پڑی درویزہ

پاکستان بھر میں ڈیڑھ کروڑ آبادی کا ووٹر لسٹ میں تاحال اندارج نہیں ہو سکا۔ شرکاء

پڑی درویزہ: پاکستان بھر میں ڈیڑھ کروڑ آبادی کا ووٹر لسٹ میں تاحال اندارج نہیں ہو سکا ۔ 2017ء کی مردم شماری کے مطابق ملکی آبادی میں 50فیصد خواتین کا تناسب ہے جبکہ رجسٹرد ووٹوں میں 59ملین مرد اور 46ملین خواتین کی تعداد شامل ہے ۔ 2018ء کے جنرل الیکشن میں مردوں کے 60فیصد ووٹر ٹرن آؤٹ کے مقابلے میں عورتوں کا صرف 39فیصد ٹرن آؤٹ رہا ۔پوٹھوہار سماجی معاون ادارہ برائے ترقی ’’پودا‘‘ پاکستان کے زیر اہتمام کل پاکستان موبائل زوم کانفرنس میں شامل شرکاء کا اظہار خیال اور تجاویز

تفصیلات کے مطابق پوٹھوہار سماجی معاون ادارہ برائے ترقی ’’پودا ‘‘ پاکستان کے زیر اہتمام کل پاکستان موبائل زوم کانفرنس منعقد کی گئی جس کی میزبانی معمول کے مطابق ریجنل مینجر’’پودا‘‘ضلع چکوال محترمہ ناہیدہ عباسی اور محمد زبیر کر رہے تھے ۔ ادارہ پودا کی صدر محترمہ ثمینہ نذیر بطور مہمان خصوصی کانفرنس میں شامل تھیں ۔

ملکی سطح پر منعقدہ اس موبائل زوم کانفرنس میں صوبہ بلوچستان کے اضلاع لورہ لائی ، کوئٹہ اور نصیر آباد ،صوبہ خیبر پختون خواہ کے اضلاع خیبر، سوات ، کوہاٹ ، وزیر ستان اور اورکزئی اسی طرح صوبہ سندھ کے اضلاع حیدر آباد ، دادو اور بدین ، صوبہ گلگت بلتستان کے ضلع گھانچی اور صوبہ پنجاب کے اضلاع چکوال ، جہلم ، راولپنڈی ، مظفر گھڑ، سیالکوٹ جبکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ضلع سمیت 21اضلاع سے 31خواتین و مرد حضرات شامل تھے ۔

شرکاء میں اکثریت خواتین کی تھی جنہوں نے اب تک الیکشن میں حصہ لیا منتخب ہوئیں چار خواتین الیکشن مہم یا بعد میں پیش آنے والے مسائل اور مشکلات کا جائزہ بیان کیا ۔ اس کانفرنس میں بنیادی طور پر پاکستان میں فرسودہ جاگیردارانہ ، قبائلی اور سماجی اور خاندانی روایات کی وجہ سے خواتین کی محرومیوں اور انتخابی عمل سے دور رکھنے پر بحث کی گئی ۔

ایک مشترکہ تجزیے کے مطابق پاکستان جیسی جمہوری ریاست میں خواتین جو ملکی آبادی کا 50فیصد ہیں کو انتخابی عمل سے دور رکھنے کا پیغام دیا جارہا ہے سوال یہ ہے کہ ملک کی نصف آبادی کو جامع فیصلہ سازی سے دور کیوں رکھا جارہا ہے؟ اس کی بنیادی وجوہات کیا ہیں اور ان سے نجات کیسے حاصل کی جا سکتی ہے ؟

متفقہ طور پر جو بیانیہ سامنے آیا وہ کچھ اس طرح تھا کہ سب سے پہلے تو سماجی سطح پر سرگرم کارکنان اور پودا جیسے اداروں کو ہماری خواتین کو شناختی کارڈ کے حوالے سے شعوری آگاہی دیتے ہوئے ادارہ’’ نادرا‘‘ کے تعاون سے ملک بھر کے دور دراز علاقوں میں موبائل رجسٹریشن وین کے ذریعے زیادہ سے زیادہ خواتین کے شناختی کارڈ بنوانے کے لیے کیمپ منعقد کرنے ہوں گے نیز الیکشن کمشن آف پاکستان تک یہ تجویز پہنچانا لازمی ہے کہ ان دو اداروں کو اس طرح انٹر لنک کیا جائے کہ شناختی کارڈ کے اندراج کے ساتھ ہی مع تصویر بطور رائے دہندہ ہر عورت /مرد کا نام ووٹر لسٹ میں خود کار طریقے سے درج ہو جائے ۔

اس زوم کانفرنس میں میزبان محترمہ ناہیدہ عباسی نے انکشاف کیا کہ ادارہ پودا کی جد وجہد کے نتیجے میں گزشتہ قومی الیکشن کے موقع پر پورے پاکستان میں سے ضلع چکوال میں خواتین کا ووٹر ٹرن آؤٹ سب سے زیادہ یعنی 56فیصد رہا پھر علاقہ دھولر تلہ گنگ جیسے علاقوں سے بھی خواتین کو گھروں سے نکال کر پولنگ سٹیشن جانے پر آمادہ کر لیا ،دوران زوم کانفرنس میزبا ن ناہیدہ عباسی نے محترمہ کشور ناہید کی معروف نظم مختلف وقفوں کے درمیان پیش کی ۔

پودا کی صدر محترمہ ثمینہ نذیر نے ملک بھر سے تمام شرکاء کو شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسی طرح زمانی فاصلوں کے باوجود زوم کانفرنسوں کا سلسلہ جاری رہا تو توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ دن دور نہیں جب پاکستان بھر کی خواتین مردوں کے برابر نہ صرف ووٹ کاسٹ کریں گی بلکہ مجوزہ ویلج ، تحصیل کونسل اورصوبائی ،قومی اسمبلیوں میں بذریعہ الیکشن نمائندگی کریں گی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button