پنڈدادنخان میں نوجوان نے پولیس اور صحافیوں کی بلیک میلنگ سے تنگ آ کر خودکشی کر لی

0

پنڈدادنخان (سلیمان شہباز+ مانیٹرنگ ڈیسک) پنڈدادنخان میں نوجوان نے خود کشی سے قبل اپنے ویڈیوبیان میں اپنی موت کا ذمہ دار2 مقامی صحافیوں اور پولیس کو قرار دے دیا، افسوس ناک واقع کے بعد پنڈدادنخان شہر میں دو صحافیوں اور پولیس کے اہلکاروں کے ہاتھوں بلیک میل ہونے کے الزام کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی ، ہمیں انصاف دلایا جائے ہم بااثر افراد کا مقابلہ نہیں کر سکتے ،وزیراعظم ،وزیر اعلی پنجاب واقع کی شفاف انکوائری کروایں تاکہ اصل حقائق سامنے آئیں۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز پنڈ دادنخان کے محلہ اسلامیہ سکول کے رہائشی محنت مزدوری کرنے والے 22 سالہ نوجوان محمدعرفان ولد محمدرزاق نے زہریلی گولیاں کھا کر خودکشی کرلی،خودکشی کرنے سے چند لمحے قبل عرفان نے اپنی ایک ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کی جس میں اس نے صحافت کی آڑ لے کراسے بلیک میل کرنے والے آخترارائیں اور ملک نیئراعوان کی طرف سے کی جانے والی بلیک میلنگ اور پولیس کے رویئے کا ذکر کیا۔


نوجوان نے ویڈیو بیان میں کہا کہ آخترارائیں کے بیٹے نے مجھے شراب پلائی اور پھر ہمیں کھیوڑہ پولیس نے پکڑا تواختر آرائیں اور نیئراعوان نے صحافت کی آڑ میں اپنے بیٹے کو پولیس چوکی کھیوڑہ سے چھڑوالیا جبکہ مجھ پر دس لیٹر شراب کا مقدمہ درج کروا دیا،بعدازاں مجھ سے اشٹام بھی لیا گیا اور مجھے مقدمہ کی ہرتاریخ پر بلیک میل کیا جاتا رہا نیز مجھے مزید مقدمات میں پھنسانے کی دھمکیاں بھی دی جاتیں۔

محمد عرفان کا ویڈیو میں یہ بھی کہنا تھا کہ میں محنت مزدوری کرتا تھا مگر میرا کام تباہ ہوگیا اور میں مقروض ہو گیا مجھے انصاف ملنے کی کوئی توقع نہیں کیونکہ میں غریب ہوں میری کوئی سننے والا نہیں،اس نے کہا کہ آج میری تاریخ ہے مگر میں اپنی موت سے قبل ہربات سچ سچ بتارہا ہوں کہ میری موت کے ذمہ دار اخترارائیں اور نیئراعوان ہیں۔

اس واقعہ کے بعد پنڈدادنخان شہر میں احتجاجی ریلی نکالی گئی جس میں نوجوانوں اور سیاسی سماجی کارکنوں نے بھرپور شرکت کرتے ہوئے مرحوم کے بھائیوں کے ہمراہ وزیر اعظم عمران خان ،وزیر اعلی پنجاب ،وفاقی وزیر فواد چوہدری ،آر پی او اور ڈی پی او جہلم سے بھرپور مطالبہ کیا ہے کہ واقع میں ملوث بااثر لوگوں کے خلاف شفاف انکوائری عمل میں لائی جائے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.