تھانہ کلچر کی تبدیلی پولیس پرتوجہ دئیے بغیر کسی طرح بھی ممکن نہیں ہے، مہر محمد افضل

0

جہلم: معروف سماجی و کارروباری شخصیت مہر محمد افضل نے کہا کہ تھانہ کلچر کی تبدیلی پولیس پرتوجہ دئیے بغیر کس طرح ممکن ہے ، بہتر یہ ہے کہ دیگر سرکاری اداروں کے ملازمین کی طرح پولیس کو ہفتہ وار چھٹی کے ساتھ ان کے ڈیوٹی ٹائم کا بھی تعین کیاجائے ، ناکوں پر مامور پولیس کے افسران واہلکاروں کو موسمی شدت سے بچاؤ کے لئے انتظامات کئے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکار وں کو بہتر ٹریننگ اور جدید اسلحہ مہیا کیا جائے اور سب سے اہم یہ کہ پنجاب پولیس میں ہونیوالی سیاسی مداخلت کو ختم کیا جائے ، سیاسی مداخلت کیوجہ سے پولیس افسران سیاستدانوں کی چاپلوسی کرتے ہیں تاکہ اپنی مرضی کے علاقہ میں اپنی تعیناتی کرواسکیں اس طرح محکمہ میں فیورٹ ازم کی فضاء بن جاتی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ پولیس میں ویلفیئر فنڈ کے نام پر پولیس افسران و ملازمین کی تنخواہوں سے کٹوتی کی جاتی ہے جو کہ کانسٹیبل کی تنخواہ سے 5 سو روپے ، حوالدار کی تنخواہ سے 7 سو روپے، اسی طرح تمام افسران کی تنخواہوں سے عہدہ کے مطابق ماہوار کٹوتی کی جاتی ہے جو کہ ملازمین کے ساتھ سخت ناانصافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تمام اضلاع میں پولیس ویلفیئر کے لئے انتظام موجود ہیں جس طرح جہلم میں مشین محلہ ،جادہ اور دینہ کے مقام پر پولیس ویلفیئر کے 3 پٹرول پمپ موجود ہیں لیکن ملازمین کے لئے بنائے گئے کوارٹرز اور بیرکس خستہ حالی کا شکار ہو چکی ہیں ،جہاں ویلفیئر فنڈز کا استعمال ہونا ہوتا ہے وہاں ایک پائی بھی نہیں لگائی جاتی ،جس کیوجہ سے ملازمین میں بے چینی پائی جاتی ہے ، افسران کو چاہیے کہ ملازمین کی تنخواہوں سے ویلفیئر فنڈز کی کٹوتی کی بجائے ویلفیئر کے لئے قائم کئے گئے منصوبوں سے منافع حاصل کرکے ملازمین کی فلاح و بہبو د پر خرچ کئے جائیں تاکہ ملازمین بہتر انداز میں قوم کی خدمت کر سکیں ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.