جہلماہم خبریں

طلبہ یونینز پر پابندی جمہوریت کے منافی ہے، فواد چوہدری

وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے طلبہ یونینز کی بحالی کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
فواد چوہدری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے طلبہ یونینز کی بحالی کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ طلبہ یونینز پر پابندی جمہوریت کے منافی ہے۔
فواد چوہدی کا کہنا ہے کہ دنیا میں جہاں جہاں پروگریسو جمہوریت ہے وہاں طلبا یونینز ہیں، اگر طلبہ یونینز پر پابندی لگادیں گے تو سیاستدانوں کی نئی پود نہیں ملے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی سیاست صرف خاندانی سیاست تک محدود ہوجائے گی، طلبہ یونینز پر پابندی جمہوریت کے منافی اور مستقبل کی سیاست محدود کرنے کے مترادف ہے۔
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ طلبہ سیاست تشدد سے پاک بنانے کے لیے اقدامات کیے جاسکتے ہیں، لیکن طلبہ سیاست پر پابندی غیرجمہوری اقدام ہے۔

رواں ماہ لاہور میں منعقد فیض فیسٹول میں پنجاب یونیورسٹی کے نوجوانوں نے طلبہ یونینز کی بحالی کے لیے آواز اٹھانے کی ایک ویڈیو سوشل میں پر خوب مقبول ہوئی اور دو نوجوان عروج اورنگزیب اور علی حیدر کے جوش نے طلبہ یونین کی بحالی کو ایک تحریک میں تبدیل کر دیا ہے۔
اسی سلسلے میں پروگریسیو اسٹوڈنٹس کلیکٹیو، اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی اور ان کے ساتھ شامل دیگر طلبہ تنظیموں نے طلبہ یونین کی بحالی کے حق میں آج پاکستان کے مختلف شہروں میں ’طلبہ یکجہتی مارچ‘ کاانعقاد کیا ہے۔
مذکورہ تحریک کو جہاں سول سوسائٹی سے حمایت مل رہی ہے وہیں وفاقی وزیر برائے سائنس اور ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے طلبہ یونینز پر پابندی کو جمہوریت کے منافی قرار دیا ہے۔

35 سال سے طلبہ یونینز پر پابندی عائد

خیال رہے کہ پاکستان میں 35 سال سے طلبہ یونینز پر پابندی عائد ہے اور یہ 80 کی دہائی میں جنرل ضیائالحق کے دور میں لگائی گئی۔
سابق صدر پرویز مشرف کے دور اقتدار کے بعد 2008 میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنے پہلے خطاب میں طلبہ یونینز کی بحالی کا اعلان کیا لیکن اس پر کوئی عمل نہ کیا گیا۔
23 اگست 2017 کو سینیٹ نے متفقہ قرار داد پاس کی کہ یونینز کی بحالی کے لیے اقدامات کیے جائیں لیکن قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن کی اکثریت ہونے کے باعث اسے اسمبلی سے پاس نہیں کرواسکی تاہم 35 برس سے طلبہ تنظیمیں یونینز بحال کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button