دینہاہم خبریں

اپو زیشن کو اپنی دوائی کا مزہ آگیا ہو گا، پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ ایک دوسرے پر شک کر رہے ہیں۔ فواد چوہدری

دینہ: فواد چوہدری نے کہا کہ اپو زیشن کو اپنی دوائی کا مزہ آگیا ہو گا، انہوں نے اپنے لو گوں کو خاص طریقے سے مہریں لگانے کا کہا ، پیپلز پارٹی اور (ن)لیگ ایک دوسرے پر شک کر رہے ہیں یہ سیاسی جماعتیں چوں چوں کا مربع ہیں ان کی سوچ ایک دوسرے کے ساتھ نہیں ملتی یہ لوگ عمران خان کی دشمنی میں ایک ہوئے ۔

وفاقی وزیر سائنس ٹیکنالوجی فواد حسین چوہدری نے دینہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ڈی ایم کا جواب تک سیاست میں برا حال ہوا ہے میرا خیال ہے کہ لانگ مارچ کے اوپر نظر ثانی کریں لانگ مارچ سے حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑنے والا آئیں بڑے اصلاحات کے اوپر مل بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اللہ پاک نے صادق سنجرانی اور مرزا محمد آفریدی کو بڑی کامیابی دی ہے سینٹ وفاق کی علامت ہے، وزیر اعظم عمران خان نے جو گلد ستہ بنایا ہے جس میں سارے صوبے کے لوگ شامل ہیں، آج بلو چستان سے صادق سنجرانی آئے ہیں وہ عمران خان کا ویژن وفاق کا اظہار ہے، پی ٹی آئی ایک وفاق کی پارٹی ہے باقی سب ریجن کی پارٹیاں ہیں سینٹ میں اٹھا کر دیکھیں پیپلز پارٹی کا سندھ کے باہر مسلم لیگ (ن) کا پنجاب کے باہر کوئی سینیٹر نہیں ہے اسی طرح باقی پارٹیاں ریجن کی نمائندگی کرتی ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ صرف پی ٹی آئی واحد جماعت ہے جس کے پورے پاکستان کے سینیٹر موجودہیں ہم نے جو حکومت بنائی اس میں سارے پاکستان کا رنگ ہیں وہ آپ کو نظر آتا ہے بڑی خوشی کی بات ہے کہ صادق سنجرانی جیتے ہیں اپوزیشن کو اپنی دوائی کا مزہ جو آگیا ہو گا اب وہ سوچیں گے جو عمران خان کہہ رہے تھے آئیں مل کر وہ کام کرتے ہیں جس سے الیکشن شفاف ہو یعنی اوپن الیکشن کی طرف جانا چاہئے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ اپو زیشن کو ان باتوں سے سبق سیکھنا چاہئے جس طرح انہوں نے اپنے لوگوں کو کہا کہ خاص طریقے سے مہریں لگائی جائیں کہ ان کو پتہ چل سکے کہ کس نے کس کو ووٹ دیا ہے اگر آپ کو اپنے لوگوں پر ہی کوئی اعتبار نہیں اور 24گھنٹے ہم نے اسی پر لگا رہنا ہے کہ ہمارے اپنے لو گ کدھر ہیں پھر آپ نے گورننس کی کرنی ہے یا سیاست کیا کرنی ہے لہٰذا پاکستان میں اہم ہے کہ وزیر اعظم کا ویژن ہے کہ آگے بڑہیں اور سینٹ کے الیکشن کو شفاف بنائیں اس کے بعد واضع ہو گیا ہے کہ الیکشن کے طریقے کارمیں تبدیلی لائی جائیں یہ معاملہ کبھی بھی صاف نہیں ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ بلاول اور طلال چوہدری کا اپنا معاملہ ہے لیکن پیپلز پارٹی کو لگ رہا ہے کہ (ن)لیگ نے یو سف رضا گیلانی کو چیئر مین نہیں بننے دیااور (ن)لیگ پیپلز پارٹی کے اوپر شک کر رہی ہے کہ سب جماعتیں چو ں چوں کا مربع ہیں ان کی سوچ کسی دوسرے سے نہیں ملتی لہذا جب بھی بات آتی ہے کہ سب جماعتیں عمران خان کی دشمنی میں اکٹھی ہو جاتی ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ان کا سیاست میں کو ئی مستقبل نہیں ہے بہر حال عدالتوں میں جائیں جب اپنے لوگوں کو کہیں کہ مخصوص طریقے سے وو ٹ ڈالیں جو آرٹیکل 226کی خلاف ورزی پر لو گوں کو اکسائیں پھرآپ کیسے ریلیف کا کلیم کر سکتے ہیں عدالتوں سے اس کیس میں کچھ نہیں ملنا۔

انہوں نے مزید کہا کہ صادق سنجرانی کا چیئر مین اور مرزا محمد آفریدی ڈپٹی چیئر مین اسی اصول کو مان کر اپو زیشن آگے چلیں اور آئیںاصلاحات کی طرف قدم بڑھائیں یہ لڑائیاں تو ختم ہی نہیں ہوتیں26مارچ کو لانگ مارچ سے حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑے گا عوام ان کے کہنے پر باہر نہیں نکلے گی پی ڈی ایم رسوا ہو کر رہ جائے گی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button