جہلم

چائلڈ لیبر اور جبری مشقت کے حوالہ سے حکومتی قوانین پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے گا۔ ڈپٹی کمشنر جہلم

جہلم: چائلڈ لیبر اور جبری مشقت کے حوالہ سے حکومتی قوانین پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے گا، بھٹہ خشت پر کام کرنے والے محنت کشوں کے بچوں کو تعلیم اور صحت کی تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں گی، جبری مشقت اور چائلڈ لیبر کا خاتمہ ہر صورت یقینی بنانا ہماری اولین ترجیح ہے۔

ان خیالات کا اظہار ڈپٹی کمشنر راؤ پرویز اختر نے گزشتہ روز ڈسٹرکٹ ویجیلنس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیبر ہمایوں، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر لٹریسی میمونہ انجم، بھٹہ مالکان اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسران نے شرکت کی۔

اجلاس میں جبری مشقت، چائلڈ لیبر، لیبر اسکولز میں بچوں کی حاضری کو یقینی بنانے، اینٹوں کے سائز، ریٹ، معیار اور بھٹہ مزدوروں کو شناختی کارڈ کے اجراء سمیت اجرت جیسے معاملات زیر بحث آئے۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ضلع بھر میں چائلڈ لیبر ایکٹ پر ہر صورت عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا اور خلاف ورزی کرنے والے بھٹہ مالکان کے خلاف فوری ایکشن لیاجائے گا۔

ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ بھٹہ مزدوروں کے بچوں کی تعلیم و تربیت اور صحت کے مناسب انتظامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ وہ مستقبل میں ملک کے مفید شہری بن سکیں۔ حکومت بھٹہ مزدوروں کے بچوں کے سکولوں میں داخلہ پر لڑکی کی تعلیم کے لیے 2000 روپے جبکہ لڑکے کی تعلیم کے لئے 1500روپے وظیفہ بھی دے رہی ہے۔

ڈپٹی کمشنر نے بھٹہ مالکان کو احکامات جاری کیے کہ اینٹ کے سائز، معیار، نوٹیفائیڈ ریٹ اور مزدوروں کی کم سے کم اجرت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، ساتھ ہی ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ صارف کو فائدہ ہونا چاہیے کسی کا بھی حق نہیں مارا جانا چاہیے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button