دینہ

اللہ کریم کو قربانی کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا بلکہ ہمارا تقوی پہنچتا ہے۔ امیر عبدالقدیر اعوان

دینہ: حضرت ابراہیم ؑ کو اپنا بیٹا ذبح کرتے وقت تقوی کی جو کیفیت نصیب ہوئی اللہ کریم نے اُمت محمد ی ﷺ پر آسانی پیدا فرما دی کہ تم جانورذبح کرو اور اس میں شوق اور محبت اس قدر ہو کہ تمھیں بھی تقوی کی اُس کیفیت سے کوئی ذرہ نصیب ہو جائے ،اللہ کریم کو قربانی کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا بلکہ ہمارا وہ تقوی پہنچتا ہے جو اُس قربانی کے عمل میں نصیب ہوتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ امیر عبدالقدیر اعوان نے ایک اجتماع کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا ،انہوں نے کہا کہ قربانی اس لیے نہیں کی جاتی ہے کہ یہ سنت ابراھیمی ہے بلکہ اس لیے کی جاتی ہے کہ سنت محمد الرسول اللہ ﷺ ہے اللہ کریم کو حضرت ابراھیم ؑ کا یہ عمل اتنا پسند آیا کہ اس کو شریعت محمدی ﷺ میں بھی جاری رکھا ہم شریعت محمد ی ﷺ کے مکلف ہیں ہم قربانی اس لیے کر رہے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے قربانی فرمائی اور صاحب حیثیت کو کرنے کا حکم دیا۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے قربانی کو بھی رواجات کی نظر کر دیا تو کیا حاصل ؟ کہ لوگوں کو پتہ چلا کہ اس نے کتنے جانور قربان کیے یا کتنا مہنگا جانور قربان کیا ،مقصد لوگوں کو خوش کرنا نہیں بلکہ اللہ کی رضا ہونا چاہیے ،آج معاشرے میں کچھ لوگ ایسے بھی پائے جاتے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ اتنی قربانی ہوتی ہے اگر یہی رقم غریبوں میں تقسیم کر دی جائے تو کتنے لوگوں کا بھلا ہو یہ ایسے لوگ ہیں جو اللہ اور اللہ کے نبی ﷺ کے حکم کے سامنے اپنی رائے کو معتبر جانتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بات اتنی سی ہے کہ کوئی بھی عمل جو حکم ہے کرنے کا وہ کیوں ؟ صرف اس لیے کہ اللہ کا حکم ہے بس بات ختم ،اللہ کے حکم کے سامنے کیوں اور کیسے کی گنجائش نہیں،اگر غریبوں کی مدد کرنی ہے تو دین کے حکم کو ختم کر کے ہی کیوں ویسے جو ذاتی خرچ ہے اس میں سے جتنی مرضی غریبوں کی مدد کریں سارا سال کرتے رہیں،اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں ،آخر میں انہوں ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button