درخت لگاؤ مہم

تحریر: غضنفر علی اکرام

0

خواتین و حضرات موسم برسات کی آمد آمد ہے اور آئیے اس موسم کے مطابق شجرکاری مہم چلائیں پاکستان کو اس وقت سرسبز بنانا ہمارا نہ صرف ملی و قومی بلکہ دینی فریضہ بھی ہے کیونکہ درخت لگانا صدقہ جاریہ بھی ہے اور ماحولیاتی توازن کے لئے ضرورت بھی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی ملک کے مجموعی رقبہ کے 25% حصے پر درختوں کا ہونا ضروری ہے مگر انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان کے صرف 3–5% رقبے کے برابر درخت اور جنگلات ہیں جو نہ ہونے کے برابر ہے۔

مزید یہ کہ ہر سال ہم عمارتی اور ایندھنی لکڑی کے حصول کے لئے اور رہائشی سکیموں کے لئے بے تحاشا جنگلات کاٹ رہے ہیں اور عوامی اور حکومتی سطح پر ہمیں احساس زیاں بھی نہیں ہے کہ ہم نئی شجر کاری نہ کر کے اپنے بچوں کے مستقبل کو برباد کر رہے ہیں پہلے ہی ہمارے ملک میں موسم شدید گرم ہو چکا ہے اور بعض علاقوں میں تو درجہ حرارت پچاس ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر جاتا ہے۔

مزید براں موسم گرما بہت لمبا اور موسم سرما بہت چھوٹا ہو چکا ہے سیلابوں سے ہر سال قیمتی زرعی زمین برباد ہو جاتی ہے بارشوں کا قدرتی نظام بھی وطن عزیز میں اتھل پتھل ہو چکا ہے اور اس سب کچھ کی وجہ درختوں کی کمی ہے نئے درخت لگانا نہ تو مشکل بات ہے نہ اس کے لئے کسی انویسٹمنٹ کی ضرورت ہے اگر ضرورت ہے تو قومی اور مذہبی احساس ذمہ داری کی ہے۔

ہر گھر میں روزانہ کوئی نہ کوئی پھل استعمال ہوتا ہے اور اس کے بیج ضائع کر دئیے جاتے ہیں اگر ہم اپنے گھر میں ان بیجوں سے ایک دو درخت اگا لیں اور ان کی حفاظت اور آبیاری کر لیں تو بہت کم عرصے میں ہم اپنا موسم گرما معتدل بنا سکتے ہیں ورنہ بہت جلد ہمارے ملک میں گلوبل وارمنگ کی وجہ سے ایسے شدید مسائل سر اٹھائیں گے کہ جن کا کوئی حل ہمارے پاس نہیں ہو گا۔

میری تجویز ہے کہ تمام والدین اپنے بچوں میں سے ہر ایک کے نام کا ایک ایک درخت لگائیں اور اپنے بچوں اور ان کے درختوں کی پرورش کریں اور جن لوگوں کے پاس جگہ ہے وہ اپنی بیٹی کے نام کے ایک سو درخت لگا دیں جب بیٹی شادی کی عمر کو پہنچے گی تو یہی درخت اس کی شادی کا سارا خرچ پورا کر دیں گے کوئی بھی کام مشکل نہیں ہوتاصرف ایک قدم اٹھانے کی ضرورت ہوتی ہے مقاصد حاصل ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔

آیئے پھر اس بار ابتدا کریں اور اپنے گھر، محلے، سکول، سڑکیں، قبرستان، ہسپتالوں، فیکٹریوں اور بنجر اور ویران علاقوں اور جہاں بھی کچھ خالی جگہ ملے وہاں درخت لگا کر اس جگہ کو سر سبز و شاداب بنا دیں اور درخت لگاتے وقت درختوں کا انتخاب موسمی حالات کے مطابق کریں اور ایسے درخت لگائیں جنہوں نے اس مخصوص ماحول کے ساتھ مطابقت قائم کر لی ہے اور کم پانی میں بھی جن کی نشوونما بہتر طور پر جاری رہ سکے یہ مہم زورو شور سے چلائیں ۔

حضور نبی کریم ﷺ کی اس حدیث پر عمل کریں کہ اگر تم نے کوئی ہری شاخ زمین میں لگانے کے لئے اٹھائی ہو اور تمہیں صور اسرافیل کی آواز آ جائے اور تمہیں پتہ چل جائے کہ اب دنیا فنا ہے کچھ بھی نہیں بچنے والا تب بھی قیامت بپا ہونے سے پہلے اس شاخ یا درخت کو زمین میں گاڑ دو تا کہ تمہارا اجر ضائع نہ جائے کیوں کہ درخت جب تک ہرا رہتا ہے وہ اللّہ?تعالیٰ کی حمد و ثنا کرتا ہے اور اس سے چرند پرند اور کیڑے مکوڑوں کو رزق سایہ اور مسکن ملتا ہے اور یہی بات درخت لگانے والے کے لئے صدقہ جاریہ بنتا ہے۔

اس لئے اس موسم برسات میں اپنے لئے اجر عظیم کا بندوبست کریں اور اپنی دنیا اور عاقبت دونوں سنوارنے کا سامان کریں ۔۔۔۔
شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.