پنڈدادنخان میں ترقی کا سفر؟

تحریر: سید اسد بخاری

0

2004ء میں تحصیل پنڈدادنخان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لے جانے کا سفر شروع ہوا جب اس وقت کے گورنر پنجاب جنرل خالد مقبول نے پنجاب میں ٹیکسلا انجینئرنگ یونیورسٹی کے چار سب کیمپس بنانے کا اعلان کیا اس وقت ٹیکسلا انجینئرنگ یونیورسٹی کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر مختار حسین ساحر تھے ان کا تعلق تحصیل پنڈدادنخان کے شہر کھیوڑہ سے تھا ۔

انہوں نے مٹی کا قرض اتارنے کے لئے فورا تحصیل پنڈدادنخان میں سب کیمپس بنانے کے لئے لابنگ شروع کردی انہوں نے اس وقت ایم پی اے چودھری نذر حسین گوندل کو اعتماد میں لیا جو اس وقت پارلیمانی سیکرٹری تعلیم بھی تھے وہ اس عہدے کے باعث ٹیکسلا انجینئرنگ یونیورسٹی کے سینڈیکیٹ کے ممبر بھی بن گئے پھر ان دونوں نے گورنرپنجاب کے ساتھ بے شمار میٹنگز کرکے انہیں پنڈدادنخان میں سب کیمپس بنوانے کے لیے قائل کر لیا۔

موٹروے پر للِہ انٹرچینج کی موجودگی کے باعث پنڈدادنخان مختلف اضلاع کو ملانے والا ایک خاص علاقہ بن چکا تھا اور تحصیل کی اپنی آبادی بھی چھ لاکھ سے زائد تھی اس تناظر میں سب کیمپس پنڈدادنخان کی منظوری ہو گئی اور ساتھ ہی چکوال مری اور اٹک میں بھی سب کیمپس منظور ہوگئے بعد ازاں اٹک اور مری کے منصوبے منسوخ ہوگئے ۔

2005میں سب کیمپس کے لیے جگہ خریدنے کا مرحلہ درپیش ہوا تو پیسے ندارد ۔تحصیل پنڈدادنخان کی سیاسی قیادت ایم این اے راجہ اسد افضل اور ایم پی اے چوہدری نذر حسین گوندل سب کیمپس کے لئے پیسے منظور کرانے میں ناکام رہے ۔صورتحال کچھ یوں تھی کہ اگر جگہ نہ خریدی جائے تو منصوبے کے منسوخ یا معطل ہونے کا اندیشہ تھا۔

اس موقع پر پھر پروفیسر ڈاکٹر مختار حسین ساحر نے کام دکھایا اور ٹیکسلا انجینئرنگ یونیورسٹی کے اکاؤنٹ میں پڑے ہوئے پیسے استعمال کرنے کا فیصلہ کرلیا پھر انہوں نے چوہدری نذر حسین گوندل کو فنڈ فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی اور چوہدری نذر حسین گوندل نے پنڈدادنخان میں 1800 کنال جگہ ٹیکسلا انجینئرنگ یونیورسٹی سب کیمپس پنڈدادنخان کے لیے ایکوائر کرلی ۔یہ جگہ 32 ملین روپے کی خطیر رقم سے حاصل کی گئی جس کی ادائیگی ٹیکسلا انجینئرنگ یونیورسٹی کے اکاؤنٹ سے ہوئی۔

اب گیند پنجاب حکومت کے کورٹ میں تھی کہ وہ 32 ملین روپے ٹیکسلا انجینئرنگ یونیورسٹی کو واپس کریں اور پھر پی سی ون منظور کرکے یونیورسٹی کی تعمیر کے لئے فنڈ جاری کرے اس وقت یونیورسٹی کی تعمیر کا تخمینہ 945 ملین روپے بنا لیکن ہماری سیاسی قیادت ایک بار پھر یہ فنڈز جاری کرانے میں ناکام رہی اور منصوبہ تعطل کا شکار ہوگیا ۔

یہاں ضلع چکوال کی سیاسی قیادت کی بصیرت کی داد نہ دینا زیادتی ہوگی ایک میٹنگ میں پروفیسر ڈاکٹر مختار حسین ساحر کے حکم پر مجھے بھی میٹنگ میں شامل ہونے کا اعزاز حاصل ہوا وہاں سردار غلام عباس جو اس وقت چکوال کے ضلع ناظم تھے نے اس میٹنگ کے شرکا کو بہت تفاخر سے بتایا کہ پیسے ہمارے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہے میں نے چکوال میں موجود تین سیمنٹ فیکٹریوں کو درخواست کی ہے ان تینوں نے 25 25 ملین روپے مجھے دے دیئے ہیں تاکہ میں جگہ خرید سکوں۔

سردار غلام عباس نے یہاں پر ہی بس نہیں کی بلکہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کو مطمئن کرکے چکوال میں کلاسز کا آغاز بھی کرادیا اس مقصد کے لیے انہوں نے چکوال میں موجود پرانی کچہری کورین ویٹ کر کے اور یونیورسٹی کا نام دے دیا اب وہاں الحمدللہ انجینئرنگ یونیورسٹی کی کلاسز مستقل جاری ہیں ۔مگر ہماری سیاسی قیادت جس میں راجہ اسد افضل اور نذر گوندل یہ اقدامات کرنے میں ناکام رہے ۔

2008 میں منعقد ہونے والے عام انتخابات میں چوہدری نذر حسین گوندل کو شکست ہوئی اور سید شمس حیدر ایم پی اے منتخب ہوگئے جبکہ ایم این اے راجہ اسد افضل بھی منتخب ہوئے علاقہ کی بدقسمتی کہ ان دونوں صاحبان نے یونیورسٹی کیمپس کی تعمیر میں ذرا برابر بھی دلچسپی نہ لی تحصیل پنڈدادنخان میں محبان ویلفیئرسوسائٹی ،پنڈدادنخان ویلفیئر سوسائٹی اسلام آباد اور تحصیل پریس کلب کے ممبران نے مسلسل احتجاج کیا اور حکمرانوں کی توجہ اس امر کی جانب دلوائی جاتی رہی کہ ٹیکسلا انجینئر نگ کا سب کیمپس فوراً پنڈدادنخان میں تعمیر شروع کرکے مکمل کیا جائے لیکن حکمرانوں کے کانوں پر جوں بھی نہ رینگی ا ور منصوبہ تعطل کا شکار ہی رہا ۔

سید منیر حسین بخاری ۔راجہ عتیق جنجوعہ ملک ظہیر اعوان چوہدری اختر آرائیں راقم اور اس کی ٹیم نے متعدد بار ایم این اے اور ایم پی اے سے یونیورسٹی کے بارے میں مذاکرات کیے لیکن نتیجہ صفر رہا ۔وزیراعلی پنجاب میاں شہباز شریف کو مراسلے لکھے گئے میڈیا کے ذریعے ملک ظہیر اعوان نے روزنامہ اوصاف میں خوب مہم چلائی لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا اور پانچ سال گزر گئے۔

2013 کے انتخابات میں مسلم لیگ نون کے ٹکٹ پر چوہدری نذر گوندل اور نوابزادہ اقبال مہدی خان منتخب ہوئے ۔سماجی تنظیمات نے یونیورسٹی کیمپس بنانے کے لیے اپنی مہم جاری رکھی یو ای ٹی کے پراجیکٹ مینیجر نے دوبارہ پی سی ون پر کام شروع کیا منصوبہ 945 ملین سے بڑھ کر ایک ہزار چھ سو ملین پر جا پہنچا ہائرایجوکیشن کولیٹر لکھا گیا خوب زور لگایا ہماری سیاسی قیادت وزیراعلی پنجاب اور وفاق دونوں سے فنڈز نکلوانے میں ناکام رہی ۔

2014 میں راجا قمر الاسلام ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ممبر منتخب ہوئے تو ہمارے اس وقت کے ایم پی اے چودھری نذرگوندل کی درخواست پر انہوں نے ڈیڑھ کروڑ روپے جاری کیے جس سے 2014 میں 18 سو کنال زمین کے گرد چار دیواری تعمیر کی گئی لیکن پی سی ون منظور نہ ہوا اور منصوبہ وہاں کا وہاں ہی رکا رہا ۔وزیراعلی پنجاب میاں شہباز شریف کی مسلسل بے رخی اور عدم توجہی کے باعث مسلم لیگ نون کے اس مضبوط قلعے میں دراڑیں پڑ گئیں ۔

سماجی تنظیمات نے چوہدری فواد حسین کو اپنے مسائل بتائے اور انہوں نے ہمیں قائل کر لیا کہ وہ ایک مسیحا کے طور پر اس زخمی تحصیل کے زخموں پر مرہم ضرور رکھیں گے ۔2018 کے انتخابات میں ضلع جہلم کی عوام نے بالعموم اور تحصیل پنڈدادنخان کی عوام نے بالخصوص مسلم لیگ نواز سے بھرپور انتقام لیا اور ووٹ کی طاقت سے مسلم لیگ نون کے مضبوط قلعے کو زمین بوس کردیا اور چوہدری فواد حسین بلا شرکت غیرے دونوں نشستوں پر کامیاب ہوئے اس تحصیل کے ہردلعزیز لیڈر بن کر ابھرے انہوں نے اس مایوس عوام کے اندر امید کی ایک نئی روح پھونک دی۔

انہوں نے عوام آنکھوں میں موجود خوابوں کو ایک نیا رنگ دیا اب تحصیل پنڈدادنخان کی عوام چوہدری فواد حسین کو ایک مسیحا کے روپ میں دیکھ رہی ہے ۔چوہدری فواد حسین کی ذرا سی غفلت یا تھوڑی سی عدم دلچسپی یہ عوام کسی صورت برداشت نہ کر سکے گی ۔2019 میں ایک بار پھر یو ای ٹی کے پراجیکٹ مینیجر جناب عدیل اکرم صاحب نے دوبارہ پی سی ون ریوائز کردیا ہے اب یونیورسٹی کی تعمیر کا تخمینہ 225 کروڑ پر جاپہنچا ہے انہوں نے پی سی ون بنا کر تمام دستاویزات ہائر ایجوکیشن کمیشن کو بھجوا دی ہیں اگر اس بجٹ میں بھی پی سی ون منظور نہ ہوا اگر اس بار بھی ہائر ایجوکیشن کمیشن سے ایڈمن اپروول نہ ملی تو یونیورسٹی کی تعمیر ممکن نہ ہوگی امید کی کرن بجھ جائے گی ۔

جناب چوہدری فواد حسین صاحب آپ اس وقت سائنس اور ٹیکنالوجی کے وزیر ہیں اس تحصیل کی عوام آپ کی جانب دیکھ رہی ہے یہ منصوبہ پندرہ سال سے کسی مسیحا کا منتظر ہے ۔جناب آپ تبدیلی کے دعویدار بن کر سامنے آئے ہیں اگر اب بھی اس تحصیل میں اندھیروں کا راج رہا تو عوام کی امیدیں دم توڑ جائیں گی سیاست اور سیاستدانوں سے اعتماد اٹھ جائے گا جناب اس تحصیل کے چھ لاکھ لوگ خوابوں اور امیدوں کو قبرستان میں دفن ہوتا نہیں دیکھ سکتے ۔جناب یہ امیدوں کے چراغ روشن ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں ۔جناب آپ اس تحصیل کی امید کا چراغ ہیں اگر

آپ نے بھی کسی مصروفیت کی بات کی ۔۔۔۔۔۔۔۔ جناب اگر آپ نے بھی اختیارات کے نہ ہونے کا رونا رویا۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر آپ نے بھی خوابوں کو پاؤں تلے روند ہا ۔۔۔۔۔۔۔۔جناب اگر آپ نے بھی امیدوں کے چراغ گل کردیئے ۔۔۔۔۔۔۔۔

تو یقین مانئیے یہاں کے لوگ اس طرح کاترانہ گانے پر مجبور ہوجائیں گے۔۔۔ ظلم کی شب ختم تو ہونی ہے حشر کا دن کبھی تو آنا ہے حشر ان کے لئے وہی ہوگاجب گریباں کی دھجیاں لے کر لوگ اپنے علم بنائیں گے پھر یہ کس شہر میں پناہ لیں گے پھر کہاں بھاگ کر یہ جائیں گے جناب امیدوں کے دیے بجھنے مت دیجئے گا ۔خوابوں کے نگینے ٹوٹنے مت دیجیے گا ۔

آپ اس اندھیرے میں روشنی کے سفیر بن جائیں اس آنے والے بجٹ میں ٹیکسلا انجینئرنگ یونیورسٹی سب کیمپس پنڈدادنخان کاپی سی ون منظور کروا دیجیے ۔ہائر ایجوکیشن کمیشن سے ایڈمن اپروول دلوا دیجیئے ۔یقین مانیں صرف یہ ایک کام اس تحصیل میں علم کی روشنی پھیلا دے گا یہاں کے اندھیروں کو ختم کردے گا ترقی کا ایک نیا سفر شروع کر دے گا ۔ جناب آپ پورے ملک کا مقدمہ لڑتے رہے ہیں اللہ نے آپ کو موقع دیا ہے اس تحصیل کا مقدمہ بھی لڑ کر دیکھ لیں۔

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.