پنڈدادنخاناہم خبریں

کھیوڑہ سمیت تحصیل پنڈدادنخان میں واپڈا کا ترسیلی نظام مکمل طور پر ناکارہ ہو گیا

کھیوڑہ سمیت تحصیل پنڈدادنخان کے اطراف میں واپڈا کا ترسیلی نظام مکمل طور پر ناکارہ ہوا پڑا ہے، متعدد بار اعلی حکام کی توجہ اس جانب مبذول کروائی جاچکی ہے، محلہ اسلام گنج،محلہ دھمرایا،سمیت محلہ بلوچاں میں لگے ٹرانسفارمر کی وولٹیج 120 اور 250 کے درمیان چھلانگیں لگانے لگے،لاکھوں روپے کا سامان روزانہ کی بنیاد پر ناکارہ ہو رہی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق تحصیل پنڈدادنخان بھر میں واپڈا کا ترسیلی نظام بیٹھ گیا، وولٹیج کم زیادہ ہونے کی وجہ سے لاکھوں روپے کی بجلی سے چلنے والی اشیاء ناکارہ ہونے لگیں جبکہ بجلی کے ذریعے کام کرنے والے درزی،خراد مین، ٹائر شاپ، ویلڈر،پلمبر،چھوٹی بڑی ورکشاپیں، آٹے والی چکیاں، الیکٹرانک شاپ کے کاروبار سے وابستہ افراد جو کہ پہلے ہی کورونا کی وجہ سے کام نہ ہونے کے باعث پریشانیوں کا شکار ہیں واپڈا کی نااہلی کے باعث فاقوں کا شکار ہونے لگے جبکہ شدید گرمی کے باعث شہری بھی شدید پریشانی میں مبتلا۔

پنڈدادنخان میں لگے درجنوں ٹرانسفارمر اپنی عمر پوری کر چکے جن میں چند ایک کوخرابی کی صورت میں مرمت اور باقی مکمل غائب ہوجاتے ہیں جن کا لوڈ دوسرے ٹرانسفامرز پر منتقل کر کے جان چھڑا لی جاتی ہے، عارضی اور ناقص مرمت کی وجہ سے یہ بزرگ ٹرانسفارمر نہ صرف بجلی کی ترسیلی نظام کو متاثر کرتے ہیں بلکہ وولٹیج کی کمی بیشی کا سبب بنتے ہیں اسی وجہ سے عوام کی لاکھوں روپے کی اشیاء کے جلنے کا باعث بننے کے ساتھ ساتھ اکثر اوقات آگ کے شعلے بی اگلتے رہتے ہیں جس کے باعث کسی بھی وقت شہر میں کوئی ناخوشگوار حادثہ ہو سکتا ہے۔

یاد رہے کہ پچھلے سال بھی اسی ترسیلی نظام کے باعث متعدد جگہوں میں آگ لگنے کی وجہ سے کروڑوں روپے کے نقصانات ہو چکے ہیں جبکہ یہ نظام شہر میں اتنا بوسیدہ ہو چکا ہے کہ کسی بھی مالی اور جانی نقصان کا موجب بن سکتا ہے، گزشتہ برس عوامی شکایات پر وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین نے تحصیل پنڈدادنخان کے لیے چالیس سے پچاس کے قریب ٹرانسفارمرز کا وعدہ کیا تھا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close