جہلم

سول ہسپتال جہلم کی تزئین آرائش مریضوں اور ڈاکٹروں کیلئے درد سر بن گئی

جہلم: سول ہسپتال کی تزئین آرائش مریضوں اور ڈاکٹروں کیلئے درد سر بن گئی، جگہ کی کمی کے باعث ایک دوسرے کو دھکے دینے پر مجبور، ٹھیکیدار سکون کی گولی کھا کر محو ہو گیا، وزیر اعلی پنجاب سے فوری نوٹس کا مطالبہ۔

تفصیلات کے مطابق سول ہسپتال میں ضروری مشینری خریدنے کی بجائے پہلے سے بنی دیواریں کو ڈیزائن کرنے کے نام کروڑوں روپے کی رقم ضائع کرنے کا منصوبہ اپنی تکمیل سے کوسوں دور ہے گزشتہ چار سے پانچ ماہ سے جاری آرائش کے نام پر تمام ہسپتال کے وارڈز کے دروازے ، کھڑکیاں ادھیڑ کر رکھ دی گئی ہیں جبکہ کئی ایک کمروں کو مستقل بند کر کے کچرا اور میٹریل وہاں جمع کر دیا گیا ہے سول ہسپتال جہاں روزانہ دو سے تین ہزار افراد علاج کی غرض کی آتے ہیں وہاں اب مریضوں کیلئے جگہ ہی باقی نہیں رہی۔

چند ایک کمروں میں پورے ہسپتال کے ڈاکٹرز ہزاروں مریضوں کو تنگ جگہوں پر چیک کرنے پر مجبور ہیں جبکہ کئی کمروں میں دو سے چار ڈاکٹروں کے لئے مخصوص کر کے کئی اقسام کے مریضوں کو شدید ذلیل وخوار کرنے کی پالیسی عروج پر پہنچ گئی ہے۔

دوسری طرف ہسپتال کا آرائشی کام کرنے والی فرم کے ٹھیکیدار نے بھی منصوبہ کو بیس سال کا عرصہ تکمیل بناتے ہوئے انتہائی سست رفتاری سے کام شروع کر رکھا ہے ہسپتال آنے والے مریض جو پہلے ہی اپنی بیماری کے ہاتھوں تنگ ہوتے ہیں یہاں آ کر وہ رش میں مزید خوار ہتے ہیں۔

ہسپتال انتظامیہ اور ایم ایس نے حسب معمول مریضوں کے رش کو ہینڈل کرنے یا کام کی رفتار چیک کرنے کی طرف کوئی توجہ نہ دینے کا عہد کر رکھا ہے ایم ایس چور دروازے سے آکر دفتر بیٹھ جاتے ہیں اور وہیں سے چپکے سے نکل جاتے ہیں ان کو مریضوں کے ساتھ ہونے والے سلوک اور مشکلات سے کوئی لینا دینا نہیں۔

مریضوں کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں اہم مشینری کی شدید کمی ہے شہر کا سب سے بڑا ہسپتال خیرات زکوۃ کے پیسوں سے خریدی گئی مشینری کے سہارے چل رہا ہے پنجاب حکومت ہسپتال کے اندر سہولیات فراہم کرنے کی بجائے میک اپ کو کروڑوں روپے ضائع کررہی ہے اور وہ کام بھی انتہائی سست رفتاری اور غیر ذمہ داری سے کیا جا رہا ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button