سعید احمد ضیا سے ملاقات

0

کہتے ہیں کہ انسان فرشتہ نہیں ہوتا لیکن اپنے اعمال کی وجہ سے فرشتہ نما ضرور بن سکتا ہے ہمارے مذہب میں کہا گیا ہے کہ دکھی انسانیت کی خدمت صدقہ جاریہ ہے لیکن یہ کسی کسی کے مقدر میں ہوتا ہے بعض لوگ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی اس خدمت اور جذبہ سے محروم رہتے ہیں اور بعض کچھ نہ ہوتے ہوئے بھی اس خدمت کے جذبے سے مالامال ہوتے ہیں اور اس خدمت کا جذبہ اللہ پاک اپنے پیاروں کو ہی دیتا ہے انسانیت کی خدمت کرنے کے کئی طریقے ہوتے ہیں جیسے کہ رب تعالی انسان کو کسی عہدہ پر فائز کرتا ہے یاایسے کام یا کاروبار میں لگا دیتا ہے جس میں لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے تو انسان کے پاس انسانیت کی خدمت کرنے کے لیے بہت بڑا موقع ہوتا ہے کیونکہ وہ ملازمت اور کاروبارکے ساتھ دنیا میں نام بنا سکتے ہیں لیکن وہ اگر چاہیں تو اپنے عہدے اور کام کی مناسبت سے انسانیت کی خدمت کر کے آخرت کے لیے بھی اپنے اعمال بنا سکتے ہیں میری ملاقات بھی کینیڈا میں ایک ایسی شخصیت سے ہوئی کہ میں قلم اٹھائے بغیر نہ رہ سکا۔

میں کینیڈا اپنے بچوں سے ملنے کے لیے آیاتو بچوں نے بتایا کہ وہ ہاوس خریدنا چاہتے ہیں تو میں نے کئی رئیل اسٹیٹ ایجنٹس کو کال کیںزیادہ تر نے کہا کہ بچوں کا کریڈیٹ کیسا ہے ڈاون پے منٹ کتنی ہے میں نے کہا کہ آپ ملاقات کے لیے وقت دیں ہم آپ کو سب پیپر دیکھا دیں گے تو جواب ملتا ای میل کر دیں ہمارا مقصد تھا کہ ملاقات ہو جاتی تو ہم ہر طرح کی بات کر سکتے پھر کچھ دن بعد ایک گروسری سٹور سے چند پاکستانی اخبارات لے آیا تو اشتہارات پر نظر پڑی تو ایک نام سامنے آیا مکان کی خریدو فروخت،مارگیج اور انشورنس کے لیے سعید احمد ضیا سے رابطہ کریںمیں نے سوچا کہ یہ صاحب بھی دوسروں کی طرح بات کریں گے پھر دوبارہ ایک دن اشتہار سامنے آیا تو میں نے فون اٹھایا اور کال کر دی سعید احمد ضیا نے جس حسن اخلاق سے بات کی اور ہمارے کہنے سے پہلے ہی انہوں نے کہا کہ فون پر کھل کر اور تفصیل سے بات نہیں ہو سکتی اگر آپ چاہیں تو مل کر تفصیل سے بات کرتے ہیں ہم بھی یہ ہی چاہتے تھے ملاقات کا ٹائم مقرر ہوا اور میں سوچتا رہا کہ کہیں سعید صاحب کا اخلاق فون پر ہی تو نہیں تھا پتہ نہیں جب ملیں گے تو کیسے ہوں گے لیکن جب ملاقات ہوئی تو سارے خدشے دور ہو گئے انہوں نے جس انداز اور حسن اخلاق سے ہمیں گائیڈ کیا اور مشورہ دیا اس کو بیان کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں کاروبار اپنی جگہ لیکن اپنی مفاد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کسی کو خلوص نیت سے ان کے نفع و نقصان کے متعلق اگاہ کرنا بھی ایک عبادت کا درجہ رکھتا ہے

سعید احمد ضیا سے ملاقات کے بعد ہم واپس آگئے لیکن ایک صحافی ہونے کی وجہ سے مجھے ان سے دوبارہ ملاقات کی تمنا اور ان کے بارے میں مذید جاننے کے بارے میں بے چینی ہو رہی تھی میں نے ان کو دوبارہ ملاقات کے لیے ٹائم لے کر ان کے آفس پہنچ گیا سعید ضیا نے بڑی گرم جوشی سے استقبال کیا ان کے بارے میں جان کر مجھے بہت خوشی بھی ہوئی اور حیرانی بھی کہ ابھی بھی سعید احمد ضیا جیسے لوگ ہمارے معاشرے میں اور وہ بھی کینیڈا جیسے ملک میں موجود ہیں اور ان کا شمار ایسے لوگوں میں ہوتاہے جن پر اللہ پاک کی خاص نظر کرم ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ انسانیت کی خدمت کے جذبہ سے مالا مال ہوتے ہیں اور دکھی انسانیت کی خدمت اورانسانیت کے احساس کو ہی اپنا مشن بنا لیتے ہیں یہ سب جاننے کے بعد ایک صحافی کا قلم خود بخود لکھنا شروع کر دیتا ہے سعید احمد ضیا سے ملاقات کے دوران میں نے ان سے اس بات کا ذکر نہیں کیا کہ میں ایک صحافی ہوں میں نے جو ضیا صاحب کے بارے میں جانا وہ قارہیں کی نظر کر رہا ہوں

سعید احمد ضیا نے بتایا کہ وہ سٹوڈنٹ لایف میں کینیڈا آئے متعدد جاب کیں ٹیکسی چلائی انہوں نے بتایا کہ وہ آج جس مقام پر ہیں یہاںتک پہنچنے کے لیے بہت مشکل وقت سے گزر کر آئے اس لیے جب بھی کوئی اپنا ہم وطن ان کے پاس آتا ہے تو وہ کوشش کرتے ہیں کہ اپنے منافع کے لالچ میں وہ کسی کو غلط گائیڈنہ کریں بلکہ جتنا ہو سکے ان کی مدد کرتے ہیں جس سے ان کو روحانی سکون ملتا ہے سعید احمد ضیا نے بتایا کہ اپنے کام کے علاوہ وہ کمیونٹی کی خدمت کے لیے بھی ہر وقت کوشاں رہتے ہیں انہوں نے بتایا کہ آج کل ہر طرف آئی ٹی کا دور ہے اس لیے کینیڈا میں مقیم اپنے پاکستانی نوجوانوں کے بہتر مستقبل کے لیے آئی ٹی کا ایک ادارہ بنایا ہے جس میں وہ اپنی نوجوان نسل کو صرف آئی ٹی کی ٹریننگ ہی نہیں دیتے بلکہ جاب کی تلاش میں بھی پوری مدد کرتے ہیںیہی نہیں ضیا صاحب کی شخصیت کا ایک دوسرا رخ بھی سامنے آیا کہ انہوں نے اتنی مصروف زندگی ہوتے ہوئے بھی ورلڈ ہیلتھ سیلف آرگنایزیشن کینیڈاکے نام سے ایک این جی او بنا رکھی ہے جسے وہ خود ہی 16سال سے چلا رہے ہیں انہوں نے بتایا کہ اس این جی او کے تحت انہوں نے کمیوننٹی اردو لینگویج سکول بنایا ،فیملی کونسل اور میگزین بھی نکالا انہوں نے اس این جی اہ کے تحت صرف کینیڈا میں ہی اپنی خدمات پیش نہیں کیں بلکہ پاکستان میں بھی جب بھی اپنے بھائیوں پر مشکل وقت آیا تو سعید احمد ضیا وہاں بھی پہنچ گئے انہوں نے گجرات رورل ایریا میں پینے کے پانی،میڈیکل سروسز اور ایمبولینس سروس فراہم کیں یہی نہیں مظفر آباد میں زلزلے کی تباہی میں اپنے اہل وطن کے دکھوں کا ساتھ دیتے ہوئے 50 لاکھ روپے کا چیک پیش کیا 2010 میں آنے والے سیلاب میں اپنے پاکستانی بھائیوں کی مدد کے لیے اس وقت کے گورنر سلیمان تاثیر کو ایک کڑور روپے کاسامان دیااس کے علاوہ پنجاب کے کئی پسیماندہ علاقوں میں پینے کے پانی اور میڈیکل کی سہولیات فراہم کیں میں سوچ رہا تھا کہ یہ سب کچھ ضیا صاحب اپنی مدد آپ کے تحت ہی کر رہے ہیں تو میرے ایک سوال کے جواب میں سعید احمد ضیا نے کہا کہ وہ چاہتے ہیںکہ کوئی بھی بھائی کینیڈا،پاکستان یا کسی بھی ملک سے اس این جی او میں ان کا ساتھ دینا چاہے تو انہیں بہت خوشی ہو گی کیونکہ ایک مثال ہے کہ ایک ایک اور دو گیارہ ہوتے ہیں سعید احمد ضیا سے ملاقات نے مجھے ان کی شخصیت سے بہت متاثر کیا اورمیں نے اپنے بچوں سے کہا کہ ابھی بھی ان جیسے لوگ ہمارے معاشرے میں موجود ہیں جو اپنی اتنی مصروف زندگی کے باوجود بھی دکھی انسانیت کی خدمت کو اپنا مشن سمجھتے ہیں ۔

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.