کالم و مضامین

ٹلہ جوگیاں کے قصہ پارینہ بنتے استھان

رپورٹ: سجاد اظہر

دو گھنٹے کے پیدل سفر کے بعد جب آپ سطح سمندر سے 33 سو فٹ بلند پہاڑ کی چوٹی پر پہنچتے ہیں اور وقت کی نظر ہونے والے ان خرابوں کو دیکھتے ہیں تو پہلا سوال آپ کے ذہن میں جو آتا ہے وہ یہ ہے کہ جہاں پانی دستیاب نہ تھا اسے تاریخ میں کیسے ایک بڑے مذہبی مقام کی اہمیت حاصل ہو گئی؟
جوگیوں نے یہاں اپنا مسکن کیوں بنایا؟کیا جوگیوں سے پہلے بھی یہاں پرستش ہوتی تھی؟ اس زمانے میں جب یہاں گھنا جنگل تھا اور روزانہ نیچے سے پانی لانا ممکن نہیں تھا تو اوپر جو لوگ رہتے ہوں گے وہ پانی جیسی بنیادی ضرورت کہاں سے پوری کرتے ہوں گے؟
ہو سکتا ہے کبھی یہاں کوئی چشمہ بہتا ہو کیونکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ زلزلوں کی وجہ سے چلتے چشمے خشک ہو جاتے ہیں۔ ظاہر ہے جب چشمہ خشک ہوا ہو گا تو جوگی بھی کہیں منتقل ہو گئے ہوں گے اور پھر جب انہوں نے بارش کا پانی اکھٹا کرنے کے لیے تالاب بنا لیے ہوں گے تو ٹلہ دوبارہ آباد ہو گیا ہو گا؟
یہ بھی ممکن ہے کہ قدرتی آفتوں یا بیرونی حملہ آوروں کی وجہ سے یہ ٹلہ کئی بار ویران ہوا ہو اور کئی بار آباد ہوا ہے۔ جیسا کہ 1947 میں تقسیم کے وقت سارے جوگی پہاڑ کی چوٹیوں سے اترے اور کہیں گم ہو گئے۔ تاریخ نے پھر کوئی اور موڑ لیا تو یہ ٹلہ پھر سے آباد ہو جائے۔ کل کلاں کو کوئی مسلمان صوفی یہاں ڈیرہ لگا لے اور اسی کے طفیل اس کی رونقیں لوٹ آئیں تو یہ ٹلہ جوگیاں سے ٹلہ صوفیاں بھی ہو سکتا ہے۔
کہتے ہیں کہ آریہ جب کم و بیش چار ہزار سال پہلے ہندوستان میں وارد ہوئے تھے تو ان کی پہلی قیام گاہ وادی جہلم تھی۔ چونکہ آریا فطری مظاہر چاند سورج اور ستاروں کو پرستش کرتے تھے اس لیے ان کے مذہبی پیشواؤں کا ٹھکانہ یہی ٹلہ تھا۔ اس کا ایک ثبوت شاید یہ بھی ہے کہ بال ناتھ سے منسوب جو استھان ٹلہ کے سب سے اونچے مقام پر بنا ہوا ہے اس کے نیچے بارہ چودہ فٹ کی ایک غار ہے جو دونوں جانب کھلتی ہے۔
اس غار سے چند قدم کے فاصلے پر پہاڑ کی چوٹی پر ایک عبادت گاہ ہے جو ایسی جگہ پر ہے جہاں سے سورج اپنے طلوع سے غروب تک ایک خاص زاویہ بناتے ہوئے گزرتا ہے اور ماہرین یہی قیاس کرتے ہیں کہ اسی مقام پر سورج کے پجاری دو زانو ہو کر بیٹھتے تھے۔
ٹلہ جوگیاں دینہ کی طرف سے جائیں تو آخری گاؤں بھیٹ آتا ہے جہاں سے پیدل دو گھنٹے کا سفر ہے۔ کبھی یہاں پہاڑ پر چڑھنے کے لیے سیڑھیاں بنائی گئی تھیں جن کے آثار یہاں اب بھی موجود ہیں۔ جونہی آپ پہاڑ کی چوٹی پر پہنچتے ہیں تو ایک وسیع و عریض کمپلیکس نظر آتا ہے۔ جس میں مندر بھی ہیں، سمادھیاں بھی ہیں اور جوگیوں کی غاریں بھی۔
ایک بڑا تالاب، کئی چھوٹے تالاب اور ایک وسیع میدان بھی ہے جہاں سالانہ میلہ لگتا تھا۔ بابا گرو نانک نے بھی یہاں چلہ کشی کی تھی۔ رانجھا ہیر سے ملنے کے لیے جوگیوں کا روپ دھارنے یہیں آیا تھا، محکمہ جنگلات کا ریسٹ ہاؤس سے نیچے ایک پتھر کا چبوترہ آج بھی رانجھے سے منسوب ہے جس کاذکر وارث شاہ نے بھی کیا ہے۔
ٹلہ جوگیاں کے حوالے سے رگ وید کی پہلی کتاب کے 41 بھجن میں لکھا ہے کہ واج دیوی کی آواز کے باعث پانیوں سے لبریز بادل برسے جس سے سمندر بنا۔ سمندر سے زمین ٹیلے کی شکل میں نمو دار ہوئی جہاں راج دیوی کے طفیل گوری نے پرجا پتی کو پیدا کیا جس کے باعث برہما پیدا ہوئے برہما کی خوشبو سے شو مہاراج کی تخلیق عمل میں آئی۔ شو جی کے بدن سے پہلے پہلے اودھر گورکھ ناتھ کی شکل میں نمو دار ہوئے۔ شو جی نے ان کو ٹلہ کی گدی عطا کی۔
کہا جاتا ہے کہ ٹلہ کی گدی عطا کرنے سے پہلے شو جی نے گورکھ ناتھ کو گھاس کی بنی رسی گلے میں پہنائی اور کہا کہ یہ تمہارا زنار ہے اور اس کی جان سے زیادہ حفاظت کرنا، آک کی بنی ہوئی خشک ٹہنی کی کشتی بنا کر اسے زنار سے باندھ دیا اور ہدایت کی کہ اسے ہمیشہ دل کے اوپر رکھنا، شو جی کی بیوی پاربتی کی ران سے خون نکال کر کپڑے پر لگایا اور کہا کہ اس رنگ کی قمیض پہننا اور مردوں کو دفن کرنا اور اوپر سمادھی بنانا۔
ناتھ کے لفظی معانی زمانے کے امام کے ہیں اور جوگی کا مطلب تپسیا یا ریاضت کرنے والا کے ہیں۔ ہندوؤں میں ناتھ کو وہی مقام حاصل ہے جو مسلمانوں میں غوث یا قطب کو ہے۔ گورکھ ناتھ کے یوں تو سینکڑوں چیلے تھے مگر بارہ ایسے تھے جن کو ناتھ کا درجہ ملا ان ناتھوں نے بارہ سلسلے قائم کیے جن کے باعث جوگیوں کے بارہ فرقے بنے جس طرح مسلمانوں میں تصوف کے چار سلسلے ہیں اسی طرح ہندوؤں میں دریائی، کیکی، دھری، مچھندری، گورکھی اور آؤدھری وغیرہ ہیں۔
گورکھ ناتھ کا پنجابی کلام خاصا معروف ہے۔ گورکھ ناتھ کے بعد جس جوگی کو شہرت ملی اسے بالناتھ کہا جاتا ہے اسی کی نسبت سے اسے ٹلہ بالناتھ بھی کہا جانے لگا۔ بال ناتھ بہلول لودھی کے ہم عصر تھے جن کا عہد 1401 سے 1489 تک کا ہے۔ بہلول لودھی بال ناتھ سے ملنے ٹلہ جوگیاں بھی آئے تھے کیونکہ ان سے کئی مافوق الفطرت قصے منسوب تھے۔
بال ناتھ کا دور جوگیوں کے عروج کا زمانہ تھا جب یہاں سینکڑوں جوگی کئی کئی ماہ غاروں میں چلہ کشی کیا کرتے تھے اور پورے ہندوستان، افغانستان اور دور دراز کے ملکوں سے جوگیوں، سادھوؤں اور یاتریوں کی آمد کا تانتا بندھا رہتا تھا۔ دینہ سے ٹلہ تک لکڑی کے جوتے پہنے سرخ لباس میں جوگی ہی جوگی نظرآتے تھیجن کے گلے میں موٹے دانوں کی مالا ہوتی اور بائیں ہاتھ میں پانی یا دودھ سے بھری ہوئی گڈوی اٹھائے پھرتے تھے۔ یہاں ہر سال بیساکھی پر میلہ لگتا تھا جس میں لوگ جوگیوں سے فیض لینے کے لیے دور دراز سے آتے تھے۔

ٹلہ میں سکندر اعظم بھی آیا تھا جب راجہ پورس سکندر سے صف آرا ہوا تو ایک شاہی ہاتھی بھاگ کر اس پہاڑی پر چڑھ گیا جس سے یہ مطلب لیا گیا کہ پورس کو اس جنگ میں شکست ہو گی۔ بعد میں جب سکندر کو یہ واقعہ سنایا گیا تو اسے بھی اشتیاق ہوا کہ وہ یہاں آئے اور جوگیوں سے ملے۔ آر سی ٹیمپل کی کتاب پنجاب کی لوک داستانوں میں درج ایک کہانی کے مطابق 80 میں سیالکوٹ کے راجہ سالباہن کے بیٹے پورن، جو بعد میں پورن بھگت کے نام سے مشہور ہوا۔
اس کی سوتیلی ماں اس پر فریفتہ ہو گئی اور ناکامی پر پورن پر الزام لگا دیا جس پر اس کے باپ نے اس کے ہاتھ پیر کاٹ کر اسے ایک کنویں میں پھینک دیا جہاں سے گورکھ ناتھ کا گزر ہوا تو اسے کنویں سے نکال کر اس کے لیے دعا کی گئی جس سے اس کے ہاتھ پاؤں سالم ہو گئے اور یوں پورن بھی گورکھ ناتھ کا چیلہ بن گیا۔
ایک اور لوک داستان راجہ بھرتری کی بھی ہے جو ایک رانی کی بے وفائی اور دوسری کی وفا سے اتنا دل شکن ہو اکہ اپنا سر گورکھ ناتھ کے قدموں میں رکھ دیا اور یوں اس کی سانسوں کی مالا بکھر گئی یہیں کہیں ا س کی سمادھی بھی بنائی گئی۔ یہ وہی ہری بھرتری ہے جس کے کلام سے علامہ اقبال نے بال جبریل کا آغاز کیا ہے۔
آرکیالوجی سروے آف انڈیا میں جنرل کننگھم کا ماننا ہے کہ یہ مندر 650 سے 900 میں تعمیر ہوئے۔ ٹلہ جوگیاں سورج کے پجاریوں، ہندوؤں، بدھوں، جین، سکھوں اور مسلمانوں سب کے لیے متبرک سمجھا جاتا ہے۔ مہابھارت لڑنے والے پانڈو برادران بھی یہاں آئے۔ بدھ مت کے ماؤرو نے یہاں 11 سال تک تپسیا کی اور نروان حاصل کیا۔ پوٹھوہار میں بدھ تہذیب کی تباہی سفیدہنوں کی کارستانی بیان کی جاتی ہے اور ایک روایت کے مطابق سفید ہنوں کے سردار مہر گولہ نے یہ ٹلہ تباہ کر دیا تھا۔
تزک جہانگیری میں لکھا ہے کہ جہانگیر نے 1607 میں کشمیر جاتے ہوئیروہتاس میں پڑاؤ کیا تو شکار کی غرض سے ٹلہ جوگیاں آیا تھا اور یہاں دربار بھی لگایا۔ اکبرِ اعظم کے مطابق تو اکبر 1581 میں یہاں ننگے سر اور ننگے پاؤں آیا تھا اور جوگیوں کے گرو سے ملاقات کی تھی۔
مستنصر حسین تارڑ نے ٹلہ جوگیاں پر ایک سفرنامہ لکھا جو ادبی جریدے تسطیر کے شمارہ 9 میں شائع ہوا۔ صفحہ 117 پر لکھتے ہیں کہ ”کیا سکندر، جہانگیر اور رنجیت سنگھ سب اپنی فتوحات کے لیے بال ناتھ کے جوگیوں کی دعاؤں کے طالب ہوئے۔ مذہب اور کسی مخصوص عقیدے سے ماورا اکبر اعظم نے جب یہاں قدم رکھا تو ا س نے جوگیوں سے پوچھا کہ
’میں تمہاری کیا سیوا کر سکتا ہوں؟‘

تو انہوں نے کہا، ’مہاراج ہم جوگی بے شک دنیا تیاگ چکے لیکن یہ بدن تیاگا نہیں جاتا، اس کی کچھ مانگیں ہیں۔ ہم نے گائیں پال رکھی ہیں۔ ٹلے پر اپنے گزارے جوگی سبزیاں کاشت کرتے ہیں پر ہمارے پانی کا بندوبست نہیں ہم بہت کٹھنائیوں میں سے نیچے اتر کر گاگروں میں بمشکل پینے کا پانی لاتے ہیں تو ہمیں ایک تالاب کی مانگ ہے۔‘
چنانچہ اکبر نے جوگیوں کی یہ خواہش پوری کر دی۔ یہاں شاندار اور مغلیہ طرز کا تالاب تعمیر کروایا، ٹلے کی چٹانوں کی دراڑوں میں چشمے پوشیدہ تھے، ان کا رخ موڑا، ایک دو پہاڑی ندیوں کی گزر گاہوں کو تبدیل کر کے انہیں تالاب کی جانب لے آیا، بارش کے موسم میں تالاب کا پانی کناروں سے باہر آ جاتا، جوگی حضرات نے اکبر کو اتنی دعائیں دیں کہ وہ اکبر اعظم ہو گیا۔
تاریخ جہلم از انجم سلطان شہباز کے صفحہ 257 پر درج ہے کہ احمد شاہ ابدالی نے روہتاس میں قیام کے دوران بالناتھ کا مندر منہدم کرا دیا۔ بیشتر پرانے مندر تباہ ہو گئے اور بعد میں راجہ مان کے عہد میں ان کی تعمیر نو کی گئی۔ ان جوگیوں نے دیسی طریقہ علاج آیورویدک متعارف کروایا۔ کشتہ سازی اور جڑی بوٹیوں سے علاج کا فن، علم نجوم کے علاوہ یوگا کی ایجاد اور قواعد و ضوابط انہیں جوگیوں کے مرہون منت ہیں۔
تاریخ کے یہ عظیم استھان قصہ پارینہ بنتے جا رہے ہیں۔ وزیراعظم پاکستان مذہبی سیاحت کے فروغ پر یقین رکھتے ہیں۔ گمان غالب ہے کہ ان استھانوں کی بحالی سے یہاں مذہبی سیاحت کو فروغ مل سکتا ہے۔
 
 
 
 
 
 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

بشکریہ
انڈیپنڈنٹ اردو

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button