زندہ باد جیسنڈا پائندہ باد نیوزی لینڈرز ۔۔۔۔!

تحریر: پروفیسر افتخار محمود

0

نیوزی لینڈ کے سانحہ کرائس چرچ کو آج 20روزہوچکے ہیں ۔ اس دوران کئی تحریریں انسان دوست مثالی وزیر اعظم نیوزی لینڈ جیسنڈا آرڈرن کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے لکھی ،سنی اور پڑھی گئیں ۔راقم کو اپنے چھوٹے بیٹے کا ایک مشورہ یاد آیا جو اس نے اس وقت دیا تھا جب وہ جماعت نہم میں زیر تعلیم تھا آج تو وہ انٹر میڈیٹ کے سال دوم میں ہے میرے بیٹے نے کہا تھا کہ ’’ ابو اخبارات و رسائل میں اپنی تحریریں بھیجتے رہا کریں ‘‘ میں نے چونک کر جب وجہ دریافت کی تو اس کا جواب بڑا معقول تھا کہ ’’ ابو انقلاب صدیوں بعد آتے ہیں لیکن ان انقلابات کے پیچھے باشعور طبقات کی سالہا سال کی محنت شامل ہوتی ہے۔ ‘‘ یہ الفاظ تھے جن کی یاد نے راقم کو زیر نظر سطور قلم بند کرنے پر آمادہ کیا ۔

نیوزی لینڈ کی 38سالہ وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن کو جتنا خراج تحسین پیش کیا جائے اتنا کم ہے ۔ ہر کوئی اپنی سمجھ اور بساط کے مطابق جذبات کا اظہار کر رہا ہے ۔ پہلے تو سوچا کہ جہاں اعلیٰ اذہان کے مضامین شائع ہو رہے ہیں وہاں اس ناتواں مضمون کی کیا اہمیت ہوگی لیکن پھر اپنے بیٹے کا مشورہ ذہن میں گونجا اور کمپوٹر کے ’’کی بورڈ‘‘ پر انگلیاں چلنے لگیں ۔ ان سطور کے تحریر کے وقت راقم کو معروف شاعر ساحر لدھیانوی کی نوزائدہ بچے کے حوالے سے دعائیہ نظم یاد آ رہی ہے جس کا مطلع کچھ اس طرح ہے:

تو ہندو بنے گا نہ مسلمان بنے گا
انسان کی اولاد ہے انسان بنے گا

اس شعر میں وزیر اعظم نیوزی لینڈ کے ان خیالات کی ترجمانی کی گئی ہے جو انہوں نے اپنے ملک میں متاثرین سانحہ کرائس چرچ سے اظہار یکجہتی کے لیے منائے جانے والے دن کی یادگاری تقریب کے بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ادا کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج یہ حقیقی چیلنج ہے کہ ہم نفرت اور خوف کی فضا سے محفوظ نہیں ہیں ہمیں اس حقیقت کا اعتراف کر لینا چاہیے کہ اس سے قبل شایدہم شاید کبھی ایسی صورتحال سے نبرد آزما نہیں ہوئے ۔

اس یاد گاری تقریب میں بہت سے غیر ملکی نمائندگان بھی شامل تھے ۔ وزیر اعظم جیسنڈا کا کہنا تھا کہ ہم ایک ایسی قوم ثابت ہو سکتے ہیں جو ایسی صوررت حال سے محفوظ ہو ۔ ہم میں سے ہر ایک کو یہ عہد کرنا چاہیے کہ وہ اس امن اور صلح جوئی کے لئے جد وجہد کرے گا۔ وزیر اعظم نیوزی لینڈ کا اس موقع پر کہنا تھا کہ دنیا آج انتہا پسندی کے شیطانی چنگل میں پھنس چکی ہے جس سے نجات حاصل کرنے کے لئے سخت محنت اور جدو جہد کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس کا آسان حل یہ کہ ہمیں ذاتی حدود و قیود سے نکلنا ہو گا فکر ی بنیاد انسانیت ہونی چاہیے نہ کہ رنگ ، نسل اور الگ مذہب جیسے افکار۔

اس سے قبل جو کچھ انہوں نے مسلم کمیونٹی سے اظہاری یکجہتی کے طور پر کیا اس کو بار بار دہرانا مناسب تو نہیں لیکن بات واضح کرنے کے لیے اس کا ذکر ضروری ہے کہ کس طرح وہ شہداء کرائس چرچ کے لواحقین سے ملنے کے لیے گئیں اور زخمیوں کی تیمار داری کے لیے کس قدر اقدامات کیے ۔ ان کا اپنے سر پر سکارف اوڑھنا اور فطری رنج و غم کا اظہاران کا بڑا پن ہے۔ اپنے ملک کی پارلیمان سے خطاب کے دوران انہوں نے آسٹریلو ی دہشت گرد کا نام تک لینا پسند نہ کیا اور بلا جھجھک کہا کہ وہ ایک دہشت گرد ، مجرم اور انتہا پسند ہے تاریخ میں اس کا نام تک نہ رہے گاجبکہ اس سانحہ میں شہید ہونے والے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔

وزیر اعظم نیوزی لینڈ کے متعلق قارئین کو علم ہونا چاہیے کہ وہ بائیں بازو کی منتخب شدہ لیبر پارٹی کی لیڈر ہیں ان کے یہ اقدامات دنیائے انسانیت کے لیے نہ صرف ایک سبق بلکہ ایک ایسا پیغام بھی ثابت ہو سکتے ہیں جس کی مثال ہمیں تاریخ میں بہت کم ملتی ہے ۔جہاں میں نے جیسنڈا کے لیے زندہ باد کے لفظ منتخب کیے جبکہ وہیں ترقی پسند فکر سے آراستہ عوام کے لیے پائندہ باد کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ انہوں نے بلا امتیاز رنگ ،نسل، مذہب ایسی انسان دوستی کی مثالیں قائم کیں جو اپنی مثال آپ ہیں ۔ مثلاً بذریعہ فیس بک ایک شہری نے ایک پیغام دیا کہ زخمیوں کے لوا حقین بھوکے اور پیاسے ہیںتھوڑا ’’حلال کھانا‘‘ دے دو۔ تھوڑی دیر میں اتنا کھانا اور دیگر اشیاء جمع ہو گئیں کہ دوبارہ پیغام کی زحمت نہ کرنا پڑی۔

پھر ایک یہودی عورت نے تمام متاثرہ خواتین کے لیے امداد کا ایک پیغام دیا کہ اگر آپ کوئی خریداری کرنا چاہتی ہیں یا سفر کرنا چاہتی ہیں اور اکیلی ہیں تو صرف ایک میسج کریں اس عورت نے انتہائی دلیری سے یقین دلایا کہ وہ ہر ضرورت مند خاتون کے ساتھ سفر کرے گی اور اس کی پوری حفاظت بھی کرے گی ۔ ہمیں یہ واضح ہونا چاہیے کہ وزیر اعظم نیوزی لینڈ سے لے کر وہاں کے ہر قسم کے شہریوں نے جو اقدامات کیے وہ صرف اور صرف انسان دوستی کے ناطے سے تھے ۔ ان اقدامات سے ترقی پسند فکر کی خوب ترجمانی ہوئی کہ ریاست کسی ایک مذہب کی محافظ نہیں ہوا کرتی بلکہ ہر شہری کی بلا امتیاز مذہب ، رنگ ، نسل اور طبقہ کی جان و مال کی برابر محافظ ہوتی ہے۔ کاش ہم کچھ سیکھ سکتے لیکن ہمارے تخیل سے یہ سب کچھ فزوں ترہے کیونکہ ہم ظاہری تقسیم کو حق اور عقیدہ تصور کرتے ہیں ۔

وزیر اعظم نیوزی لینڈ نے اصل میں ایک بڑا پیغام دنیا بھر کے انسانوں کو دینے کی کوشش کی ہے جس کو سمجھنا ازحد ضروری ہے ۔ سانحہ کرائس چرچ کے بعد متاثرین سے اظہار یکجہتی کے طور پر یہودی جیوئش کونسل نے تاریخ میں پہلی بار ایک بیان میں کہا کہ ہم سب مسلم لواحقین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور متشدد لڑائی ، نفرت اور نسل پرستی کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد ہیں۔ اسی طرح جب سیکیورٹی کی وجہ سے مساجد بند تھیں تو تمام گرجا گھروں کے دروازے مسلمانوں کے لیے کھول دیے گئے تا کہ وہ اپنی عبادت آزادی سے کرسکیں ۔

بات یہاں تک نہ ٹھہری بلکہ امریکہ میں ایمپائر سٹیٹ بلڈنگ ، فرانس کے دارلحکومت پیرس میں ایفل ٹاور اور آسٹریلیا سڈنی میں ہاربر برج کی روشنیاں اس سانحہ کے متاثرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے بند کر دی گئیں۔ کینیڈا میں قومی پرچم سرنگوں کر دیا گیا ۔لبرل ازم کی کتنی مثالیں دی جائیں شہدا کی میتوں کو غسل دینے کے لیے ایک نیوزی لینڈر نے فیس بک پر پیغام دیا کہ ِسکھ افراد کی ضرور ت ہے جو ان شہدا کی میتیوں کو غسل دے سکیں تو انجان نوجوانوں کی قطاریں موجود تھیں ۔

جس بات کا سطور بالا میں ذکر کیا گیا کہ حلال کھانے سے لدی گاڑیاں پہنچ گئیں کھانے کی تقسیم کے لیے رضا کار وں کی قطاریں خود بخود بن گئیں ان میں مذہب اور رنگ ونسل کا کوئی امتیاز نہیں تھا ۔ سب سے بڑی بات یہ وزیر اعظم نیوزی لینڈ کی طرف کیے گئے اظہار یکجہتی کے نتیجے میں شہریوں کی طرف سے پیروی کرتے ہوئے جو کچھ بھی کیا گیا ان میں شہدا کی میتوں کو غسل دینے، زخمیوں یا ان کے لواحقین کی حفاظت، یہ سب جذبہ خیر سگالی تھا اور انسان دوستی تھی جس کو ایک لبرل ترقی یافتہ معاشرے کی معراج تصور کیا جاتا ہے ۔

ہمارے ہاں برداشت اور رواداری کے فسانے تو بہت پیش کیے جاتے ہیں لیکن برداشت اور رواداری کی اس طرح کی مثالیں کم ہی ملتی ہیں ۔ عموماً سننے میں آتا ہے کہ فلاں سیلاب یا زلزلے کے موقع پر متاثرین کی مدد کو آئے رضاکاروں نے سونے کے زیورات ہتھیانے کے لیے عورتوں کے کانوں تک کو کاٹ لیا اور کئی زخمیوں یا ملبے تلے دبے لوگوں کی جیبیں تک کاٹ لی گئیں۔ ہمیں موازنہ کر نا چاہیے کہ ایک مذہبی معاشرے کے لوگوں کی فکری حالت اور ایک لبرل معاشرے کے حکمران اور عوام کی فکری حالت میں کتنا بڑا فرق موجود ہوتا ہے ۔

نیوزی لینڈ آج تک امن کے حوالے سے ایک مثالی ملک کہلاتا تھا اور آئندہ بھی رہے گا کیو نکہ وزیر اعظم نیوزی لینڈ اور وہاں کے شہریوں نے ایسی مثالیں قائم کر دی ہیں ۔ اسلحہ کے متعلق قوانین تبدیل کر دیے گئے ہیں جس کے تحت مہلک ہتھیاروں پر پابندی عائد کر دی گئی۔ ان قوانین کا اطلاق فوری طور پر ہوا۔ انسان دوست مثالی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہم نہیں چاہتے کہ ہماری پرامن آبادی میں پھر اس قسم کا کوئی واقعہ رونما ہو ۔ ہم خود کار ہتھیاروں کے عام استعمال کی اجازت نہیں دے سکتے جو لوگ اس نوعیت کے ہتھیار رکھتے ہیں ان سے حکومت 100سے لے 200نیوزی لینڈ ڈالر کے عوض خرید لے گی۔اسلحہ سے پاک معاشرے کے قیام کی صدا امریکہ تک گونج گئی۔ وہاں ڈیموکریٹک پارٹی کے کانگریس ممبر الیگزینڈرا نے امریکی سیاستدانوں کو شرم دلائی کہ وہ اس سلسلے میں کچھ نہ کر سکے حالانکہ امریکہ میں آئے روز ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں دائیں بازو کے امریکی حکمران صرف اسلحہ ساز تاجروں کے مفادات کا تحفظ کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔

مثالی انسان دوست وزیر اعظم نیوزی لینڈ اپنے وطن میں امن تباہ کرنے والے اقدام کے خلاف جس قدر سیسہ پلائی دیوار ثابت ہو رہی ہے اور متاثرین سے اظہار یکجہتی کے لیے جتنا کچھ کر رہی ہے انہیں اپنے سیاسی ناقدین پر بھی نظر رکھنی چاہیے کیونکہ بعض اوقات انسان اپنے مخلص خیالات کی وجہ سے حدود کراس کر دیتا ہے ۔لبرل ازم برداشت کا جذبہ پیدا کرتا ہے لیکن ایک حد تک بحیثیت انسان ہر قدم اٹھانا چاہیے جیسا کہ اگلے روز سانحہ کرائس چرچ کے ایک زخمی کی تیمار داری کے لیے ہسپتال گئیں تو بھی گفتگو کا آغاز السلا م علیکم سے کیا بہت بڑی بات ہے لیکن اپنی سیاست میں ایک توازن کاخیال رکھنا بھی ضروری ہے ۔
بقول شاعر :

وہ ڈالی ٹوٹ جاتی ہے جو لامحدود پھلتی ہے ۔

مثالی وزیر اعظم کو کیسے خراج تحسین پیش کیا جائے الفاظ نہیں صرف اتنا ہی کافی تصور کرتا ہوں کہ’’ زندہ باد جیسنڈا آرڈرن اور پائندہ باد نیوزی لینڈرز‘‘ ۔

فون نمبر :۔ 0301/03065430285
ای میل :۔ [email protected]

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.