جہلم

پرائیویٹ سکرلز کی انتظامیہ نے ایس او پیز کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے طالبعلموں کی زندگیوں کو داؤ پر لگا دیا

جہلم: گورنمنٹ کی طرف سے سرکاری وغیر سرکاری سکولز کھولنے کا اعلان ہوتے ہی پرائیویٹ سکولز کی انتظامیہ نے شکر کے کلمات ادا کرتے ہوئے سکولز تو کھول لئے ہیں لیکن ساتھ ساتھ انہوں نے کورونا وائرس سے بچاؤ کے لئے حکومتی ایس او پیز کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے ننھے منے طلباء و طالبات کی زندگیوں کو داؤ پر لگانا شروع کر رکھا ہے۔

پنجاب حکومت کی جانب سے 50 فیصد طلبہ کے ساتھ سرکاری و پروائیویٹ تعلیمی اداروں کو کھولنے کی اجازت دی گئی ، لیکن نجی سکولز مالکان نے طلباء و طالبات کے والدین سے اپنی فیسیں بٹورنے کے لئے پوری تعداد کے ساتھ پرائیویٹ تعلیمی ادارے کھول رکھے ہیں جہاں ننھے منے طلباء و طالبات میں کورونا وائرس پھیلنے کے خدشات پیدا ہو نا شروع ہو چکے ہیں۔

پرائیویٹ سکولز کی انتظامیہ نے یہیں پر بس نہیں کیا بلکہ قابل برداشت شدید ترین گرمی کی لہر میں یونیفارم کے نام پر بھی طلباء و طالبات کو حراساں کرنا شروع کررکھا ہے ، سکولز یونیفارم میں جرابیں ،بوٹ پہننا انتہائی لازمی قرار دے رکھا ہے۔

کسی مجبوری کے تحت بھی یونیفارم کے ساتھ جرابیں یا بوٹ نہ پہننے والے طلبا ء و طالبات سے بھاری یومیہ جرمانہ وصول کیا جا رہاہے جو کہ طلباء و طالبات کے ساتھ ساتھ غریب والدین کے ساتھ بھی سخت زیادتی ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button