پنڈدادنخان میں نجی سکول و کالج مالکان نے انت مچا دی، بڑے بڑے سکول دوکانوں میں قائم

0

دھریالہ جالپ: تحصیل پنڈدادنخان میں نجی سکول و کالج مالکان نے انت مچا دی بڑے بڑے ناموں والے فرنچائر سسٹم سکول بھی اب دکانوں میں بننے لگ پڑے ، تحصیل پنڈدادنخان میں محکمہ تعلیم کے افسران نے چند ٹکوں کی خاطر سکول و کالج اور یونیورسٹیاں دکانوں اوربھوت بنگلہ عمارتوں میں،بنانے کی کھلی چھٹی دے دی جبکہ زیادہ تر نجی تعلیمی ادارے گورنمنٹ سکولوں کے حاضر سروس اساتذہ کی زیرِ سرپرستی چل رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ضلع جہلم کی پسماندہ تحصیل پنڈدادنخان میں نجی سکول و کالج اور یونیورسٹی مالکان نے انت مچا دی۔محکمہ تعلیم کے کلرکوں کی ملی بھگت سے بڑے بڑے ناموں والے فرنچائر سسٹم سکول بھی اب دکانوں میںبننے لگا پڑے۔ تحصیل پنڈدادنخان میں محکمہ تعلیم کے افسران اور کلرک صاحبان کی آشیرباد پر دکانوں اوربھوت بنگلہ عمارتوں میں سکول وکالج اور یونیورسٹیاں بن گئیں ۔متوسط ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ نجی سکول و کالج اور یونیورسٹیاں اب6’X8’کی دکانوں میں بنا کر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکی جا رہی ہیں کیونکہ ان دکانوں میں تو موسمِ گرما میں ایک بندے کا بیٹھنا مشکل ہوتا ہے لیکن یہاں پر ایک دکان میں 40سے زیادہ بچے بیٹھانا خدارا کیا حال ہوگا ان معصوم ننھی کلیوں کا؟ ۔

گورنمنٹ سکولوں کے اساتذہ اپنی گورنمنٹ کی نوکری کو وقت نہ دیتے ہوئے ان نجی تعلیمی اداروں میں پڑھا کر فخر محسوس کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پنجاب گورنمنٹ محکمہ تعلیم کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہم اپنے بچوں کو گورنمنٹ سکولوں میں پڑھانا پسند نہیں کرتے تو دوسروں کے بچوں کے پڑھائیں کیوں؟ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ زیادہ تر نجی تعلیمی اداروں کے سربراہان بھی حاضر سروس گورنمنٹ اساتذہ ہیں کیونکہ اس گھناونے کاروبار میں محکمہ تعلیم کے افسران اور کلرک حضرات کیساتھ ساتھ سفید پوش اساتذہ بھی شامل ہیں حالانکہ اگر محکمہ تعلیم کی پالیسیوں کو دیکھا جائے تو نجی تعلیمی اداروں کی عمارتوں کا بلڈنگ سرٹیفیکیٹ، ہائی جینک سرٹیفکیٹ لیا جاتا ہے۔

ایک سروے کے مطابق80فیصد نجی تعلیمی اداروں کی بلڈنگ اْس معیار پر پورا نہیں اْترتی ہیں۔ اسی طرح جنوبی پنجاب سے آکر تحصیل پنڈدادنخان میں سکولوں کا جال بچھا کراور صرف ایک رجسٹرڈ برانچ کیساتھ باقی تحصیل بھر میں بغیر رجسٹریشن کے سکولوں کا کاروبارعروج پر ہے متوسط ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ تحصیل پنڈدادنخان میں بہت تھوڑی تعداد میں رجسٹرڈسکول ہیں اور باقی لوگ محکمہ تعلیم کے افسران اور کلرکوں کی ملی بھگت سے غیر رجسٹرڈ سکول بنا کر بھاری فیسیں وصول کر کے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں ۔

پوری تحصیل میں صرف ایک کالج رجسٹرڈ ہے جبکہ یونیورسٹی کی رجسٹریشن کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اسی طرح ان نجی تعلیمی اداروں میں بچے اور بچیوں کو اکٹھا پڑھایا جاتا ہے جبکہ محکمہ تعلیم پنجاب کا آرڈر ہے کہ مڈل اور ہائی سیکشن میں طلباء اور طالبات علیحدہ علیحدہ پڑھائیں لیکن یہاں تو آوئے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔کمرشل بلڈنگز میں بنے یہ نجی تعلیمی ادارے محض کاروبار اور پیسے بٹورنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں کر رہے ہیں خدارا اگر کاروبار کرنا ہے تو اور بہت سے کام ہیں کاروبار کیلئے اس پیغمبری پیشے کیساتھ تو کھلوار مت کریں۔

اگراس گھناونے کاروبار کو نہ روکا گیا تو ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل تاریک سے تاریک ترہو گا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کاروبار روکے گا کون؟ کیونکہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی کے چک شادی مرکز کے اسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر کے دفتر کا حال دیکھ کر ہی ہمیں ہمارے ایجوکیشن سیکٹر پر رشک آتا ہے جہاں افسران اور ملازم تو دور کی بات بھینسیں بندھی رہتی ہیں جبکہ محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران اور اساتذہ کو وٹس ایپ گروپس میں چیٹ کرنے اور فیس بک گروپس میں گورنمنٹ کی پالیسیوں پر تنقید کرنے کے بعد فرصت ملی تو وہ گراونڈ رئیلٹی پر آئیں گے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.