان رکھ کر عوام کا چلنا پھرنا محال کر رکھا ہے ۔ ہم نے نہیں دیکھا کہ سال میں ایک بار میجر اکرم شہید نشان حیدر پارک کی صفائی ستھرائی کی بعد آنکھیں بند کر لی جاتی ہیں ۔

ہم نے نہیں دیکھا کہ نو عمر ڈرائیور اپنے ساتھ سواریوں کی جان کے بھی دشمن بنے ہوئے ہیں۔ہم نے نہیں دیکھا کہ ہسپتال آج بھی دار الشفاء کی بجائے دار الوباء بنے ہوئے ہیں۔ ہم نے نہیں دیکھا کہ سرکار ی محکمے غیر سرکاری تنظیموں کے سہارے چل رہے ہیں ۔ ہم نے یہ بھی نہیں دیکھا کہ سرکاری محکموں کی ترجمانی آجکل ’’ صُوحافی‘‘ برادری کر رہی ہے۔تادیر سفر کے باوجود ہمیں کہیں جھوٹ نظر نہ آیا۔

کیونکہ جھوٹ وہ جادوئی چھڑی ہے جسکی مدد سے آپ سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ سفید رنگ کی روشنی سات رنگوں کا مجموعہ ہوتی ہے۔ اس اعتبار سے ہم بھی یہ کہہ سکتے ہیں کہ سفید جھوٹ میں ساتوں رنگوں کے جھوٹ کی آمیزش ہوتی ہوگی۔ اب یہ ماہرینِ ’’ دروغیات‘‘ کا کام ہے کہ سفید جھوٹ میں سے ہر رنگ کے جھوٹ کو علیحدہ علیحدہ کر کے عوام الناس کورنگ برنگے جھوٹ سے متعارف کروائیں۔آخری میں راحت اندروی کے بقول کہ

جھوٹوں نے جھوٹوں سے کہا ہے، سچ بولو
سرکاری اعلان ہوا ہے ، سچ بولو
گھر کے اندر جھوٹوں کی اک منڈی ہے
دروازے پر لکھا ہوا ہے ، سچ بولو

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.