پی پی 27 کے مسائل کا ذمہ دار کون

تحریر: چوہدری زاہد حیات

0

پنڈدادنخان کی اگر آپ پوری تحصیل کا سفر کریں تو آپ کے علم میں یہ بات آئے گی کہ اس تحصیل میں سڑکیں غالباً قیام پاکستان سے پہلے کی بنی ہیں اور دوبارہ کبھی ان کی مرمت اور تعمیر کی زحمت نہیں کی گئی اکثر گاؤں اور حتی کہ پنڈدادن خان شہر کی گلیاں سے گزرنا اور مونٹ ایورسٹ سر کرنا تقریباً برابر ہے ۔

گرمی ہو تو اہل پنڈدادن خان پانی کی بوند بوند کو ترسنے لگتے غرض مسائل کا ایک انبار ہے جو اس تحصیل کے حصے میں آیا ہے پچھلے 30 سال میں یہ تحصیل آگے بڑھنے کی بجائے پچھے ہٹی ہے۔اب اس تحصیل کے مسائل کے حل کے لیے عملی طور پر کوششوں کا آغاز کر دیا گیا ہے اور بلاشبہ چوہدری فواد خلوص دل سے مسائلِ کے حل کے لیے پیش قدمی کر رہے ہیں۔

سوچنا یہ ہے کہ یہ مسائلِ کی یہ اتنی گھمبیر صورتحال پیدا کیوں ہوئی۔ اس کے لیے آپ کو پنڈدادن خان شہر اور یونین کونسلز کے لیڈران کا طرز عمل دیکھنا ہو گا کہ ان کی سیاست کا مقصد اور محور کیا رہا۔کیا ان کی سیاست کا مقصد مسائل کا حل تھا۔کیا ان کا مقصد پنڈدادن خان کو مسائل سے نکلوانا تھا۔ ان کی طرز سیاست دیکھ کر ہر گز بھی یہ نہیں لگتا کہ ان لوگوں کو مسائل کے حل سے دلچسپی تھی یا ان کا کوئی سیاسی نظریہ ہے۔

یہ ایک تلخ حقیقت کہ ماضی قریب میں مقامی سیاست مسائل کی بجائے دھڑے بندی اور تھانہ کہچری کے گرد گھومتی رہی جس کی وجہ سے یہ تحصیل مسائل سے دوبار ہوتی گئی۔مقامی سیاست دانوں نے اپنے اپنے علاقوں کے مسائلِ کبھی بھی سنجیدگی سے احکام تک پہنچائے کی کوشش ہی نہیں کی۔بلکہ یہ انتہائی بدقسمتی کی بات کہ یہ لوگ چوکی انچارج اور پٹواری کے تبادلے کی سیاست کرتے رہے ہماری تحصیل کے مسائلِ کے ذمہ دار نہ ن لیگ نہ تحریک انصاف نا کوئی اور بلکہ ہم خود تھے اور ہیں اور ہمارے مقامی سیاست دان ہیں۔

مجھے شہباز شریف کا وہ بیان آج بھی یاد کہ پنڈدادن خان کے مسائل کبھی ہمیں بتائے ہی۔ نہیں گئے اس اندازہ کر لیں ہمارے مقامی لیڈروں کی سنجیدگی اور اہلیت کا۔بدقسمتی سے یہ بات بھی ایک ثابت شدہ امر ہے کہ اکثر مقامی سیاست دان اقتدار پارٹی کو ہی سپورٹ کرتے لیکن پھر بھی تحصیل پسماندہ کی پس ماندہ 2016کے ضمنی انتخابات میں بلدیات میں ایک دوسرے سے لڑنے والے ن لیگ کی حمایت میں ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے کیونکہ اس وقت ن لیگ کی حکومت تھی پھر جنرل الیکشن 2018 یہی لوگ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ قطار در قطار کھڑے ہو گئے۔

اس وقت بھی مقصد اقتدار میں رہنا تھا اب بھی مقصد اقتدار میں رہنا۔لیکن کیا اب ان سیاست دانوں پر دونوں بڑی پارٹیاں یقین رکھیں گی کہ یہ ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ بالکل بھی نہیں ان کے اس طرز عمل نے ان کا سیاسی قد آور آواز دونوں کو پست کر دیا ہے جس کی وجہ سے اب اور ماضی قریب میں ان کو شاید سنجیدگی سے لینا چھوڑ دیا ہے۔اگر یہ سیاستدان اکثر مقامی سیاست دان اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کے عادی ہوتے اپنے اصولوں اور نظریات کے پائیدار ہوتے تو شاید تحصیل کی یہ حالت نہ ہوتی۔

نا اہل پنڈ دادنخان پنجاب کی پسماندہ ترین تحصیل کا درجہ حاصل کرتی یہ ایک تلخ حقیقت کہ پنڈدادن خان کے 90فیصد سیاست دان عوامی مسائلِ کے لیے نہیں آپنے مسائل کے حل کے لیے سیاست کرتے اگر وہ عوامی مسائل کے حل کے لیے سیاست کرتے تو ہماری تحصیل کی اتنی دگرگوں حالات کبھی نہ ہوتے، موجودہ جہلم اور پنڈدادن کی قیادت میں بہت سے مثبت اشارے ہیں مسائل کے حل کے لیے ایک نئی حکمت عملی پر عمل کیا جا رہا دیکھا جا رہا کہ جہلم کی انتظامیہ ہفتے میں چار چار چکر لگا رہی پنڈدادنخان کے ڈاکٹروں کا مسئلہ حل ہو انشاء اللہ مجھے پوری امید کہ ان گرمیوں اھل پنڈ دادنخان ہانی کے مسلئے سے بھی چھٹکارا پا لیں گے۔

چوہدری فواد کی مسائل کے حل کے لیے سمت اور حکمت عملی دونوں درست لیکن سوچنا یہ کہ ہمارے مقامی سیاست دان کب اصولوں اور خدمت کی سیاست شروع کرتے ہیں۔ یہ بے اصولی اور اقتدار کی سیاست جو مقامی لیڈروں کا خاصہ رہی۔اسی نے تحصیل کا بیڑا غرق کر دیا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.