کالم و مضامین

فواد آیا صواد آیا

تحریر: محمد شہباز بٹ

جہلم کا حلقہ این اے67عرصہ دراز سے محرومیوں کا شکار تھا نہ دیہاتی سڑکیں بن رہی تھیں نہ ہی علاقہ بائی دیس اور پنڈدادنخان میں بجلی کے کم وولٹیج کی طرف توجہ دی جارہی تھی،تعلیمی اداروں اور بنیادی مراکز صحت میں ڈاکٹرز اور عملے کا فقدان تھا، پنڈدادنخان میں پاسپورٹ آفس نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو جہلم آنا پڑتا تھا لوگ پریشان تھے۔

جلالپورشریف نہر کا منصوبہ شروع نہ ہونے کی وجہ سے پانی کی شدید قلت ،پنڈدادنخان کی زمینیں بنجر ،زمینوں کے ریٹ انتہائی کم،کسان پریشان تھے،للِہ جہلم دورویہ سڑک کی منظوری نہ ہونے سے سفری سہولیات کا فقدان ،گاڑیاں تباہ ہو رہی تھیں، ایک گھنٹے کا سفر تین گھنٹوں میں طے کرنا مجبوری بن گیا تھا،،سابقہ منتخب نمائندے اسے حلقے کے باسی تھے لیکن نہ کام ہوئے نہ غازیوں اور شہیدوں کی سرزمین کا اسمبلی میں کبھی تذکرہ ہوا،یوں ڈنگ ٹپاؤ پالیسی کے تحت الیکشن میں وعدے اور لوگوں کو تسلیاں دی جاتی رہیں۔

پھر چوہدری فواد حسین نے اس حلقے سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا،اپنے دو بھائیوں چوہدری فیصل فرید اور چوہدری فراز حسین اور چند دوستوں کے ساتھ اس پسماندہ حلقے میں عملی سیاست کا آغاز کیا، ہارنے کے باوجود ہمت نہ ہارے اور پھر ان کی ٹیم میں آہستہ آہستہ اضافہ ہوتا گیا لوگ جوق در جوق انکے ساتھ شامل ہوتے گئے۔

پی ٹی آئی کا ٹکٹ ملا تو کچھ مخالفین نے انکو مجاورکہا کچھ نے بہروپیہ اور طرح طرح کے القابات سے نوازا لیکن فواد چوہدری اپنے مشن کی تکمیل کے لیے اپنے بھائیوں اور دوستوں کے ساتھ الیکشن مہم چلاتے رہے اگرچہ کہ وہ ضمنی الیکشن میں ہارے لیکن حقیقت میں انکی جیت ہوئی،گزشتہ عام الیکشن کی مہم شروع ہوئی تو انہوں نے اس حلقہ کی پسماندگی دور کرنے کے لیے جلالپورشریف تا کندووال نہر،للۂ جہلم دورویہ سڑک کی تعمیر ،صحت،تعلیم اور بجلی و پانی جیسے مسائل حل کروانے کا وعدہ کیا۔انہوں نے نعرہ لگایا ساڈا حق ایتھے رکھ اور وقت نے ثابت کیا وہ اپنے نعرے اور وعدے پر پورا اترے۔

آج حلقہ این اے 67کاکوئی ایسا علاقہ نہیں جہاں بجلی اور سڑکوں کا کام نہ ہو رہا ہو،،چوہدری فیصل فرید اگر تحصیل پنڈدادنخان کو دیکھ رہے ہیں تو فراز چوہدری علاقہ بائی دیس،نکہ،ناڑا،خورد چوٹالہ،دارا پور، کوٹلہ فقیر ،گھرمالہ اور مونن جیسی یونین کونسلز کو دیکھ رہے ہیں لوگوں کی غمی خوشی میں شریک ہو رہے ہیں۔

وفاقی وزیر فواد چوہدری وفاق میں مصروفیت کے باوجود حلقہ کی عوام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں جہاں وہ کشمیر،افغانستان اور دیگر ایشوز پر حکومتی ترجمانی کر رہے ہیں وہاں وہ غازیوں اور شہیدوں کی دھرتی کے باسیوں کا بھی ہر فورم پر اظہار کرتے ہیں آج انکی بدولت قلعہ نندنہ ،ٹلہ جوگیاں،قلعہ روہتاس جیسے تاریخی مقامات پر نہ صرف کام ہو رہا ہے بلکہ ان مقامات کا وزیر اعظم ،وفاقی و صوبائی وزراء،وزیر اعلی پنجاب نے دورہ کیا اور آج جہلم کا نام پوری دنیا میں اجاگر ہو رہا ہے اس سے سیاحت کو فروغ ملے گا،لوگوں کو روزگار ملے گا۔

جلالپور شریف نہر،للۂ جہلم روڈ کے ساتھ ساتھ نواحی علاقوں میں سڑکوں ،بجلی و پانی کے لیے اربوں کے منصوبے شروع ہیں ،پنڈدادنخان میں پاسپورٹ آفس بن چکا ہے،اسپتالوں اور تعلیمی اداروں میں عملے کی کمی پوری ہو چکی،عرصہ دراز سے بند ڈسپنسریاں کھل گئیں یہاں تک کہ ڈھڈی تھل میں فیلڈ اسپتال بھی قائم ہو گیا،یہ وفاقی وزیر فواد چوہدری اور انکے بھائیوں فیصل فرید اور فراز چوہدری کا اس دھرتی اپنے حلقے کے عوام سے محبت کا اظہار ہے۔

یہ ترقیاتی منصوبے شروع کروا کر ایک وزیراعظم اور وزیراعلی کو ایک نہیں تین بار اس پسماندہ تحصیل اور حلقے میں لاکر فواد چوہدری نے یہ ثابت کیا وہ مجاور نہیں اس دھرتی سے حقیقی معنوں میں محبت کرنے اور غیور عوام سے ہمدردی اور عقیدت و احترام کا جذبہ رکھتے ہیں اس حلقہ کی عوام کے لیے ایم این اے کو ڈھونڈنا انتہائی تکلیف دہ امر تھا فون بھی اٹینڈ نہیں ہوتے تھے لیکن فواد چوہدری وزیر ہونے کے باوجود نہ صرف فون اٹینڈ کرتے ہیں بلکہ انکی وزارت کے دروازے ہر خاص عام کے لیے کھلے ہیں۔

یہ ہی وجہ ہے کہ آج ان کے مخالفین بھی ان سے جنون کی حد تک عشق کرنے لگے ہیں انکی صلاحیتوں کے معترف ہو گئے ہیں اس کا عملی مظاہرہ للِہ انٹرچینج پر استقبال کے وقت دیکھنے میں آیا جہاں گاڑیوں کی لمبی قطاریں عوام کا سمندر تھا جلسہ گاہ تک آتے آتے گھنٹو ں لگے جلسہ گاہ بھی عوام سے بھرا ہوا تھا ہزاروں کا مجمعہ،جگہ جگہ گل پاشی،سخت گرمی میں تاریخی استقبال سے یہ بات عیاں ہو گئی کہ اگلے الیکشن میں بھی فواد چوہدری کی کامیابی یقینی ہے کیونکہ فضا ان نعروں سے گونج رہی تھی۔
 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button