پاکستان میں کورونا وائرس کی صورتحال

مصدقہ کیسز
80,463
+4,065 (24h)
اموات
1,688
+67 (24h)
صحت یاب
28,923
35.95%
زیر علاج
49,852
61.96%
تارکین وطناہم خبریں

”بچوں کی فکر مت کرنا” آخری جملہ جسے سننے کے بعد پاکستانی نژاد برطانوی نرس کورونا سے انتقال کر گئیں

لندن: ”بچوں کی فکر مت کرنا” آخری جملہ جسے سننے کے بعد پاکستانی نژاد برطانوی نرس اریمہ نسرین جہاں فانی سے کوچ کر گئیں، مرحومہ کے شوہر آخری لمحات میں ڈاکٹرز کی جانب سے روکے جانے کے باوجود اپنی اہلیہ کو گلے لگانے سے نہ رک پائے۔

بتایا گیا ہے کہ پاکستانی نژاد برطانوی نرس برطانیہ میں نئے نوول کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 سے جاں بحق ہونے والی پہلی نرس بن گئیں۔

بتایا گیا ہے کہ جب نرس اریمہ نسرین کا انتقال ہوا تو آخری لمحات میں ہسپتال میں جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔ اریمہ نسرین کے شوہر آخری لمحات میں اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور کورونا وائرس خطرے کے باوجود انہوں نے اپنی اہلیہ کو گلے لگا لیا۔ ڈاکٹرز نے انہیں ایسا کرنے سے روکنے کی کوشش کی، تاہم ناکام رہے۔

شوہر نے اریمہ نسرین کے کان میں سرگوشی کی اور کہا کہ "بچوں کی فکر مت کرنا” اس جملے کو سننے کے بعد اریمہ نسرین نے آخری سانس لی اور جہاں فانی سے کوچ کر گئیں۔ بتایا گیا ہے کہ 36 سالہ اریمہ نسرین 15 سال تک ایک ہسپتال میں کلینر کے طور پر کام کرتی رہی تھیں، مگر پھر انہوں نے نرس بننے کے خواب کو تعبیر دینے کے لیے نرسنگ کی تعلیم حاصل کی۔3 بچوں کی ماں اریمہ نسرین کو ان کے دوست ایک مثبت، روحانی، پرمزاح اور کھلے دل کی مالک شخصیت قرار دیتے تھے۔

اریمہ نسرین کسی اور بیماری کا شکار نہیں تھیں اور والسل مینور ہسپتال کے آئی سی یو میں وہ کووڈ 19 (کورونا وائرس) کے خلاف جنگ ہار گئیں۔اس ہسپتال میں وہ برسوں سے کام کررہی تھیں اور 2 ہفتے قبل مریضوں کی نگہداشت کے دوران وہ کورونا وائرس میں مبتلا ہوئیں تھیں۔اریمہ نسرین اپنی زندگی کی کہانی دوسروں کا حوصلہ بڑھانے کے لیے بھی بیان کرتی تھیں تاکہ وہ اپنے خوابوں کو تعبیر دے سکیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close