کھیوڑہ میں رمضان کے مقدس ماہ کا احترام کئے بغیر گلی محلوں میں قلفیاں بیچنے والے بے لگام ہو گئے

0

ضلع جہلم کے دوسرے بڑے شہر کھیوڑہ میں رمضان کے مقدس ماہ کا احترام کئے بغیر گلی محلوں میں قلفیاں بیچنے والے بے لگام ،مصنوعی دودھ اور کیمیکل سے تیار شدہ قلفیوں کی فروخت تحصیل بھر میں دھڑلے سے جاری ،ناقابل برداشت ہوٹر کی آواز سے عبادت میں مصروف نمازی و روزے دار طلبا و طالبات اور مریض بری طرح متاثر ہوتے ہیں، صبح سے رات گئے تک شہر بھر کے گلی محلوں میں سرعام دندناتے پھرتے ہیں، انتظامیہ سے اصلاح و احوال کا مطالبہ۔

تفصیلات کے مطابق ضلع جہلم کے دوسرے بڑے شہر کھیوڑہ اور گرد و نواح میں کئی سالوں سے کیمیکل فلور سے بنی ہوئی مختلف رنگوں کی زہریلی قلفیاں لال رنگ کے فائبر باکس میں موٹر سائیکل سوار گلی محلوں سکولوں میں مقدس ماہ رمضان کے تقدس کو پامال کرکے ا ونچی آواز کا ہوٹر سے جس کی آواز پچاسی ڈیسی سے بھی بہت زیادہ ہے جوکہ قوت سماعت کے لیے بھی انتہائی نقصان دہ ہے بیج رہے ہیں۔

رات دن یہ لوگ معصوم بچوں میں اس کیمیکل سے بیماریاں پھیلا رہے ہیں۔اور ان زہریلی قلفیوں کے کارخانے پوری تحصیل میں موجود ہیں۔ مقامی انتظامیہ کی غفلت لاپرواہی سے آج تک ان کار خانوں کو بند نہیں کیا گیا۔ ناقابل برداشت ہوٹر کی آواز سے عبادت میں مصروف نمازی و روزے دار طلبا و طالبات اور مریض بری طرح متاثر ہوتے ہیں اور اس آواز سے بلڈ پریشر میں اضافہ اور قوت سماعت کو شدید نقصان ہوتا ہے ۔

ذرائع کے مطابق اگر کسی ایماندار آفیسر سے ان کے خلاف تحقیقات کروائی جائے تو سنسی خیز انکشافات کی توقع ہے کہ اس گھناؤنے کاروبار کی سر پرستی کون کر رہا ہے اور ان کو آج تک قانون کے کٹہرے میں لا کر عبرت ناک سزا کیوں نہیں دلائی گئی۔

عوامی سماجی مذہبی رہنماؤں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ان زہریلی قلفیوں کی فروخت پر پابندی لگائی جائے اور اس کاروبار میں ملوث عناصر کے خلاف قانونی کاروائی کر کے ان کارخانوں کو فوری بند کیا جائے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.