پولیو کے خاتمہ کی منزل اب زیادہ دور نہیں

تحریر: عثمان احمد سندھو(ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفیسرجہلم)

0

صحت مند نئی نسل ہی کسی بھی ملک و قوم کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہوتی ہے،یہی وجہ ہے کہ مہذب دنیا میں زچہ و بچہ کی صحت پر بے حد زور دینے کے ساتھ بچے کی پیدائش کے بعد اسکی صحت مندانہ طریقے سے پرورش پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے ،یہی صحت مند بچے کل کو صحت مند جسم او ردماغ کے ساتھ قوموں کو ترقی و کامیابی کی منازل کی جانب لیکر بڑھتے ہیں۔ یوں تو انسان کو ہمیشہ سے ہی مختلف وبائی امراض کا سامنا رہا ہے لیکن اس نے وقت کے ساتھ ساتھ ان میں سے بیشتر پر قابو پالیا ۔

گزشتہ صدی کی بات کی جائے تو انسان نے جدید ریسرچ کی بدولت جن بیماریوں پر قابو پایا ان میں ایک نہایت خطرناک مرض پولیو کا بھی ہے جو پانچ سال تک عمر کے بچوں کو لاحق ہوتا ہے اورانہیں زندگی بھر کیلئے معذور بنا دیتا ہے تاہم بدقسمتی سے کرہ ارض پر پاکستان دنیا کے ان چند بدقسمت ممالک میں شامل ہے جہاں ابھی تک پولیو کا سو فیصد خاتمہ نہیں ہوسکا ۔

پولیو کے خاتمہ کیلئے اہداف کے حصول میں پاکستان نے متعدد بڑے مسائل کے باوجود قابل ذکر کامیابیاں حاصل کی ہیں تاہم رواں صدی کی دوسری دہائی میں یہ مرض ایک بار پھر تیزی سے پھیلا اور بڑی تعداد میں بچے اس مرض سے متاثر ہوئے ۔

بزدار حکومت کی شبانہ روز محنت کی بدولت صوبہ پنجاب میں صورتحا ل میں نمایاں بہتری آئی ہے اور یہاں پولیو وائرس کے پھیلنے کے خطرات کم ترین ہیں ، پاکستان کی دیگر اکائیوں کی بھی پولیو کے خاتمہ کیلئے جدوجہد سے انکار ممکن نہیں ۔

ملک سے پولیو کے خاتمہ کیلئے عالمی ادارہ صحت کے تعاون سے حکومت پاکستان نے سال 2016کے دوران پانچ سال 2017میں پانچ قومی انسداد پولیو مہم چلائیں جبکہ سال2018کی دوسری انسداد پولیو مہم فروری میں جاری رہی،جبکہ رواں سال 2019 میں پولیو مہم دسمبر میں 16تا 19دسمبر تک جاری رہی گے۔

ضلع جہلم ڈپٹی کمشنر سیف انور جپہ کی زیر نگرانی انسداد پولیو مہم کو کامیاب بنانے کیلئے تمام وسائل برؤے کار لائے جارہے ہیں، اس ماہ ضلع بھر کے ایک لاکھ،88 ہزار762 بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کیلئے 524 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جن میں فکسڈ ٹیمیں ،ایریہ انچارج اور موبائل ٹیمیں اور مانیٹرنگ ٹیمیں بھی شامل ہیں۔ تمام ٹیموں کو مکمل سیکیورٹی فراہم کی جارہی ہے اور محکمہ صحت کی تشکیل کی گئی ٹیمیں گھر گھر جا کر بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلائے ۔

ہمیں قومی فریضہ کی انجام دہی کے لئے کام کرنا ہے تاکہ ملک سے پولیو کے خاتمہ کے خواب کو عملی تعبیر دی جاسکے۔ پولیو کے اسباب پر نظر ڈالی جائے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ پولیو کا مرض ایک خطرناک وائرس سے پھیلتا ہے جو بچوں میں قوت مدافعت کم ہونے کی وجہ سے انہیں زندگی بھر کیلئے معذور بنا دیتا ہے۔

پولیو وائیرس جسم کاایک وائرل انفیکشن ہے جو پیرالائیز اور سانس لینے میں مشکل کا باعث بن سکتا ہے یہ وائرس متاثرہ انسان کے فضلے سے پانی میں چلا جاتا ہے اور اس ہی لیے ایسی جگہوں پر زیادہ دیکھنے میں ملتا ہے جہاں سیوریج کا نظام بہتر نہ ہو بدقسمتی سے پولیو کا مکمل علاج ابھی تک دریافت نہ ہو سکا ہے۔

ڈاکٹر اس مرض کا شکار ہونے کے بعد اس سے اگلے نقصانات کو کنٹرول کرنے کیلئے ٹریٹمنٹ دیتے ہیں جو ایک کوشش ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ پولیو کو کنٹرول کرنے کیلئے باقائدہ بار بار مہم چلائی جاتی ہے تاکہ حملہ سے پہلے اس وائرس کو روکا جاسکے پاکستان کو پولیو فری بنانے کیلئے حکومتی کوششیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے اور اس سے بچاؤ کیلئے احتیاطی تدابیر بھی ہمیں ازبر ہوچکی ہیں۔

عوامی سہولت کیلئے پولیو کے قطروں کی با آسانی ہر گھر تک فراہمی کو بھی یقینی بنایا گیا ہے مزید سہولت کیلئے محکمہ صحت کی موبائل ٹیمیں بھی تشکیل دی جاتی ہیں جو گھر گھر جاکر پانچ سال تک کی عمر کے چھوٹے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطرے پلاتی ہیں حکومت کی جانب سے ان تمام اقدامات کے باوجود بعض لوگ اپنی ناقص معلومات کی بنیاد پر اپنے بچوں کو ویکسین کے قطرے پلانے سے انکاری ہوجاتے ہیں ان کا یہ عمل معصوم بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے دو چار کرسکتا ہے ۔

حکومت کی جانب سے پاکستان کو پولیو فری بنانے کیلئے مسلسل سنجیدہ کوششیں کی جارہی ہیں اور تسلسل کے ساتھ پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطرے پلانے کی مہم بھی جاری رہتی ہے تاکہ ملک پاکستان کو پولیو فری بنایا جاسکے ۔ پولیو کے خاتمہ کی منزل اب زیادہ دور نہیں تاہم منزل تک پہنچنے کیلئے معاشرے کے ہر فرد کو اپنی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داریاں نبھانا ہوں گی۔

ضلع جہلم میں آگاہی مہم میں ممبر قومی اسمبلی چوہدری فرخ الطاف ،ممبران صوبائی اسمبلی راجہ یاور کمال، چوہدری ظفر اقبال، صبرینہ جاوید علاقائی اگاہی میں اپنا قردار ادا کر رہے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.