جے یو آئی (ف) کے آزادی مارچ کو روکنے کیلئے درپر دہ حکومتی سطح پر کوششیں تیز کردی گئیں

رپورٹ: چوہدری عابد محمود

0

جے یو آئی (ف) کے آزادی مارچ کو روکنے کیلئے درپر دہ حکومتی سطح پر کوششیں تیز کردی گئیں ،دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی آزادی مارچ کو چیلنج کر دیا گیا ، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عدالت کو مولانا فضل الرحمن کے اس مارچ کو روکنا چائیے ؟۔

میری نظر میں مولانا فضل الرحمن کو اس کا حق حاصل ہے لیکن اس وقت تک جب تک اس سے دیگر لوگ متاثر نہ ہوں ، حکومت کے کچھ وزرااس وقت جے یو آئی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

فیاض الحسن چوہان ،شیخ رشید ،فیصل واوڈا ،علی امین گنڈا پور اور فواد چوہدری جیسی زبان استعمال کر رہے ہیں اس سے صورتحال مزید کشیدہ ہو جائے گی ،مولانا فضل الرحمن کی اس سے زیادہ کامیابی اور کیا ہوسکتی ہے کہ ہر دوسراوزیر ان کا ذکر کر رہا ہے۔

مولانا فضل الرحمن کا اقدام دیکھیں تو پہلے انہوں نے اے پی سی بلائی پھر رہبر کمیٹی بنائی لیکن آزادی مارچ کی تاریخ کا اعلان اپنے طور پر کر دیا۔مولانا فضل الرحمن چاہتے ہیں کہ اپوزیشن آنکھیں بند کرکے ان کے پیچھے چلے ،لیکن شاید ایسا نہیں ہو گا ،حکومت مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کیلئے تیار ہوتی تو عدالت نہیں جاتی۔

حکومت کے عدالت جانے کے فیصلے سے اس کی کمزوری اور خوفزدگی ظاہر ہورہی ہے ،عدالتوں میں پہلے بھی دھرنے جیسے معاملات زیر بحث آچکے ہیں،پی ٹی آئی کے دھرنے کے دوران معاملہ اسلام آباد ہائیکورٹ گیا تو عدالت کا فیصلہ تھا کہ آپ بغیر سوچے سمجھے لوگوں کو گرفتار نہیں کرسکتے۔

امن وامان کے معاملہ پر ضلعی مجسٹریٹ کے پاس اختیارات ہیں ،آپ مظاہرین سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ سٹرکیں بند نہیں کرسکتے لیکن انہیں دھرنا دینے سے نہیں روک سکتے ،فیض آباد دھرنا فیصلے میں واضح کیا گیا کہ آپ کو احتجاج کا حق حاصل ہے لیکن اس سے باقی لوگوں سے زندگی گزارنے کا حق متاثر نہیں ہوناچاہئے،عدالت کو مولانا فضل الرحمن کے دھرنے کو نہیں روکنا چاہئے ۔

مولانا فضل الرحمن احتجاج سے متعلق محتاط الفاظ کا استعمال کر رہے ہیں ،مولانا نے ابھی تک دھرنے یا لاک ڈاؤن کا لفظ استعمال نہیں کیا بلکہ آزادی مارچ کہہ رہے ہیں ،حکومت عدالت میں جائے بغیر احتجاج کیلئے جگہ مختص کرسکتی ہے۔

پی ٹی آئی مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ سے بہت گھبرائی ہوئی ہے تو مولانا مذہبی کارڈ والا بہت خطرناک گیم کھیل رہے ہیں ،اگر وہ مذہبی کارڈ استعمال کرتے ہیں تو ان کیخلاف قانونی کاروائی ہونی چاہئیے۔

حکومت کی جانب سے واضح طور پر یہ کہا جارہا ہے کہ مولانا صاحب اسلام آباد نہیں آئینگے کیونکہ جس جگہ ان کا ڈیرہ ڈالنے کا پروگرام ہے وہاں دفعہ 144نافذ ہے ۔جے یو آئی(ف) نے بھی اپنے طور پر حکمت عملی تیار کر رکھی ہے،مولانا فضل الرحمن کس شہر سے وفاقی دارلحکومت میں داخل ہونگے ،یہ بات ابھی تک خفیہ رکھی جارہی ہے۔

یہ آزادی مارچ ہوگا یادھرنا اس معاملے پر بھی کنفیوژن ہے۔صورتحال کشیدگی کی طرف جاتی دکھائی دے رہی ہے،ایسے میں حکومت اور اپوزیشن کو مل بیٹھ کر کوئی درمیانی راستہ نکالنا چاہیے تاکہ حکومت اپنی معیاد پوری کرے اور ملک میں جمہوریت کا تسلسل برقرار رہ سکے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.