ڈسٹرکٹ جیل سپرٹینڈنٹ نے جرمانہ کی رقم 1 لاکھ 31 ہزار کا بندوبست کر کے قیدی کو رہائی دلا دی

0

جہلم: ڈسٹرکٹ جیل سپرٹینڈنٹ کا کارنامہ،جرمانہ کی رقم 1 لاکھ 31 ہزار کا بندوبست کر کے قیدی کو رہائی دلا دی،ایک سال کی سزا پانچ مہینے میں ہی ختم ہو گئی،اگر علی رضا اپنے بچے کا خرچہ کی ڈگری والی رقم ادا نہ کرتا تو اس کی ادائیگی تک اسے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہی رہنا تھا صرف یہی نہیں بلکہ میاں بیوی کی مفاہمت کروا کر اجڑا ہوا آشیانہ آباد کروا دیا۔

ڈسٹرکٹ جیل سپرٹینڈنٹ فرخ سلطان نارو نے گزشتہ روز اپنے آفس میں میڈیا کے نمائندوں کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ جیل میں صرف ملزم ہی نہیں آتے بلکہ غربت کے ہاتھوں مجبور بے بس بھی آجاتے ہیں،آج جیل کے ایک بے بس ،غریب قیدی علی رضا کی رہائی کے آرڈر جاری ہو چکے ہیں ،جس کی شادی نئی آبادی کھرالہ کے رہائشی بابا صدیق کی بیٹی رخسانہ سے ہوئی ،رخسانہ اور علی رضا کی ناچاکی اور پھر بچے کے خرچے کے عدالت میں کیس کی وجہ سے نوبت طلاق تک جا پہنچی۔

انہوں نے بتایا کہ عدالت سے ڈگری ہوئی تو علی رضا کو بچے کے خرچہ کی رقم ایک لاکھ 31ہزار روپے کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ ایک سال کی سزا بھی ہوئی،خرچہ اس کے سات سالہ بچے کا تھا ،علی رضا نفسیاتی مریض بھی تھا،معاشی حالات خراب ہونے کی وجہ سے ان کی ازدواجی زندگی پر برے اثرات مرتب ہوئے،یہاں تک کہ یہ بات طلاق تک آ پہنچی اور عدالت میں علی رضا کے خلاف اسکی بیوی نے بچے کے خرچے کا کیس کیا،جس میں اس کو ایک سال سزا اور ایک لاکھ 31ہزار روپے جرمانہ ہوا ،یہ پانچ ماہ سے جیل میں تھا اورمیں نے جیل میں اس کا نہ صرف ماہر نفسیات سے باقاعدہ علاج کروایا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ مذہبی لحاظ سے بھی اس پر توجہ دی جس کی بناء پر یہ باقاعدگی سے نماز پڑھنے اور قرآن پاک کی تلاوت کرنے لگا،جس سے اس کے رویوں میں بھی تبدیلی آئی۔

انہوں نے بتایا کہ ہم نے مخیر حضرات کے تعاون سے اس کے جرمانہ کی رقم کا انتظام کیا اور اس کے ساتھ ساتھ اس کی بیوی کے ساتھ مفاہمت بھی کرادی ہم نے ایک لاکھ 31ہزار روپے رخسانہ جو کہ اس کی بیوی تھی کو رقم ادا کی ہے اور اس نے اپنی مرضی سے اپنے خاوند کو اس رقم میں 31ہزار روپے دیئے ہیں کہ وہ کوئی کاروبار کر کے اپنی روزی کما سکے، باقی رقم سے رخسانہ صنعت زار کے انچارج کی مشاورت سے سلائی کا کام شروع کریگی جس کا اہتمام بھی ہم نے کروایا ہے،تاکہ آئندہ کی ازدواجی زندگی میں معاشی حالات کی وجہ سے ایسے تلخ حالات پیدا نہ ہوں ۔ہم نے یہ سب انسانیت کی بہتری کے لیے کیا ہے،اللہ تعالیٰ ہمیں ایسے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

انہو ں نے مزید کہا کہ جب میں نے جہلم جیل کا چارج لیا تھا تو 850اسیرا ن تھے،اب ان کی تعداد کم ہو کر 660رہ گئی ہے،اگر اپنے فرائض احسن طریقے سے انجام دیئے جائیں تو جیلوں میں قیدیوں کی تعداد کم کی جا سکتی ہے،ایسے غریب قیدیوں کے لیے ہم تھوڑی سی کوشش کے بعد ان کو نہ صرف آزاد کروا سکتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ انہیں معاشرے کا فعال فرد بھی بنایا جاسکتاہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.