کالم و مضامین

آپریشن پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی کا!

تحریر: پروفیسر فتخار محمود

آج کل پاکستان کی سیاسی فضا 11جماعتوں کے ملغوبے پر مشتمل پاکستان تحریک برائے بحالی جمہوریت (پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ )اور حکومتی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے درمیان انتہائی گرم دکھائی دیتی ہے ۔ اس موقع پر دونوں اطراف کا سیاسی یا نظریاتی آپریشن کر دیا جائے تا کہ عوام جو گزشتہ 70سال سے نعروں اور وعدوں کی گونج میں گم رہتے ہیں کو اس بات سے روشناس کرایا جا سکے کہ وہ کہاں ہے جبکہ یہ دونوں اطراف کے لیڈران کا اصل ہدف کیا ہے ؟ بات شروع کی جاتی ہے جمہوریت سے کہ بنیادی طور پر یہ ہوتی کیا ہے؟۔

سابق امریکی صدر ابراہم لنکن نے تو بہت عرصہ پہلے تعریف کر دی تھی کہ ایک ایسی حکومت کو جمہوری حکومت کا نام دیا جا سکتا ہے کہ جہاں لوگوں کی حکومت ، لوگوں کے لئے حکومت اور پھر لوگوں سے حکومت معرض وجود میں آئے اس طرز حکومت کو جمہوری حکومت کا نام دیا جائے گا ۔ اب یہ مخلوق ’’لوگ ‘‘کون سی مخلوق ہو سکتی ہے ذرا غور کرنا کہ معاشرے کا وہ اکثریتی حصہ جس کا ریاست کے علاوہ کوئی پرسان حال نہ ہو یعنی جس مخلوق کی ساری توقعات ریاست سے وابستہ ہوں انہیں عرف عام میں لوگ یا عوام نا م دیا جاسکتا ہے۔

جہاں تک پاکستان کے جمہوری ڈھانچے کا تعلق ہے تو یہاں تو قیام پاکستان کے آغاز سے عوام تو کہیں نظر نہیں آتے ہاں یہ ضرور ہے کہ عوام کوایک آلہ کہا جا سکتا ہے جسے اشرافیہ (حکمران طبقات ) ضرورت کے وقت اپنی ضرورت کے مطابق استعمال کرتے ہیں جذبات /احساسات کا استحصال کرتے ہیں اور پھر ایک مخصوص عرصہ کے لئے حکمرانی کرنے والے دور چلے جاتے ہیں جیسے اس مخلوق سے ان کو دور کا تعلق ہی نہ تھا یہ سلسلہ جاری و ساری ہے اور تاریخ گزر رہی ہے ۔

پاکستان میں تو ابراہم لنکن کی پیش کردہ تعریف کبھی پنپ ہی نہ سکی کیوں کہ یہاں تو معاشی تقسیم پھر طبقاتی تقسیم اور دولت کی ناہموار تقسیم اس طرح فروغ پاتی رہی کہ عوام کو اپنے مسائل و معاملات تک پہنچنے یا حل کرنے کا موقع ہی نہ مل سکا ۔ آج جمہوریت دنیا بھر میں کئی اقسام میں تقسیم ہو چکی ہے مثلاً صدارتی جمہوریت ، پارلیمانی جمہوریت یا پھر سرمایہ دارانہ جمہوریت ، عوامی جمہوریت(اشتراکی جمہوریت) وغیرہ۔ اس وقت پاکستان میں جو جمہوری نظا م رائج ہے اسے ہم جاگیردارانہ یا بورژا جمہوری نظا م کہہ سکتے ہیں ۔ اس وضاحت کے بعد بات اصل موضوع کی طر ف کہ اس وقت جو پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی کے درمیان اختلافات ہیں ان کی بنیاد کیا ہے وہ ہیں مفادات جن کے اوپر ہماری حکومتوں کی عمارت کھڑی ہو تی ہے ۔

یہ مفادات دو قسم کے ہیں ایک تو وہ حصص جو زندگی بھر حکومتی ایوانوں میں رہنے والے یا سرکاری رہائش گاہوں کے مزے لوٹنے والے مولانا فضل الرحمن جیسے رہنماؤں کو اس مرتبہ دستیاب نہ ہو سکے اور دوسری جانب وہ مفادات ہیں جن کا تعلق برائے راست مالیات سے جو اس سرمایہ داری اور جاگیرداری آزاد منڈی کی معیشت کے نتیجے میں تجوریوں میں بھرے دکھائی دیتے ہیں یا پھر غیر ملکی بینکوں میں منتقل ہو چکے ہیں ۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت شروع دن سے عوام کو ایک ہی سبز باغ دکھا رہی ہے کہ یہ لوٹی ہوئی رقوم واپس آئیں گی تو عوام کی جھولیاں مالا مال کر دی جائیں گی جبکہ اس میں حقیقت بہت کم دکھائی دیتی ہے کیونکہ کسی ملک کے ساتھ پاکستان کا کوئی ایسا معائدہ سرے سے موجود ہی نہیں ہے کہ کسی بھی پاکستانی کے ذاتی اکاؤنٹ سے کوئی پیسہ حکومت کے مطالبے پر واپس کیا جا سکتا ہے اسی طرح ایک انکشاف بھی وہ یہ کہ کسی ملزم یا مجرم کو بھی دوسرے ملک سے واپس لانے کا کوئی تحریری معائدہ موجود تک نہیں ہے جس کے تحت ہم کسی ملزم یا مجرم کو کسی دوسری حکومت سے گرفتار کر کے واپس لا سکیں ۔

ہمارے 20کروڑ سے زائد سادہ لوح اور سیاسی طور پر ناخواندہ عوام تک یہ معلومات پہنچانا کسی عظیم کارنامے سے کم ثابت نہیں ہو ں گے ۔بات پھر وہیں کہ پی ڈی ایم کی موجودہ تحریک بحالی جمہوریت کا اصل ہدف کیا ہے ؟ وہ ہے ’’ این آر او‘‘ جو انگریزی لفظ (National Reconciliation Ordinance) کا مخف ہے اور اردو میں ’’قومی فرمان مفاہمت‘‘ کے نا م سے جانا جاتا ہے، پاکستان میں اس کا اطلاق سابق صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف کے دور میں 05اکتوبر 2007ء سے کیا گیا ۔ اس قومی مفاہمتی فرمان کے تحت بد عنوانی میں ملوث کل 8041افراد مستفید ہوئے یعنی جو ناپاک تھے و پاک قرار دیے گئے ۔

واضح رہے ان میں 152ممبران قومی اسمبلی ، 34سینیٹر ز اور تین سفیر شامل تھے ۔ این آر او کی وضاحت کے بعد اب قارئین کو آسانی سے سمجھ آ جائے گی کہ آج بھی پی ڈی ایم یا پی ٹی آئی کی اصل جنگ کیا ہے ؟ انتخابات 2018ء سے قبل پی ٹی آئی نے دیگر اتحادی پارٹیوں کو صرف ایک سبز باغ دکھایا کہ کرپشن سے لوٹی ہوئی دولت کو واپس لیا جائے گا ۔

حکومت میں آنے کے بعد سابق پاکستان مسلم لیگ ن کے قائدین یا دیگر بہت سے سیاستدانوں کو پس زنداں ڈالا گیا اور احتساب کے نا م پر مقدمات چلائے گئے ۔ یہ بات مندرجہ بالا سطور میں واضح کر دی گئی ہے کہ پاکستان میں نافذ نظام معیشت میں جاگیر یا دولت جمع کرنے یا بر آمد کرنے کے لیے کوئی قانونی یا آئینی پابندی نہیں ہے مطلب یہ ہر کوئی ’’شتر بے موہار‘‘ ہے کہ وہ جس قدر چاہے دولت یا جاگیر کی ملکیت حاصل کرے ۔

آج پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی تین قائد جماعتیں پاکستان مسلم لیگ ن ، پاکستان پیپلز پارٹی یا جمعیت علمائے اسلام اور دیگر اتحادی جماعتیں صرف اور صرف اس تحریک کی آڑ میں قومی مفاہمتی فرمان کی طرف رواں دواں ہیں ۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف جو کوئی نیا میکن ازم تو پیش کرنے سے قاصر ہے بس عوا م کی آنکھوں میں اب دھول جھونک رہی ہے کہ انہیں این آر او ہر گز نہیں دے گی اب عوام بے چارے کدھر جائیں انہیں کیا معلوم کہ این آر او ملنے سے عوام کو کیا ملے گا ؟ یا صرف حکمران اشرافیہ ہی استفادہ کرے گی ۔

عوام کے حوالے سے بات کی جائے تو اس وقت حکومت یا حذب اختلاف کی تینوں قائد سیاسی جماعتوں کے منشور ات میںکوئی خاص اختلاف نہیں ہے وہ اس طرح کہ پاکستان پیپلز پارٹی جو 1971ء سے 1977ء تھوڑی سی عوامی رخ کی طرف رہی جس کی وجہ سے پاکستانی محنت کش عوام کو وہ ثمرات ملے جو آج تک بھولے نہیں جا سکتے۔

قائد عوام سابق وزیر اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو شہید کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو شہید بین الاقوامی حالات کے پیش نظر پارٹی کے بنیادی منشور سے ہٹنے پر اس قدر مجبور ہو گئیں اور منشور سے سوشلزم جیسے فقرے کو پیچھے کر کے سوشل ڈیموکریسی کی بات کی گئی اُس وقت کے عالمی سامراج کی مخالفت کے برعکس مفاہمت کی طرف راغب ہو گئیں اور ایشیا کی پہلی مسلم خاتون وزیر اعظم ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا۔

اسی بنا پر پاکستان پیپلز پارٹی جو نیشنلائزیشن (قومی /عوامی ملکیت ) پر مکمل یقین رکھتی تھی اچانک نج کاری ( پرائیویٹائزیشن)کی طرف مائل ہوگئیں اپنے پہلے اور دوسرے دور حکومت میں کئی بڑے قومی اداروں کو نجی شعبے کے حوالے کر دیا شاید اسی وجہ سے عوام میں سے اپنی پہلی سی اہمیت کھو بیٹھیں۔ جہاں تک پاکستان مسلم لیگ ن کا تعلق ہے تو شروع دن سے نج کاری پر مکمل تیقن رکھتی ہے کبھی بھی پاکستانی عوام کی برابر ترقی اور خوشحالی کی بات تک نہیں کی تھوڑا غور کیا جائے تو 1977ء جنرل محمدضیاء الحق کے مارشل لا کے نفاذسے اب تک سرکاری /قومی اداروں کو مسلم لیگ ن کے ادوار میں نقصان پہنچایا گیا اس کی مثال نہیں ملتی۔

اب بات ہوجائے تو پاکستان تحریک انصاف کی جس کے نام میں انصاف کا لفظ ہے جب کہ عمل میں ’’انصاف ‘‘کاتصور تک نہیں دکھائی دیا گیا جہاں تک پی ٹی آئی کی ڈھائی سالہ کارکر دگی کا تعلق ہے تو جیسے نظام پہلے سے چلا آرہا تھا وہ سب کچھ ہے پاکستان سٹیل ملز یا پاکستان ریلوے سے باروزگار افراد کو فالتو اور قومی سرمائے پر بوجھ قرار دیتے ہوئے ملازمت سے ہٹا دیا گیا یعنی ملکی بے روزگاروں کی فوج ظفر موج میں سرکاری طور پر اضافہ کیا گیا اس بات پر قطعً غور نہ کیا گیا کہ یہ لوگ اگر اداروں میں پیداوار یا خدمات سر انجام نہیں دے رہے تو آخر اس کی اصل وجہ کیا ہے ؟

نشانیاں ہوتی ہی غور فکر کرنے والوں کے لئے ہیں کیونکہ غور فکر سے نہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ پاکستان سٹیل ملز کو بہترین لوہا پیدا کرنے کے لئے اس طرح ٹھیکہ جات تک ہی نہ دیے گئے جو اس کا قومی حق تھا ماضی کا ریکارڈ موجود ہے کہ اس کارخانے میں 16000ملازمین کی گنجائش تھی یعنی سولہ ہزار خاندان زندگی بسر کر سکتے تھے نیز ایک مرتبہ سابق سوویت یونین کے قومی دن کے موقع پر اس وقت کیپاکستان میں روسی سفیر نے ایک تقریب میں یہ انکشاف کیا تھا کہ پاکستان سٹیل ملز کا صرف ایک حصہ تیار ہوا ہے جبکہ اگر مزید تین حصے بھی تیار ہو جائیں تو 80,000ملازمین کی گنجائش موجود ہے۔

اب اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں اگر پی ٹی سی ایل اے 50ہزار سے زائد ملازمین کو نام نہاد گولڈن ہینڈ شیک کے ذریعے ملازمت سے فارغ کیا گیا تو آج پاکستان تحریک انصاف بھی پاکستان سٹیل ملز ، پی آئی اے اور پاکستان ریلوے سے 30سے 35ہزارتک ملازمین کو فارغ کرنے تیار بیٹھی ہے ۔

پاکستان ریلوے کے متعلق تو نئے وفاقی وزیر ریلوے اعظم سواتی یہ کہہ چکے ہیں کہ ’’ ہم ساری ریلوے نہیں چلا سکتے ‘‘ مطلب بالکل واضح ہے کہ حکومت سے ریلوے کی افسر شاہی زیادہ منہ زور ہے اور دوسرا مسئلہ حکمران اشرافیہ یا ان کے اعزا کی پرائیویٹ ٹرانسپورٹ کو نوازنے کی وجہ سے ساری ریلوے نہیں چل سکتی ، یہاںدعوے سے یہ بات کی جاسکتی ہے کہ اگر افسر شاہی کو تھوڑا قابوکرکے تمام بند ریلوے لائینیں بحال کر دی جائیں اور صرف 50فیصد تک ریلوے باقاعدہ چلا ئی جائے تو موجودہ ملازمین سے کہیں زیادہ ملازمین کی گنجائش بن سکتی ہے۔

نیز مسافروں کو کئی روٹوں کے لئے آرام دہ سفر فراہم ہو سکتا ہے ۔سی پیک کے حوالے جو ریلوے لائن ڈبل ہونے منصوبے ہیں ان پر عمل درآمد شروع ہوجائے تو نتیجہ سامنے ہے ۔ پاکستان سٹیل ملز کی نج کاری کی بجائے اور ملازمین کو فارغ کرنے کی بجائے قومی سطح پر لوہا پیدا کرنے کے ٹھیکہ جات ترجیح بنیادوں پر دینے شروع کر دیے جائیں تو نتیجہ واضح ہو سکتا ہے ۔

مثال دی جا سکتی ہے ایک قومی دفاعی پیداوار کے اسلحہ ساز صنعتی ادارے کی جہاں سے دنیا کے کئی ممالک اسلحہ کے خریدار ہیں تو وہاں کارکن کیوں کر بے کار یا فالتو ہوں گے اس طرح سٹیل ملز میں بھی لوہے کی پیداوار کے ملکی اور غیر ملکی آرڈر لئے جائیں تو پھر یہ سوال کیوں کر کیا جا سکتا ہے کہ یہ کار کن کہاں کام کر رہے تھے؟پاکستان میں گزشتہ ستر سالوں سے یہ حکمران اشرافیہ کا یہ کھیل جاری ہے کہ عوامی سطح کے اداروں کا ہر طرح سے ناکام ظاہر کر کے نجی شعبہ کو فروغ دینا ہے اس طرح پی ڈی ایم ہو یا تحریک انصاف دونوں طرف کوئی بڑا فرق عوام کے لئے موجود ہی نہیں ہے ۔

موبائل نمبر:۔ 03065430285
ای میل:۔[email protected]

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button