ریاست مدینہ کی باتیں کرنیوالے جنگل کے قانون کا نقشہ پیش کررہے ہیں۔ محمد عبداللہ گل

0

کھیوڑہ: سانحہ ساہیوال داعش کے دہشت گردوںسے اسلحہ کی بجائے ’’دود ھ پینے والے فیڈر‘‘ بر آمد کرنے پر پولیس کی کارکردگی کو پوری قوم دیکھ چکی ہے خدشہ ہے کہ پنجاب پولیس اور جے آئی ٹی شادی والے سامان سے بھرے بیگ میں سے بارود اور بم برآمد نہ کردے ، ریاست مدینہ کی باتیں کرنیوالے جنگل کے قانون کا نقشہ پیش کررہے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار محمد عبداللہ حمید گل (چیئرمین) تحریک جوانان پاکستان و کشمیر نے سانحہ ساہیوال کی شدید مذمت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نےہمارے نمائندہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سیکورٹی اداروں کے ہاتھوں اسطرح عوام الناس کا قتلِ عام تحریکِ انصاف کی حکومت پر سوالیہ نشان ہے۔

انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی زیرنگرانی بنائی جائے ایک پولیس آفیسر کی سربراہی میں بنائی گئی جے آئی ٹی پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ آج تک کسی پولیس والے کو عدالتوں سے سزا نہیں ہوئی۔ سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور پر تو ضرب عزم شروع کی جا سکتی ہے تو سانحہ ساہیوال پر ایک غیر جانبدار جے آئی ٹی نہیں بنائی جا سکتی وزیر قانون راجہ بشارت کی پریس بریفنگ کے بعد قوم کا آئی جی پنجاب اور حکومت پنجاب سے اعتماد اٹھ چکا ہے ۔

محمد عبداللہ حمید گل نے کہا کہ ریاست مدینہ کی باتیں کرنیوالے جنگل کے قانون کا نقشہ پیش کررہے ہیں ۔جے آئی ٹی مکڑی کا جالا ثابت ہوگی جس میں راؤ انوار کی طرح پنجاب پولیس اپنے پیٹی بھائیوں کو دودھ کا دھلا ثابت کردیگی شادی کے سامان والے بیگ کو بارود سے بھر دیا جائیگا ، داعش کے دہشت گردوں سے اسلحے کی جگہ دودھ پینے والے فیڈر برآمد ہوئے پوری قوم نے دیکھا ہے ، شکرہے کہ آج ہر شخص کے پاس کیمرے والا موبائل ہے ورنہ پولیس نے تو اندھیر نگری سمجھ کر نہتے شہریوں کو جان سے مار ڈالے، عینی شاہدین کی ویڈیوز پوری دنیا میں پھیل چکی ہیں جو کہہ رہے ہیں کہ گاڑی سے کوئی فائرنگ نہیں کی گئی۔

انہوںنے کہا کہ اعجاز شاہ جو جے آئی ٹی کے سربراہ ہیں نے تیس دنوں میں رپورٹ جمع کرانے کا عندیہ دیا ہے جس کا مطلب ہے وہ اپنے پیٹی بھائیوں کو ہر ممکن بچانے کی کوشش کر رہے ہیں لگتا ہے سی ٹی ڈی کے جس عہدے دار نے آپریشن کو حکم دیا تھا وہ بہت بااثر ہے اور اس کی سیاسی پشت پناہی ہے جس کی وجہ سے جے آئی ٹی کی رپورٹ میں تاخیر کی جارہی ہے اب چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ پر پوری قوم کی نظریں ہیںکہ متاثرین کو کس طرح انصاف دلاتے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.