جہلم

نہ پاسنگ، نہ ٹوکن، نہ اشارے اور نہ روٹ پرمٹ، کم عمر رکشہ ڈرائیورز سڑکوں پر موت بانٹنے لگے

جہلم: نہ پاسنگ نہ ٹوکن نہ اشارے نہ روٹ پرمٹ کم عمر رکشہ ڈرائیورز سڑکوں پر موت بانٹنے لگے، 5مسافروں کی جگہ 7سواریاں بٹھائی جانے لگیں ،حادثات روزانہ کا معمول ،آر ٹی اے سیکرٹری، موٹر وہیکل ایگزمینر خاموش تماشائی، سرکاری خزانے پر بوجھ، ارباب اختیار سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔

تفصیلات کے مطابق شہر و گردونواح میں کم عمر رکشہ ڈرائیوروں کی بھرمار ہونے سے آئے روز حادثات رونما ہو رہے ہیں جس کی بنیادی وجہ آر ٹی اے سیکرٹری اور موٹر وہیکل ایگزمینر کے دفتر غیر فعال ہونا ہے ، متعلقہ ذمہ داران کی عدم دلچسپی کیوجہ سے شہر میں سڑکوں پر رقص کرتے رکشوں کی نہ تو ہر 6 ماہ بعد پاسنگ کی جاتی ہے نہ ہی رکشہ ڈرائیوروں نے ٹوکن لگوائے ہوئے ہیں۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ اندرون شہر اور ملحقہ علاقوں میں مسافروں کی سہولت کے لئے سڑکوں پر رواں دواں رکشوں کے نہ تو اشارے ہیں اور نہ ہی روٹ پرمٹ ، قابل زکر امر یہ ہے کہ انتہائی کم عمر رکشہ ڈرائیور جن کے رکشے 5 مسافر بٹھانے کے پاس ہیں میں 7 مسافروں کو ٹھونس کر ان کی جیبوں کا صفایا کیا جا رہاہے ۔ کم عمر رکشہ ڈرائیوروں کیوجہ سے حادثات روزانہ کا معمول بن چکے ہیں۔

شہریوں نے احتجاج کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ کم عمر رکشہ ڈرائیورں کے خلاف متعدد بار آرٹی اے سیکرٹری ، موٹر وہیکل ایگزامینر ٹریفک پولیس کو آگاہ کیا گیا مگر متعلقہ ذمہ داران کی سرپرستی کیوجہ سے رکشہ ڈرائیور دیدہ دلیری کے ساتھ موت باٹنتے نظرآتے ہیں ۔

شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب ، چیف سیکرٹری پنجاب ، کمشنر راولپنڈی ، ڈپٹی کمشنر / ڈی پی او ، ڈی ایس پی ٹریفک سے مطالبہ کیا ہے کہ قانون کے ساتھ کھلواڑ کرنے والے ڈرائیورں کی پشت پناہی کرنے والے ذمہ داران کے خلاف انکوائری کروا کر ضلع بدر کرنے اور ڈرائیوروں کے خلاف فوجداری مقدمات درج کئے جائیں تاکہ حادثات میں کمی واقع ہو سکے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button