کالم و مضامین

ضلع جہلم کی سیاست

تحریر: سید لعل بخاری

ضلع جہلم کا شُمار کچھ عرصہ قبل تک مسلم لیگ نواز کے نا قابل تسخیر حلقوں میں ہوتا تھا مگر 2018 کے انتخابات کے بعد پاکستان تحریک انصاف اس ضلع میں انتہائی مضبوطی سے اپنے قدم جما چکی ہے 2018 ء میں PTI کے حق میں آنے والی لہر سے ضلع جہلم بھی محفوظ نہ رہا۔

جہلم کے اندرون شہر والے حلقے میں اس وقت سابق ناظم جہلم چوہدری فرخ الطاف جبکہ پنڈ دادنخان کھیوڑہ ودیگر علاقوں پر مشتمل حلقہ این اے 67 میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری ممبر قومی اسمبلی کی حیثیت سے موجود ہیں، ضلع جہلم کی خوش قسمتی ہے کہ اسے پہلی دفعہ فواد چوہدری جیسے سیاسی قد کاٹھ والا شخص نمائندگی کے لیے ملا ہے۔

یہ نمائندگی فواد چوہدری کے لئے بھی بہت بڑا چیلنج ہے فواد چوہدری نے اس عرصہ میں ملکی سطح پر اپنی جو پہچان بنائی ہے، اس کا فائدہ ضلع جہلم کے پسماندہ علاقوں کو ہو بھی رہا ہے اور مزید بھی ہونا چاہیے حلقہ این اے 67 میں جلالپور نہر اور للِہ جہلم تا دو رویہ سڑک میگا پراجیکٹس فواد چوہدری کی کوششوں کا ثمر ہیں مگر ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

جہلم کے ان دونوں حلقوں کی محرومیاں دور کرنے میں ابھی ایک لمبی جدوجہد کی بحر حال ضرورت ہے، ان حلقوں میں اب بھی کچھ مسائل ہیں جو زیادہ توجہ کے متقاضی ہیں جنہیں ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے، سرفہرست مسئلہ پانی کی کمی ہے، بہت سے علاقوں میں لوگ اس مسئلے کی وجہ سے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ اسی طرح تحصیل پنڈدادنخان میں واقع ڈنڈوت سیمنٹ فیکٹری کی بندش سے ہزاروں مزدور بے روزگار ہو کر فاقہ کشی پر مجبور ہیں، اس معاملے پر فواد چوہدری کی زیادہ توجہ کی ضرورت ہیں۔

پچھلے دنوں کھیوڑہ میں فواد چوہدری کی آمد کے موقع پر PTI ایک بڑا پاور شو کرنے میں کامیاب رہی ہے مگر اس موقع پر ڈنڈوت سیمنٹ کے معاملے میں اس طرح بات نہیں کی گئی جس طرح لوگ فواد چوہدری سے توقع رکھتے ہیں، فواد چوہدری اور فرخ الطاف کو جینوئن لوگوں سے روابط رکھنے ہونگے تاکہ انہیں علاقہ کے مسائل سے آگاہی رہے کاٹن گروپ اور سیلفی مافیا کے حصار سے نکلنا ہوگا یہ لوگ صرف اسی وقت ساتھ ہوتے ہیں جب تک اقتدار ہو۔

فواد چوہدری اور فرخ الطاف کو عوامی مسائل کے ادراک کے لیے علاقوں کے مسلسل دورے کرنے ہونگے اگر محنت نہ کی گئی اور عوام کی نبض پر ہاتھ نہ رکھا گیا تو مسلم لیگ نواز گروپ کسی بھی وقت کم بیک کر نے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کا نظارہ تحصیل پنڈدادنخان کے صوبائی اسمبلی کے ضمنی انتخاب میں PTI کی شکست کی صورت میں کیا جاچکا ہے۔

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button