محکمہ مال میں اندھیر نگری، پٹواریوں نے گرداوری کا اندراج بند کر کے فیس مقرر کردی ہیں، عامر راجپوت

0

جہلم: محکمہ مال جہلم میں کمپیوٹرائزڈ لینڈ ریکارڈ سسٹم کے بعد کرپشن میں کمی ہوئی اور عوام کو سہولت میسر آئی ہے لیکن پٹواریوں اور اے ڈی سی آر کے دفتر کے کلرکوں کی ملی بھگت سے اب بھی سائلین کو ذلیل و خوار کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

یہ بات ممبر ڈسٹرکٹ بار جہلم رئیس عامر ایڈووکیٹ نے بتائی۔ انہوں نے بتایا کہ پٹواری جان بوجھ کر گرداوری کا اندراج نہیں کرتے، شہریوں کو اے ڈی سی آر دفتر سے پٹواریوں کی طرف ریفر کر کے رپورٹ طلب کی جاتی ہے اور رپورٹ بنانے کے من مانگے پیسے پٹواری وصول کرتے ہیں جس کے بعد اے ڈی سی دفتر والے وہی رپورٹ تحصیلدار سے لانے سے کہہ دیتے ہیں جہاں دوبارہ پیسے دینے پڑتے ہیں جس کی وجہ سے سائلین کے ہزاروں روپے خرچ ہو جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گرداوری والے معاملات اگر پٹواریوں اور ریڈرز نے ہی حل کرنے ہیں اراضی سنٹر بنانے کا کیا مقصد ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم کمشنر راولپنڈی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ریڈرز اور پٹواریوں کے اس کرپٹ نیٹ ورک کوتوڑنے کیلئے فوری نوٹس لیں اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے صرف تحصیلدار کی رپورٹ پر اے ڈی سی دفتر کو آرڈر جاری کرنے کا پابند کیا جائے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.