جہلماہم خبریں

سول ہسپتال جہلم میں تندرست مریضوں کو مہلک امراض کی رپورٹیں جاری ہونے لگیں

جہلم: اندھیر نگری چوپٹ راج، ضلع جہلم کے سب سے بڑے ہسپتال کی لیبارٹری پتھالوجسٹ ڈاکٹر سے محروم ، ناتجربہ کار عملہ تندرست مریضوں کو مہلک امراض کی رپورٹیں جاری کرنے میں مگن ۔ مریضوں کا سول ہسپتال کی لیبارٹری سے اعتماد اٹھنے لگا۔مریضوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب، سیکرٹری ہیلتھ ، ڈپٹی کمشنر جہلم سے نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق جلالپور شریف کی رہائشی مسمات (ش) نے اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ڈاکٹر کی ہدایت پر سول ہسپتال کی لیبارٹری میں ٹیسٹ کے لئے خون دیا جاری ہونے والی رپورٹ پر A,B+ کی تصدیق کی گئی جس پر اپنے عزیز و اقارب کو بلوا کر درجنوں افراد کے خون کے ٹیسٹ کروائے گئے لیکن کسی کا گروپ میرے خون کے گروپ کے ساتھ نہ مل سکا ۔

اسی طرح انتہائی تشویش ناک حالت میں سول ہسپتال کے شعبہ ایمرجنسی کے ڈاکٹروں نے حالت غیر ہونے پر راولپنڈی ریفر کر دیا ، جب ہم لوگ راولپنڈی پہنچے تو راولپنڈی ہسپتال کی لیبارٹری کے عملے نے بتایا کہ آپ کے خون کی رپورٹ غلط جاری کی گئی ہے ، لیبارٹری عملے کی نااہلی کیوجہ سے ہمیں جو تکلیف اٹھانا پڑی وہ قابل بیان نہیں۔

ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کی لیبارٹری میں پتھالوجسٹ ڈاکٹر تعینات کرنے کی بجائے انتظامیہ ڈنگ ٹپائو پالیسی پر گامزن ہو کر شہریوں کی زندگیوں سے کھلواڑہ جاری رکھے ہوئے ہے، یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ لیبارٹری کے عملے نے لیبارٹری میں جنگل کا قانون نافذ کر رکھا ہے ، دن 12 بجے تک مریضوں کے ٹیسٹ کئے جاتے ہیں اس کے بعد مریضوں کو اگلی صبح آنے کا کہہ کر ٹیسٹ لینے بند کر دئیے جاتے ہیں جس کی وجہ سے تحصیل پنڈدادنخان ، تحصیل سوہاوہ ، تحصیل دینہ سے آئے ہوئے درجنوں مریض روزانہ کی بنیاد پر ذلیل و خوار ہورہے ہیں۔

سول ہسپتال میں آئے ہوئے مریضوں اور ان کے لواحقین نے بتایا کہ لیبارٹری کا عملہ خوش اخلاقی سے پیش آنے کی بجائے ہتھک آمیز رویہ اپنا کر خواتین سمیت بزرگوں کی تذلیل کرنا اپنا قانونی حق سمجھتے ہیں، جس کی وجہ سے مریضوں کو ہسپتال کے باہر قائم پرائیویٹ لیبارٹریوں پر ٹیسٹ کروانا پڑتے ہیں۔

مریضوں اور ان کے لواحقین نے وزیر اعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب، سیکرٹری ہیلتھ ،ڈپٹی کمشنر جہلم سے مطالبہ کیا ہے کہ سول ہسپتال کی لیبارٹری میں کوالیفائڈ پتھالوجسٹ ڈاکٹر کو تعینات کیا جائے تاکہ مریضوں کے امراض کی صحیح تشخیص ہو سکے۔

موقف جاننے کے لئے سول ہسپتال کی لیبارٹری کے لیب ٹیکنالوجسٹ محمد علی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ چھوٹی موٹی غلطیاں ہوتی رہتی ہیں اور لیبارٹری کے اوقات دن ساڑھے 12 بجے تک مقرر ہیں اگر کسی مریض کو ایمرجنسی ہے تو وہ ایمرجنسی سے رجوع کرے ۔ہمارے پاس عملہ نہیں اگر کسی کو کوئی شکایت ہے تو حکومت پنجاب سے رجوع کرے تاکہ عملے کی کمی کو پورا کیاجائے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button