کالم و مضامین

فیس بک کے باؤلے اور نفرتوں کا طوفان

ایک روز میں ٹی وی پر ایک سیاستدان کو سن رہا تھا تو میرے پیچھے سے میرے دوست نے مجھے یہ کہہ کر ٹوکا کہ اسے نہ سنودماغ خراب ہو گا، میں نے مسکرا کر اس کی بات سنی ان سنی کر دی کیونکہ میں جانتا تھا کہ وہ بھی عدم برداشت کا شکار ہے اور اپنے مخالف کو سننا پسند نہیں کرتا۔

میرے ایک دوست فیس بک بہت استعمال کرتے ہیں ایک دن میں نے ان سے پوچھا کہ اس سے کیا فائدہ ہوتا ہے ؟ تو کہنے لگے کہ ہم اپنی بات دوسروں تک پہنچاتے ہیں تو میں نے اگلا سوال یہ پوچھا کہ بتاؤ تمہارے دوستوں کی فہرست میں کون کون شامل ہے ؟بڑے فخر سے بتانے لگے کہ سب میرے ہم خیال دوست ہیں میں نے ہر نئے شخص کو بلاک کر رکھا ہے۔

میں نے مسکرا کر کہا کہ تو اس طرح تم اپنے دوستوں اور ہم خیال لوگوں تک اپنی بات پہنچا رہے ہو جو پہلے ہی تمہارے ہم خیا ل ہیں ۔ اپنے کنویں میں ٹرٹر کرکے اور خود کو عدم برداشت کے خو ل میں بند کر کے ہم یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم دنیا کے خیالات کو بدل رہے ہیں توہم شاید کسی اور کو نہیں خود کودھوکہ دے رہے ہیں

ہم وہی کچھ پڑھتے ہیں جوہم کو اچھا لگتا ہے اور ہم وہی کچھ سنتے ہیں جو ہم سننا چاہتے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ہماری بات سنیں لیکن ہم خود کچھ بھی سننے کو تیار نہیں ، جہاں کوئی آپ کی ہاں میں ہاں ملائے گا اسے اپنا دوست اور جہاں کوئی نفی کرئے اسے اپنا دشمن گرداننا شروع کر دیا، سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ یہ عدم برداشت سے چھٹکار اممکن ہے بھی کہ نہیں ؟

اسلام نے برداشت کا سبق آج سے چودہ سو سال پہلے دیا تھا اور صرف سبق ہی نہیں بلکہ ثابت کر کے دکھایا تھا وہی عرب جو صدیوں سے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے آپس میں انصار و مہاجر کی لڑی میں پرو گئے کہ رہتی دنیا تک مثال ہیں فتح مکہ کے نقلاب کی مثال ہمارے لئے برداشت کا وہ نمونہ یہ جو دنیا نے آج تک نہیں دیکھا ، جہاں فتح مکہ کے بعد عام معافی کا اعلان کر دیا گیا ۔

نیلسن منڈیلا 27سال انگریزوں کی قید میں رہے ، چھ سال قید تنہائی میں انہوں نے نہ باہر کی کوئی آواز سنی نہ آسمان دیکھا یہ ایک ایسی قید تھی کہ جس کا تصور بھی محال ہے کجا کہ معافی کا سوچا جائے ، لیکن نیلسن نے اس قید سے باہر آتے ہی ان سب لوگوں کو معاف کر دیا جنہوں نے ان پر مظالم ڈھائے تھے۔

انہوں نے اقتدار میں آتے ہی نہ صرف انگریز عملہ اپنی جگہ بحال رکھا بلکہ اپنی سکورٹی کے لئے بھی تعینات کیا جو انتہائی مشکل فیصلہ تھا لیکن انہوں نے اپنی برداشت سے یہ سب کر دکھایا ، عدم برداشت وہ بیماری ہے کہ جس کا تریاق اپنے زہر کے اندر ہے اگر آپ میں عدم برداشت ہے تو آپ اپنے مخالفین کو سننا شروع کردیں جس حد تک سن سکتے ہیں۔

اپنی باری کاحق چھوڑ کر دوسروں کو باری دینا شروع کر دیں جس نے آپ کے ساتھ زیادتی کی ہے کم از کم آپ دل میں اس کو معاف کردیں پھر دیکھئے آپ میں برداشت کی قوت میں اضافہ ہونا شروع ہو جائے گا آغاز میں یہ تھوڑا مشکل ضرور ہو گاہ لیکن میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ جیسے جیسے آپ آگے بڑھتے جائیں گے آپ کی طاقت میں روز بروز اضافہ ہوتا جائے گا یاد رکھئے عدم برداشت کی بیماری دوسروں کوکم آپ کو زیادہ نقصان پہنچاتی ہے ۔

میں عرصہ درازسے سوشل میڈیا پرعدم برداشت کی ایک ایسی جنگ دیکھ رہا ہوں جس کے کرداروں کے کردار کی نفرت آمیز گفتگو نے اردگرد کے حلقہ احباب کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

اس جنگ میں ہمارے ملک کا وہ طبقہ بھی شامل ہے جو اپنے ماتھے پر ’’سیاست عبادت‘‘ کا لیبل لگائے ہوئے ہے اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اپنے تائیں ’’سماج سیوک‘‘ہونے کے دعویدار ہیں۔ان میں وہ اسلام کے وہ ٹھیکیدار بھی شامل ہیں جو اسلام کی تعلیمات کا ڈنکا تو بجاتے ہیں مگر خود عمل کرنے سے ایسے دور بھاگتے ہیں جیسے بعض دواؤں پہ ’’ بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں‘‘ کا انتباہ کیا جاتا ہے ۔

سب کے سب اپنی اپنی بولیاں اپنی اپنی ٹولیوں کی صورت میں ’’ بے سرکے راگ ‘‘ آلاپ کر ہر طرف نفرت کے بیج بو رہے ہیں۔ فیس بک کا مطب چہرے کی کتاب ہو سکتا ہے ’’ چہرے کھلی کتاب ہوتے ہیں‘‘ کے مصداق پڑھنے والے پڑھ لیا کرتے ہیں۔ ان کی گفتگو سے انکے بھیانک چہرے بے نقاب ہو رہے ہیں ۔

ایک دوسرے پر نہ صرف الزام تراشی کے تیر برسائے جا رہیں ہیں بلکہ اب تو نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ یہ لوگ ایک دوسرے کے خاندانوں کی ماؤں بہنوں کی عزتوں کو بھی سوشل میڈیا کی زینت بنا کر اپنے اپنے مکروہ چہروں پر خود تھپڑ مار رہے ہیں۔پڑھے لکھے جاہلوں کے یہ ٹولے معاشرتی بے راہ روی کو فروغ دے رہے ہیں ۔

کب تک یہ فیس بکیے باؤلے نفرتوں کو ہوا دیتے رہیں گے شاید اس سوال کا جواب ملنے میں بہت دیر ہو جائے۔

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close