فواد آیا ، سواد آیا

تحریر: چوہدری زاہد حیات

0

13 اپریل وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد دن کے گیارہ بجے ہی دورہ پنڈدادنخان کے سلسلے میں کوڑا چوران پہنچ گئے۔ جہاں پر چیرمین یونین کونسل گول پور ڈاکٹر نصیر کھنڈوعہ کی قیادت میں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا فضا چوہدری فواد زندہ باد پاکستان تحریک انصاف زندہ باد اور عمران خان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی۔

چوہدری فواد ہر ہفتے کو اپنے حلقے کا دورہ کرتے ہیں لیکن یہ دورہ ہر لحاظ سے منفرد تھا۔منفرد اس لیے کہ چوہدری فواد حلقے کے ان علاقوں میں پہنچے جہاں شاید پٹواری یا تحصیل دار بھی مشکل سے جاتے ہیں۔چوہدری فواد کوڑا چوران کے بعد کوٹ کچا پہنچے یہ وہ کوٹ کچا ہے جو آج اس دور جدید میں بھی بجلی جیسی سہولت سے محروم تھا۔یہ وہ کوٹ کچا ہے جس کو تحصیل کے مکین بھی شاید آج تک نا دیکھ پائے ہوں۔کوٹ کچے جاتے ہوئے یہ احساس ہوا کہ میں جتنا اپنی تحصیل کو پس ماندہ سمجھتا رہا یہ بدقسمت علاقہ اس سے بھی زیادہ پس ماندہ ہے۔

کوٹ کچے کے راستے پر جاتے ہوئے لوگوں نے جب چوہدری فواد کو دیکھا تو یقین کریں ان کی آنکھوں میں بے یقینی تھی۔کہ ان کے پاس ان کا منتخب نمائندہ اور وفاقی وزیر ان کے پاس پہنچ گیا ہے جہاں پٹواری تک نہیں پہنچ پاتا۔یہ بے یقینی چوہدری فواد کو دیکھ کر یقین میں بدلی۔ان بے بس لوگوں کے چہروں پر خوشیاں بکھر گئیں اور فضا ایک بار پھر چوہدری فواد اور پاکستان تحریک انصاف کے نعروں سے گونج اٹھی۔یہ لوگ ایک حقیقی تبدیلی دیکھ رہے تھے ان کو لگنے لگا۔کہ ان کا انتخاب درست تھا۔

چوہدری فواد کا رویہ بھی باعث حیرت تھا ان لوگوں کے لیے کہ پاکستان کی سیاست کا مرکزی کردار وفاقی وزیر ان کے درمیان ان کا بیٹا بھائی بن کر ان کے مسائل سن رہا تھا حل کے احکامات بھی دے رہا تھا۔اور فضا فواد آیا صواد آیا کے نعروں سے گونج رہی تھی۔ کوٹ کچا سے پھتر ندی کا سفر ایک آزمائش تھا۔ سڑک نام کی چیز اس علاقے میں نہیں تھی کچا راستہ ناہموار راستہ ایسا لگ رہا تھا کہ شاید یہ علاقہ ابھی قرون وسطی کے دور میں ہو لیکن چوہدری فواد نے سفرکے لیے کچے اور مشکل راستے کا انتخاب کیا تاکہ وہ اپنے حلقے کو اپنے لوگوں کی مشکلات کو دیکھ سکیں اس حلقے کے لوگوں کے لیے بھی عجیب سا نظارہ تھا کہ حکومت وقت کا ایک سرکردہ وزیر ان کے درمیان سے انھی کے راستے پر چل رہا تھا۔

گندم کاٹتے لوگ حیران بھی ہو رہے تھے خوشیاں بھی بکھر رہیں تھیں کہ چوہدری فواد انتظامیہ کو بتا رہیں کہ یہ بھی میرا حلقہ یہ بھی میرے لوگ آج میں ان کے درمیان تو انتظامیہ کو بھی ان کے مسائل کے حل کے لیے ان علاقوں میں آنا ہو گا۔ سارا راستہ فواد آیا صواد کے نعروں سے گونجتا رہا اور یہ نعرہ کسی الیکشن کمپین کے نہیں تھے یہ لوگوں کے دل سے نکلے ہوئے نعرے تھے۔جب پھتر ندی پہنچے تو سورج آگ برسا رہا تھا گرمی اور سورج عین سر پر۔قافلے میں ہم جیسے لوگ گھبرائے ہوئے تھے۔اور چھاؤں اور آرام چاہتے تھے۔

چوہدری فواد کے چہرے پر نا تھکن نا بیزاری بلکہ ان عام لوگوں کے درمیان عجیب سی خوشی تھی چوہدری فواد کے چہرے پر۔اور چوہدری فواد یہاں بھی بھائی اور بیٹا بن کر مسائل سن رہے تھے ان لوگوں کو یہ احساس دلا رہے تھے کہ اب یہ حلقہ لا وارث نہیں اب آپ جہلم ہی نہیں پنجاب بلکہ پاکستان کی قسمت کے فیصلوں میں شامل۔ لوگ الیکشن کے بعد بدل جاتے ہیں بدلے چوہدری فواد بھی لیکن یہ بدلاؤ بہت مثبت اپنے حلقے کے عوام کے ساتھ ان کا رویہ وزیر جیسا نہیں ایک بھائی کا ہے ایک بیٹے کا ہے۔پنڈدادنخان کے دورہ افتادہ علاقوں پر ایسی خصوصی توجہ اس بات کی غماز کہ چوہدری فواد اگر جہلم سے غافل نہیں کھیوڑہ کے مسائل کا انھیں علم تو کچا کوٹ بھی ان کی نظر میں۔ یہ دورہ ہر لحاظ سے یہ ثابت کر رہا کہ چوہدری فواد کی سیاست کا محور عام لوگوں تھے اور ہیں۔

چوہدری فواد انشاء اللہ اس حلقے کے لیے وہ کچھ کریں گے کہ کہ پاکستان کے باقی حلقے رشک کریں گے۔کیونکہ چوہدری فواد کے پاس عزم صلاحیت اور قد کاٹھ سب کچھ ہے اور جب وہ حلقے میں آتے تو وفاقی وزیر بن کر نہیں عام لوگوں کے بھائی اور بیٹے بن کر آتے۔اس بات کے گواہ اس حلقے کے عوام نا پروٹوکول نا سیکورٹی چیکنگ کوئی بھی مل سکتا آپنا مسئلہ بتا سکتا۔جس کو یہ بھی پتہ کہ کوٹ کچا بجلی کی ضرورت اور کوڑا چوران بجلی اور تحصیل بھر میں ڈاکٹروں کی۔تو جناب پھر نا خوش آمد سے نا کسی کے کہنے سے بلکہ لوگوں کے دل سے یہ نعرہ نکلتا

فواد آیا۔سواد آیا

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.