جہلم

جہلم پولیس کا تیز ترین انصاف، متعدد بچوں سے زیادتی کرنے والے مجرم کو کھلی چھٹی

جہلم پولیس کا تیز ترین انصاف، تھانہ صد کے علاقے کھرالہ میں متعدد بچوں سے زیادتی کرنے والے مجرم کو کھلی چھٹی ، ڈی پی او کے حکم کے باوجود تھانہ صدر چار دن سے ملزم کو فرار ہونے کی مکمل مہلت دینے لگا، ڈی پی او جہلم کو بھی اہلکاروں نے بے بس کر دیا، ڈی پی او دفتر کے احکامات کو تھانوں میں کوئی اہمیت نہیں دی جاتی ، صرف طفل تسلیاں دی جارہی ہیں ، ملزم اور اس کے بھائی بھی بدفعلی کے کئی واقعات میں ملوث رہ چکے ہیں لیکن آج تک ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی ، اہل علاقہ کا بیان ، متاثرہ بچے کی والدہ کا جنسی درندے کو فوری کیفر کردار تک پہنچانے اور انصاف کا مطالبہ۔

جہلم شہرمیں معصوم بچوں کو بدفعلی کا نشانہ بنانے کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور جنسی درندوں کو اس گھناؤنے کھیل میں جہلم پولیس کے اہلکاروں کی بھر پور مدد حاصل ہے۔ چند روز قبل تھانہ صدر کے علاقے کھرالہ میں ایک اوباش شخص نے اپنے ہی محلے کے ایک گیارہ سالہ بچے( غ) کو اپنے گھر بلا کر بدفعلی کا نشانہ بنا ڈالا اور بچے کو ڈرا دھمکا کر گھر بتانے سے منع کئے رکھا۔

بچے کی طبیعت خراب دیکھ کر اہلخانہ کے کریدنے پر بچے نے ساری تفصیل بتادی جس پر اوباش شخص کے گھر والوں سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ یہ شخص پہلے بھی ایسے کام کرتا رہا ہے آپ نے جو کارروائی کرنی ہے کرو جس کے بعد بچے کی والدہ ، متاثرہ بچے اور گواہ کے ساتھ ڈی پی او جہلم کے دفتر پیش ہوئی اور اوباش شخص کے خلاف کارروائی کیلئے درخواست شکایات سیل میں جمع کروائی۔

ڈی پی او دفتر کی جانب سے کہا گیا کہ آج شام ہی آپ کو تھانے بلاکر مقدمہ کی کارروائی شروع کی جائے گی لیکن ڈی پی او جہلم کے حکم کے باوجود چار دن سے زائد وقت گزر جانے کے باوجود تھانہ صدر نے متاثر ہ خاندان سے رابطہ کرنے کی زحمت ہی نہیں کی جبکہ بدفعلی کے ملزمان دھندناتے پھر رہے ہیں اور متاثر ہ خاندان جس کا سربراہ بسلسلہ روزگار بیرون ملک ہے کو سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دے رہے ہیں۔

جہلم اپڈیٹس کی ٹیم کو اہل علاقہ نے بتایا کہ واقعہ کے بعد ایک دوبار پولیس ملازمین نے ملزم کے گھر چکر لگائے اور مبینہ مک مکا ، لین دین کے بعد خاموشی سے واپس چلے گئے۔ اہل علاقہ نے بتایا کہ ملزم پہلے بھی کئی بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنا چکا ہے او ر اس کے بھائی بھی اسی کام میں ملوث ہیں لیکن آج تک کئی لوگوں نے عزت بچانے کی خاطر خاموشی اختیار کر لی جبکہ جس کسی نے پولیس سے رابطہ کرنے کی کوشش کی اس کو پولیس نے خاموش کروادیا جس سے واضح ثبوت ملتا ہے کہ اس درندے کی پشت پناہی محکمہ پولیس کی کالی بھیڑیں کررہی ہیں۔

اہل علاقہ اور متاثر ہ بچے کی والدہ نے وزیر اعلی پنجاب، آئی جی پنجاب اور آر پی او راولپنڈی سے جنسی درندے کے خلاف فوری کارروائی کرنے اور علاقہ کے دیگر بچوں کو اس سے محفوظ کرنے کی اپیل کی ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button