بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدا ور پیدا!

تحریر: سید کبیر حسین شاہ اختر

0

دینہ ضلع جہلم کے رہائشی نامور مورخ ، محقق، ادیب ، شاعر اور صحافی انجم شہباز سلطان گزشتہ سال کے اختتام سے صرف 48گھنٹے قبل 30دسمبر2018ء کو اپنی زندگی کا 53سالہ سفر پورا کرتے ہوئے طویل علالت کے انتقال کر گئے، مرحوم کی وصیت کے مطابق اپنی والد مرحومہ کے پہلو میں سرائے عالمگیر کے قریب گاؤں نروال میں سپر خاک کیا گیا ۔

مرحوم14ستمبر1965ء کو صوبہ پنجاب کے شہر کھاریاں میں حکیم محمود نسیم چوہدری کے گھر پیدا ہوئے ۔ابتدائی تا ثانوی تعلیم کی تکمیل کے بعد صحافت کے ساتھ گریجویشن کر کے اردو زبان و ادب میں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ماسٹرڈگری تک تعلیم مکمل کی ۔عملی زندگی کا آغاز شعبہ تعلیم کے ساتھ کیا ۔ صحافت کا آغاز محکمہ تعلیم کی ملازمت کے دوران ہی کیا، مضمون نگاری اور شاعری بھی اسی دور کی آدرش تھی ۔ مرحوم کی پہلی تصنیف ’’شبستان انجم ‘‘ کے نام سے منظر عام پر آئی ۔ اس کے بعد ایک جاسوسی ناول خلق کیا ۔

1992ء میں مرحوم کی مشہور تصنیف ’’تاریخ جہلم ‘‘ شائع ہوئی اس کے بعد مذکورہ کتاب کے کئی صخیم ایڈیشن شائع ہوئے اور اسے جہلم کی بہترین تاریخ قرار دیا گیا ۔ بعد ازاں ’’تاریخ رہتاس، اقوام جہلم ، اقوام پنجاب ، شخصیات جہلم ، اقوام پاکستان کا انسائیکلو پیڈیا، شہدائے جہلم ، اولیائے جہلم ، فردوس کشمیر ، شیر شاہ سوری ، سکندر اعظم ، پتھروں کا انسائیکلو پیڈیا ، بے شمار کتابوں کے تراجم اور زندگی کے آخری ایام میں جب بستر علالت پر تھے تو راقم الحروف کے بھائی اور ضلع جہلم کے سپوت کیپٹن شبیر حسین شاہ شہید کو ذاتی خراج عقیدت کے طور پر علالت کے دوران ’’مثنوی فاتح چھمب ‘‘منظوم لکھی جو اپریل 2018ء کو شائع ہوئی۔

مذکورہ یادگار کتب کی وجہ سے مرحو م کا نام وطن عزیز کے کونے کونے تک پہنچ گیا ۔ یاد گار تصانیف میں مذہب ، تاریخ اور تراجم وغیرہ شامل ہیں ۔شاعری میں بھی منفرد اور اعلیٰ مقام کے حامل تھے ۔ زندگی کے دوران علمی ادبی تقاریب اور مشاعروں کی جان ثابت ہوتے تھے۔

ماہنامہ’’ حضور حق ‘‘ اور روزنامہ ’’اخبار ‘‘ جہلم کے سب ایڈیٹر ہے ۔ دینہ سے پوٹھوہار رنگ کے نام سے ایک رسالہ شائع ہوا تو انجم سلطان شہباز ایڈیٹر مقرر ہوئے ۔ یہ رسالہ پانچ سال تک مسلسل شائع ہوتا رہا ۔’ ’رہتاس رنگ ‘‘کا اجرا ہوا تو خود مدیر اعلیٰ فائز ہوئے ۔ واضح رہے کہ ’’رہتاس رنگ ‘‘ کی اشاعت تا حال جاری ہے ۔

انجم سلطان شہباز کے مضامین مقامی اور قومی اخبارات کی زینت بھی بنتے رہے ۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے پروگرام ’’وسنا پوٹھوہار ‘‘ میں تاریخی قلعہ رہتاس کے تعارفی پروگرام کے راوی انجم سلطان تھے ۔ دینہ کے مقام سے’’ سنگ پوٹھوہار ‘‘ انجم سلطان کی زیر ادارت شروع ہوا جو زیادہ عرصہ تک جاری نہ رہ سکا ۔ تحصیل پریس کلب دینہ کی طرف سے مرحوم انجم سلطان شہباز کو تا حیات رکنیت کا اعزاز حاصل تھا ۔ دینہ سے پہلی ویب سائٹ ’’جہلم نیوز ‘‘ کے لئے ڈپٹی ایڈیٹر کے فرائض انجام دیے۔’’ ڈیلی پنجاب الیکٹرانک میڈیا‘‘ کے چیف ایڈٹر کی حیثیت سے خدمات سر انجام دیں ۔

’’جہلم ٹو ڈے ڈاٹ کام ‘‘ کے ایڈٹر ہونے کا اعزاز بھی حاصل تھا ۔ جہلم کی ادبی تنظیموں الادب ، ادب افروز اور قلم قافلہ سے وابستہ رہے ۔ دینہ کی ادبی تنظیم’’دیدہ ور‘‘ ،’’نقوش قادر ‘‘ اور ’’ ملک محمد اکیڈمی جہلم ‘‘ کے صدر رہے ۔علاوہ ازیں راول نیوز نیٹ ورک کے چیف ایڈیٹر رہے ۔’’ دبستان جہلم ، تاریخ تھوتھال ، تواریخ مواضعات جہلم، میری کہکشاں سے جڑے تارے اور فتح میرپور‘‘ ان کی زندگی کی آخری تصانیف تھیں ۔ اس طرح مرحوم 100سے زائد کتب کے مصنف ہونے کا اعزاز حاصل کر نے میں کامیاب ہوئے ۔

انجم سلطان شہباز انتہائی منکسر المزاج اور نفیس طبع کے مالک تھے ۔ انہوں نے اپنی ادبی خدمات کا لوہا دنیا سے منوایا ۔ مرحوم کا مطالعہ وسیع اور تاریخ پر گہری نظر رکھتے تھے ۔ تحریروں میں سحر انگیزی ، میٹھی مدھر ،زود اثرچاشنی اور دل میں اتر جانے والی تاثیر تھی ۔ جو کوئی مرحوم کی تحریر ایک مرتبہ پڑھتا وہ الفاظ کی گرفت اور مطالعہ کی گہرائی کا گرویدہ ہو جاتا تھا۔

علم و ادب کے آسمان کے اس دمکتے ہو ئے سورج کی کرنیں ادب کے متلاشیوں کو صدیوں تک اپنی ضیاء پاشیوں سے منورکرتی رہیں گی اور تشنگان علم انجم سلطان شہباز کی تحریر کردہ کتب سے استفادہ کرتے رہیں گے اور وہ وطن عزیز کی ادبی تاریخ میں اپنی خدمات کی وجہ سے ہمیشہ چاند اور سورج کی طرح روشن رہیں گے ۔مورخ جہلم کا اعزاز رکھنے والے انجم سلطان شہباز کی شخصیت کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ابراہیم ذوق کا یہ شعرنذرنہ کیا جائے تو ادبی یادگار تحریرحقیقت سے تشنہ رہے گی۔

رہتا سخن سے نام قیامت تلک ہے ذوق
اولاد سے تو ہے یہی دو پشت چار پشت

تحریر: سید کبیر حسین شاہ اختر (محلہ کیپٹن شبیر شہید،سوہاوہ ،ضلع جہلم)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.